یادوں کے جھروکے سے (۲)

18

استاد محترم محمد حسن بودلہ گو ضعیف ہو چکے، عمر کے پچاسیویں سال قدم رکھ چکے مگر حافظہ اب بھی قوی ہے۔ ’’شہاب نامہ‘‘ کے بڑے مداح اور اس کے خالق قدرت اللہ شہاب کے لیے توصیف کے جذبات رکھتے ہیں۔ ان کے گرد ہم دوست اور ان کے شاگر حلقہ زن تھے کہ انھوں نے دو واقعات سنائے جو ’’شہاب نامہ‘‘ میں مرقوم ہیں ۔ ایک واقعہ تو ایک سکول ٹیچر کا تھا اور دوسرا خود شہاب کی دردمندی ، جرأت ، فرض شناسی اور برعظیم کے مسلمانوں سے گہری محبت کا ۔ یہاں صرف ایک واقعہ روایت کیا جاتا ہے ۔ کہنے لگے کہ جس زمانے میں شہاب جھنگ میں ڈپٹی کمشنر تھے ، ایک سادہ سا پرائمری سکول ٹیچر رحمت الہٰی ان سے ملنے آیا جو چند ماہ تک ریٹائر ہونے والا تھا ۔ تین جوان بیٹیاں تھیں، رہنے کے لیے اپنا گھر بھی نہیں تھا۔ سخت پریشان حال تھا۔ چند ماہ کی مسلسل تہجد گزاری اور اشک افشانی کے بعد اسے جھنگ کے ڈپٹی کمشنر (شہاب) سے ملاقات کا اشارہ ملا تھا۔ شہاب نے اس کی ساری بپتا سن کر تین ہفتے بعد دوبارہ آنے کو کہا ۔ اس دوران انھوں نے اس کے بیان کردہ حالات کا خفیہ طور پر کھوج لگایا تو معلوم ہوا کہ وہ نہایت سچا اور پابند صوم و صلوٰۃ شخص ہے اور بہت مفلس بھی۔ لہٰذا اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے شہاب صاحب نے اسے آٹھ مربع زمین کا سرکاری قطعہ الاٹ کر دیا، ایسا سرکاری قطعۂ زمین جسے محنت اور مشقت سے قابلِ کاشت بنایا جا سکتا تھا۔ سکول ٹیچر تشکر کے جذبات کا اظہار کر کے رخصت ہوا۔ تقریباً نو برس بعد جب شہاب صاحب صدر ایوب خان کے ساتھ وابستہ تھے اور کراچی میں مقیم ، انھیں ایوان صدر میں ایک رجسٹرڈ خط موصول ہوا۔ یہ ماسٹر رحمت الٰہی کی جانب سے تھا۔ لکھا تھا کہ الاٹ کردہ زمین پر محنت کر کے اس نے تینوں بیٹیوں کی شادی کر دی ہے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم ہیں ۔ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ حج کا فریضہ بھی ادا کر لیا ہے اور اپنے گزارے کے لیے تھوڑی سی ذاتی زمین خریدنے کے علاوہ ایک کچا سا کوٹھا بھی تعمیر کر لیا ہے۔ ایسی خوشحالی کے بعد اب اسے آٹھ مربع قطعۂ زمین کی ضرورت نہیں رہی لہٰذا الاٹمنٹ کے تمام کاغذات اس خط کے ہمراہ واپس کیے جاتے ہیں تاکہ کسی اور مستحق اور مفلوک الحال کی حاجت روائی کی جا سکے۔ شہاب اس خط کو پڑھ کر سکتے کے عالم میں تھے ۔ ایوب خان نے شہاب صاحب کو اس کیفیت میں دیکھ کر استفسار کیا تو وہ بھی رحمت الہٰی کا واقعہ سن کر بڑے حیران ہوئے۔ اور پھر بولے تم نے بڑی نیکی کی۔ میں نواب صاحب کو لاہور ٹیلی فون کر دیتا ہوں کہ یہ اراضی تمھارے نام کر دیں۔ شہاب نے بڑی لجاجت مگر جرأت سے اس عنایتِ خسروانہ کو قابل توجہ نہ سمجھا اور معذرت کرتے ہوئے کہا : مجھے اس زمین سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اخیر میں فقط دو گز زمین ہی کام آتی ہے اور وہ کہیں نہ کہیں ، کسی نہ کسی طرح مل ہی جاتی ہے! یہ واقعہ سناتے ہوئے بودلہ صاحب نے بڑے تأسف کے ساتھ کہا ، ایک وہ زمانہ تھا اور ایک یہ زمانہ ہے کہ استاد بھی دنیا طلبی اور زر اندوزی کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ 
بودلہ صاحب سے رخصت ہونے کا مرحلہ آیا تو ہمارے نہ نہ کرنے کے باوجود ہمت کر کے اٹھے ۔ ہم نے برآمدے ہی سے رخصت ہونا چاہا مگر وضعداری کا یہ عالم تھا کہ عصا کا سہارا لیے مکان کی آخری حد تک آہستہ آہستہ چلتے چلتے وہاں تک پہنچے جہاں ہماری گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ جب تک ہم نے حرکت نہیں کی نقاہت کے باوجود متصل کھڑے رہے۔ بڑے حوصلہ مند ہیں۔ دو نوجوان بیٹوں کی موت کا داغ سینے پہ لیے ہیں اور جیے جاتے ہیں: پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ! خدا انھیں دیر تک آسودہ رکھے۔ 
ہمارے سفر کا ایک پڑاؤ اعجاز صاحب کا چھوٹا سا گاؤں ڈولہ پختہ بھی تھا جسے دیکھنے کا اشتیاق ایک عرصے سے تھا۔ دیپالپور سے حویلی جانے والی سڑک سے ہوتے ہوئے دائیں طرف ہٹ کر یہ دلکش قریہ آباد ہے، خاموش اور خوبصورت ، ہمارے روایتی دیہاتوں سے یکسر منفرد ایک صاف ستھرا گاؤں جس کے مکان پختہ اور پرکشش اور گلیاں پکّی ہیں۔ یہاں اعجاز صاحب اور ان کے چند عزیزوں کے شاندار وسیع مکان ہیں اور ان کے ساتھ مزارعین کے بھی صاف ستھرے گھر ، اس گاؤں کا خاص امتیاز ہیں۔ اعجاز صاحب ہمارے ان ہم جماعتوں میں سے ایک ہیں جن کے ساتھ پہلی جماعت سے دسویں تک مسلسل ساتھ رہا اورآج تک دوستی سلیقے سے نبھ رہی ہے۔ دیپالپور کی ایک مرکزی جگہ پر ان کا ایگرو کمپلکس ہے جو بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ ڈولہ پختہ میں زمینیں ہیں جن پر کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ اعجاز صاحب بتانے لگے کہ ہمارا علاقہ آلو اگانے میں سب سے آگے ہے اور پنجاب کا اڑتالیس فیصد آلو اسی علاقے میں پیدا ہوتا ہے ۔ اگلے دن ہم نے بہ چشم خود دیکھا کہ ڈولہ پختہ اور اس کے گرد و نواح میں حدِ نگاہ تک آلو کے سرسبزو شاداب کھیت پھیلے ہیں جو آنکھوں کو ٹھنڈک اور طراوت عطا کرتے ہیں۔ قصور سے بصیر پور بلکہ اس برانچ لائن کے قریب واقع دیگر آبادیوں اور دیہاتوں میں بھی آلو کی فصل خوب بارآور ہوتی ہے۔ 
لاہور سے چلتے وقت میں نے اعجاز صاحب سے درخواست کی تھی کہ مجھے ڈیلمین گنج ضرور دکھائیے ۔ میرے والد سکول ٹیچر تھے، بڑے منفرد ، خود دار اور اپنی رائے رکھنے والے ۔ چونکہ صاحب نظر تھے اس لیے اختلاف رائے کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات اوپر والے انھیں بصیرپور سے دور دراز کسی قصبے قریے یا کوردہ میں ٹرانسفر کرا دیتے تھے اور وہ ہنسی خوشی اس طرح کے آز اراور آزمائشیں برداشت کر لیتے تھے۔ میں والد صاحب سے اس قدر وابستہ تھا کہ ان کے بغیر بصیر پور کے سکول میں میرا جی نہ لگتا تھا۔ والد نے اس کا علاج یہ نکالا کہ مجھے اپنے ساتھ ڈیلمین گنج لے جاتے جہاں انھیں ٹرانسفر کرا دیا گیا تھا۔ ڈیلمین گنج غالباً اس زمانے میں مڈل سکول تھا۔ کسی ڈیلمین نامی انگریز کے نام پر اسے آباد کیا گیا تھا۔ یہ گاؤں دراصل ایک سٹڈفارم کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور یہاں جنگی مقاصد کے لیے گھوڑوں کی پرورش اور پرداخت کی جاتی تھی جنھیں روایت ہے کہ یہاں سے پشاور بھیجا جاتا تھا۔ میں نے اپنے بچپن کے چند مہینے وقفوں وقفوں سے اپنے والد کے ہمراہ اسی قریے میں گزارے تھے ۔ اس زمانے کا ڈیلمین گنج ایک خوبصورت اور ہریالی اور شادابی سے بھرپور قریہ تھا۔ دیپالپور سے پاکپتن جانے والی سڑک پر آباد یہ قریہ اب خاصا آباد ہو چکا ہے۔ میرے زمانے کا سکول اب ہائی سکول بن چکا ہے۔ اس کی بڑی عمدہ تزئین و آرائش ہو چکی ہے مگر عمارت وہی دیر پا اور پرانی ہے۔ ہاں درخت کم ہو گئے اور سبزے کو بڑھتی ہوئی آبادی ہڑپ کیے جا رہی ہے ۔ سکول میں چھٹی تھی مگر ایک استادمحترم اور ان کے معاون نے ہماری آمد پر بڑی خوشی کا اظہار کیا اور ہمارے لیے چائے کا اہتمام کیا۔ میں نے بارہا محسوس کیا ہے کہ آبادیوں سے اٹے ہوئے بڑے شہروں کے مقابلے میں چھوٹے چھوٹے قصبوں اور قریوں میں اب بھی محبت اور خلوص کے میٹھے چشمے بہتے ہیں۔ میرے بچپن میں سکول میں ایک بڑا کنواں ہوتا تھا جو اب وقت کی گرد میں گم ہو کر نابود ہو چکا مگر پیپل کا وہ درخت اب بھی موجود ہے جو چونسٹھ برس پہلے بھی وہاں لہلہاتا تھا اور اس زمانے کے رنگ برنگ پرندوں کی پناہ گاہ تھا۔ اس سفر میں میں نے بڑی شدت سے محسوس کیا کہ دیہاتوں ، قصبوں میں درخت بہت کم رہ گئے ہیں لہٰذا پرندوں کی بھی کئی نسلیں ناپید ہو گئیں ۔ رہی سہی کسر کیڑے مار دواؤں نے نکال دی ۔ کیا حضرتِ انسان جنگلی نیز آبی حیات کو اسی بے دردی ، بے حسی اور خود غرضی سے برباد کرتا رہے گا؟ اصطلاح میں ماحول کی اس برباد ی کو ’’ماحولیات کے قتل‘‘ یعنی ’’Ecocide‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ماحول کا یہ قتلام آپ کو اس ملک میں جگہ جگہ نظر آئے گا اور اس ملک ہی میں کیا ، بحیثیت مجموعی اس پوری دنیا میں مشین قدرتی ماحول کو تیزی سے منہا کرتی جا رہی ہے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب روبوٹ گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسانوں کی جگہ لے لیں گے۔ ہر شے ورچوئل ہو جائے گی! فضائی آلودگی ، صوتی آلودگی ، آبی آلودگی اور سب سے بڑھ کر روحانی آلودگی نے اکیسویں صدی کے انسان کو ایک قیامت خیز صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ بے لگام صنعتی پھیلاؤ اور ہلاکت خیز حربی آلات نے خود اس دھرتی کے وجود پر ایک بڑا سوالیہ نشان قائم کر دیا ہے۔ کیا ہم نے کبھی اس امر پر غور کیا ہے کہ کہیں کورونا کی موجودہ بظاہر نہ ٹلنے والی وبا اور اس کی متغیر شکلوں کا ظہور ہزاروں برس سے قائم اس قدرتی ماحول کے تیزی سے تباہ و برباد ہونے کا نتیجہ تو نہیں؟ 
اعجاز صاحب کے ساتھ متصل پر لطف سفر اب اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا ۔ ان کی محبت بھری دعوت پر بصیرپور سے کئی احباب دیپالپور جمع ہو گئے تھے۔ یہیں النور میں دوپہر کا پرتکلف کھانا ہوا جہاں حاجی اقبال ، محمد حسین، میاں بشارت اور اپنے دوست سخاوت کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر بشارت مجھ سے مکرر مل رہے تھے۔ کھانے کے بعد احباب نے بڑی چاہت سے رخصت کیا اور عبداللہ اور میں نے شیخ فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے مزار اقدس کی زیارت کا قصد کیا اور پاکپتن کی راہ لی، وہی پاکپتن جس کا سابقہ نام ’’اجودھن‘‘ تھا۔ روایت ہے کہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کو شیخ گنج شکرؒ سے بڑی عقیدت تھی۔ اسی نے اجودھن کا نام پاکپتن رکھا اور اس نام نے ایسا سِکّہ جمایا کہ لوگ اجودھن کو بھول گئے۔ شام کا دھندلکا پھیل رہا تھا جب ہم پاکپتن پہنچے۔ یہیں ایک مقامی ہوٹل میں شب بسری کی اور نمازِ فجر اس مرکز انوار میں نواسے کے ہمراہ اد اکی جس سے توحید و تصوف کی کرنیں پورے برعظیم میں پھیلیں اور ہزاروں مشرک دولتِ اسلام سے مشرف ہوئے۔ یہ پاکپتن میں میری تیسری بار آمد تھی ۔ ایک دفعہ بچپن میں، ایک دفعہ جوانی میں اور اب ایک طویل عرصے کے بعد۔ 
حضرت بابا فریدؒ نے اپنی طویل ترانوے سالہ زندگی میں بڑے بڑے مراکز تصوف سے فیض حاصل کیا۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے مرید ہوئے ۔ پھر علوم ظاہری اور باطنی کی تحصیل کے لیے قندھار، غزنین، بخارا، بدخشاں، سیستان، بغداد تک گئے۔ شیخ شہاب الدین سہروردی سے فیض اندوز ہوئے۔ جب حضرت بختیار کاکی کے مرید ہوئے تو معین الدین چشتی ؒ نے وہ ناقابل فراموش جملہ ارشاد فرمایا جو کتبِ تصوف میں محفوظ ہے: قطب الدین نے ایک ایسا عظیم شاہباز اپنے جال میں پھانس لیا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کی سی بلندی پر آشیانہ بناتا ہے اور پھر یہ بھی دیکھیے کہ خود ان کے مریدوں میں کس کس پایے کے شہباز تھے جن میں ایک بڑا نام حضرت نظام الدین اولیاؒ کا ہے ۔ حضرت بابا کا مزار ایک بلند کرسی پر بنایا گیا ہے۔ سادہ مگر قاسمِ تجلیات! قریب ہی ان کے پوتے علاؤ الدین موج دریا کا پرشکوہ مزار ہے جس کے اندرمنبّت کاری کے بے مثل نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ عبداللہ نے کتنے ہی منقش کتبوں اور تحریروں کو کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ ایک شعر حضرت احمد جام کا بھی کہ مزار کی بیرونی دیوار پر ہے، کیمرہ بند کر لیا: احمد اتا گم نہ کردی ہوش را / ایں جرس از کاروانِ دیگر است۔ چونکہ ابھی سفر کے کئی پڑاؤ باقی تھے سو بادِل ناخواستہ اگلے دن پاکپتن کو الوداع کیا اور اگلی منزل کی طرف قدم زن ہوئے۔ 

تبصرے بند ہیں.