جھنجھوڑنے کیلئے اک سانحہ ضروری ہے؟

19

ملکہ کوہسار مری میں برف باری کے دوران گاڑیوں میں پھنس کر انتقال کر جانے والوں کی تعداد 23 ہو گئی۔اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، پنڈی، مردان اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کو طوفانی برف باری میں موت نے آغوش میں لے لیا۔سانحے پر پورا ملک سوگوار ہے اور کئی المناک کہانیوں کی تفصیلات قیامت ڈھاگئی۔جس کے بعد مری کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا اور تمام داخلی راستے بند کردیئے گئے۔ برفباری میں پھنسے افراد کی آوازیں انتظامیہ تک ضرور پہنچیں لیکن انتظامیہ متاثرہ افراد تک نہیں پہنچی، لوگ 20 گھنٹے تک آسمان سے گرتی برف میں پھنسے رہے ،گاڑیاں دھنس گئیں۔گاڑیوں میں پناہ لیے بے بس افراد کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ گاڑی بند کرکے حکومتی امداد کا انتظار کریں، اسی انتظار میں انتظامیہ تو نہ پہنچی لیکن موت آن پہنچی،لوگ اپنی گاڑیوں میں دم توڑ گئے۔ایک گاڑی میں خاندان کے 8 افراد مردہ پائے گئے۔جبکہ ایک گاڑی میں 4 دوستوں کو موت نے ایک ساتھ آ دبوچا۔ان4 دوستوں نے برف پر سیلفی بھی لی تھی جو کہ ان کی زندگی کی آخری سیلفی ثابت ہوئی۔انتظامیہ ریسکیو کیلئے برف باری رکنے کا انتظار کرتی رہی لیکن موت نے انتظار نہیں کیا۔واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ لوگ انتظامیہ کی غفلت پر شدید غم و غصے کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔
اموات کو مری کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ بتایا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے 5 جنوری کو الرٹ جاری کیا تھا کہ شدید برف باری کے باعث مری، گلیات، نتھیاگلی، کاغان، ناران اور دیگر علاقوں میں 6 جنوری سے 9 جنوری کی سہ پہر تک سڑکیں بند ہوسکتی ہیں۔مری میں ایک لاکھ57 ہزارسے زائد گاڑیاں داخل ہوئیں۔تاہم اس کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد کے مری پہنچنے اور انتظامیہ کے انہیں اینٹری پوائنٹس پر نہ روکنا مجرمانہ غفلت کے سوا کچھ نہ ہے۔ حیرت ہے کہ اتنا خوفناک واقعہ ہوااورحکومت اپنی تنظیمی اجلاس میں مصروف تھی۔
مری میں ایک ہزار ہوٹل اور گیسٹ ہائوسز موجود ہیں، مری کی آبادی کے تناسب سے وہاں پر ہسپتال نہیں۔صرف نتھیا گلی میں ایک بڑا ہسپتال موجود ہے، جو آبادی اور سیاحوں کی ضرورت پورا نہیں کر سکتا۔ موسم سرما میں بجلی‘گیس اور پانی کے مسائل ہر برس سامنے آتے ہیں مگر کسی بھی حکومت نے آج تک ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔حالانکہ اس مری سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے وزیر اعظم بھی رہے ہیں۔مگر انہوں نے بھی مری کو ایک ماڈل شہر بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ جبکہ 32 ہزار گاڑیاں پارک کرنے کی گنجائش ہے، ایک لاکھ62 ہزار سے زائد گاڑیاں مری میں داخل ہوئی، پارکنگ کی گنجائش ختم ہونے کے بعد سیاحوں نے گاڑیاں سڑک کنارے کھڑی کر دیں۔اگر حکومت ضرورت سے زائد گاڑیوں کو پنڈی میں ہی روک لیتی تو پھر بھی اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔ بہرحال یہ سانحہ حکومتی اور انتظامی لاپرواہی کے باعث سامنے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مری میں گورنر ہاؤس کو کیوں نہیں کھولا گیا؟ مری کی برف میں پھنسے سیاحوں کی رہائش کیلئے بروقت سرکاری عمارات اور دفاتر کو کیوں نہیں کھولا گیا؟ مری میں سیاحوں کو تعداد آنے سے روکنے میں کس کس ادارے نے غفلت کا مظاہرہ کیا۔سڑکوں پر پولیس اور وارڈن سمیت لوکل انتظامیہ کیوں غائب ہوئی؟برف میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کے لئے صرف چین فراہم کرنے کا تین سے چار ہزار وصول کرنے والا مافیا کس کے حکم پر یہ دھندہ کر رہا تھا۔پٹرول اور اشیاء ضروریہ کی کمی کا ذمہ دار کون ہے؟ انکوائری رپورٹ فی الفور منظر عام آنی چاہیے تاکہ غفلت کے مرتکب افراد کو سزا دی جا سکے۔ سانحہ پرناصرف حکومتی بے حسی عروج پر رہی بلکہ روایتی سیاست دانوں کی جانب سے عملی مدد کی بجائے شرمناک سیاست بھی جاری ہے۔ حکومت پرتنقید کرنے والے اکثر سیاستدانوں کی مری میں چھٹیاں منانے کیلئے اپنی رہائشگاہیں موجود ہیں، اْنہیں اپنے دروازے عوام کے لیے کھولنے چاہیے تھے اور اْنہیں کھانا اور پناہ فراہم کرنی چاہیے تھی۔حکومت کی نااہلی کو مان بھی لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کا ایک بھی لیڈر اپنے کارکنوں کے ساتھ امدادی کارروائیوں کے لئے موقع پر کیوں نہیں گیا؟ کتنے بے رحم ہیں جو صرف لاشوں پر سیاست کرنا جانتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اس قدر شدید موسم میں سیاحتی مقام کا سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے، اورجہاں انتظامیہ کی تیاری ناکافی تھی وہیں عوام کو بھی احتیاط کی ضرورت ہے جنہوں نے الرٹ اور وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔لوگوں کو مکمل معلومات، موسم کی پیش گوئی، ہوٹل بکنگ، سڑک کے حالات، کھانے پینے کے انتظامات، مناسب لباس اورطبی بندو بست اورسخت موسم بارے احتیاط لازم ہے۔ہمارے بڑے سیاحتی مقام کا انفراسٹرکچر برفباری کوسنبھالنے میں ناکام ہے۔محکمہ موسمیات کو نئے آلات اور انتظامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو شدید برفباری کی صورت میں ایسے ہی عوامی نقل و حرکت کو روکنا چاہیے جیسے سمندر کنارے طوفانی موسم میں جانے سے روکا جاتا ہے۔اس موقع پر یقیناً میڈیا بھی عوام کو شعور دینے میں ناکام رہا ہے۔اور میڈیا سانحہ کی کوریج میں سب سے زیادہ بیانات کو کوریج کیوں دے رہا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جب موسم خراب ہوا تو ہوٹل والوں نے کرائے بہت زیادہ بڑھا دیے، ایک کمرے کا کرایہ 50 ہزار تک مانگا جارہا تھا۔جس وجہ سے زیادہ تر لوگوں نے گاڑی میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔یوں حکومتی بے حسی، انتظامی لاپروائی اور ہوٹل والوں کی کاروبار کو ترجیح انسانیت کو لے ڈوبی۔ سوال یہ ہے کہ کتنے لوگوں کو مرنا ہوگا تاکہ حکمرانوں کو جھنجوڑا جاسکے؟
وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سیاحت پر توجہ مرکوز رکھی۔سیاحت کو فروغ دینے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سیاحت ہمارا بڑا اثاثہ بن سکتی ہے۔سوات، مری، گلگت، بلتستان، اور ناران کاغان سمیت ہمارے پاس کئی ایسے مقامات ہیں جن کا سوئٹزر لینڈ بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہم ان علاقوں میں سیاحت کو فروغ دے کر 30سے 40ارب ڈالر سالانہ کما سکتے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر لوگ سوئٹزرلینڈ سمیت دیگر ممالک میں سیاحت کے لئے کیوں بھاگتے چلے جاتے ہیں۔درحقیقت اگر ان ممالک کی حکومتیں سیاحت سے اربوں ڈالر کماتی ہیں تو انہوں نے سڑکوں کی تعمیر سے لے کر پارکنگ اور ہوٹلوں تک وہاں جال بچھا رکھا ہے‘اگر ان ملکوں میں 2لاکھ سیاح بھی اکٹھے داخل ہو جائیں تو وہ انہیں سنبھال لیتے ہیں۔
سیاحت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ حکومت کم از کم سیاحتی شہروں کو ماڈل سٹی بناکرکوئی ماسٹر پلان ترتیب دیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پریشانی سے بچا جا سکے۔جس میں حفاظت، تحفظ، خدمات، بنیادی ڈھانچہ، آفات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی اور بہت کچھ شامل ہے۔

تبصرے بند ہیں.