منزل کی طرف جانے والے راستے دھندلا گئے ؟

25

اے کاش! وزیراعظم عمران خان نے کچھ سخت فیصلے عوام کے مفاد میں کیے ہوتے تو ہم بھی کہتے کہ واہ خان صاحب آپ نے دل خوش کر دیا مگر افسوس کہ وہ اب تک ایسا کچھ کرنے میں ناکام رہے ہیں لہٰذا ہمیں ان کے اقتدار میں رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ہماری شدید خواہش ہے کہ اب وہ گھر جا کر آرام کریں کیونکہ ان کی پالیسیاں وطن عزیز کو بہت پیچھے لے جا چکی ہیں۔ حیرت مگر یہ ہے کہ ذمہ داران یہ سب ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں یعنی ہماری حزب اختلاف وہ کردار ادا نہیں کر رہی جو اس کا فرض ہوتا ہے وہ اقتدار کے حصول کے لیے قلا بازیاں کھا رہی ہیں مگر عوامی مفاد کے لیے متحرک نہیں ہو رہی ایک آدھ بیان دے کر سمجھ رہی ہے کہ اس نے اپنا فرض پورا کر دیا جبکہ اگر وہ واقعی مخلص ہوتی تو اب تک سڑکوں پر ایک احتجاج کرنے والوں کا ہجوم ہوتا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک لوگوں کو کوئی بڑا ریلیف نہ مل جاتا آنکھیں ایسے منظر کو دیکھنے کے لیے ترس گئیں لہٰذا حکومت کے دل میں جو آتا ہے وہ کیے جا رہی ہے اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ نتیجتاً عام آدمی تڑپ اٹھا ہے اس کی جمع پونجی بھی ختم ہو چکی ہے۔
شنید ہے کہ جانے والے پھر آرہے ہیں کہ ان کے بغیر گلشن کا کاروبار نہیں چل پا رہا مگر تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ صورت حال میں کوئی بھی معیشت کی ڈوبتی ناؤ کو نہیں بچا سکتا کیونکہ جب تک ہم اس نظام کو تبدیل نہیں کرتے کتنے ہی بل لے آئیں کتنے ہی منصوبے بنا لیں اور کتنی ہی آئی ایم ایف کی شرائط مان لیں یہ چمن یونہی رہے گا۔ بھوک، ننگ، نا انصافی، ظلم، زیادتی اور سینہ زوری کا خاتمہ نہیں ہو گا بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں اضافہ ہو گا مگر کون ہے جو اس بارے سوچے کسی کو غریبوں، مسکینوں، بے بسوں اور مظلوموں سے کوئی ہمدردی ہی نہیں ہر بڑا موج کر رہا ہے ملک کے اندر بھی اور باہر بھی اسے ہر آسائش میسر ہے ان کے بچوں کو مغرب اور یورپ کا ماحول حاصل ہے لہٰذا وہ کیوں کسی کمزور و نحیف کے لیے سنجیدہ ہو گا۔
دراصل شروع دن سے ہی ہماری اشرافیہ نے یہ طے کر لیا تھا کہ اس نے خود کو مضبوط بنانا ہے اور عوام کو کمزور رکھنا ہے تا کہ وہ ان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچا سکیں لہٰذا اس نے عوامی بہتری کے لیے نہیں سوچا پھر عالمی مالیاتی اداروں نے بھی یہاں خوشحالی منصوبہ بندی نہیں ہونے دی ہاں مگر تھوڑی بہت بہتری طالع آزماؤں کے ادوار میں ہوئی جس کا مقصد سیاسی شعور کے آگے دیوار کھڑی کرنا تھا لہٰذا آمرانہ طرز حکومت کی واہ واہ کرائی گئی اور منتخب حکومتوں کو تعمیر و ترقی کے عمل سے تھوڑا دور رکھا گیا یوں ہمارے حالات نہیں بدل سکے۔ پھر باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت بدعنوانی کی حوصلہ افزائی کی گئی چپڑاسی سے لے کر سیکرٹری تک اور کونسلر سے لے کر وزیراعظم تک سبھی نے اپنی خواہشوں کی تکمیل چاہی لہٰذا اب خزانہ خالی ہے معاشی بحران عروج پر ہے سماجی منظر دلخراش ہے جرائم کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے مفلوج ہیں بدعنوانی کا زہر ان میں سرایت کر چکا ہے لہٰذا صورت حال بے قابو ہو چکی ہے۔
بس اب ڈنگ ٹپائو پروگرام کے تحت گزارا ہو رہا ہے مگر اس سے نئی نسل کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا اسے روشن مستقبل دینے کی ضرورت ہے جو ایک سنجیدہ فکر قیادت ہی دے سکتی ہے اور وہ ابھی ہمیں نہیں مل سکتی۔ اگرچہ نئے چہرے جو جوان ہیں کو سامنے لایا جا رہا ہے مگر شاید ان کے بس میں نہیں ہو گا کہ وہ بکھرے ہوئے سماج اور سسکیاں لیتی معیشت کے لیے کوئی انقلاب برپا کر سکیں کیونکہ وہ بھی اسی اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس نے اب تک فقط اقتدار کے مزے لوٹنے کا ہی سوچا ہے لہٰذا ہمیں نہیں لگتا کہ وہ ایک نئی زندگی کے لیے جدوجہد کر سکیں گے۔
بہرحال وطن عزیز کو اس وقت ایک ایسی قیادت چاہیے جو مساوات کے نظام کے لیے کوشش کرے لوگ اب موجودہ سفاک اور گلے سڑے نظام سے تنگ آچکے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس سے مانوس بھی ہو چکے ہیں ان کے ذہن بڑی حد تک تبدیل ہو گئے ہیں مگر اس کے باوجود وہ ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں انہیں ہر اعتبار سے تحفظ حاصل ہو وہ معمولی سے معمولی کام کے لیے بھی پریشان نہ ہوں انہیں اس کے لیے رشوت سفارش کی ضرورت نہ ہو مگر انہیں فی الحال کوئی سیاسی رہنما اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت دکھائی دے رہی ہے کہ جو ان کے خوابوں کو پورا کر سکے۔
یہاں جو بھی آیا اس نے اپنا پیٹ بھرا عوام سے کیے گئے وعدوں کو فراموش کر دیا انہیں صریحاً دھوکا دیا گیا۔ اندھیرے میں رکھا گیا مافیا تیار کیے گئے نیچے سے اوپر تک بدعنوانی کو فروغ دے کر ایک مضبوط گروہ پیدا کیا گیا اور قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کی گئی جو آج کھربوں کے مالک ہیں اور غریب عوام کو ان دیکھے حصار میں لیے ہوئے ہیں جس میں وہ بے بس نظر آتے ہیں ان کی بے بسی میں اور بھی اضافہ ہوگا جب آنے والے چند دنوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی۔
اگرچہ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ عوام منی بجٹ کے حوالے سے فکر مند نہ ہوں کہ اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ صرف امیروں کی چیزوں پر ٹیکس لگے گا جبکہ ایسا نہیں ہے مگر حکمرانوں کے لئے تشویش کی کوئی بات نہیں کہ انہیں عوامی ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ عوام میں یہ شعور پیدا نہیں ہوا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے دیوانہ وار سڑکوں پر آجائیں ایسا مغربی و یورپی ممالک میں ہوتا ہے یہاں تو وہ اپنے ’’نمائندوں‘‘ جو زیادہ تر مافیاز سے تعلق رکھتے ہیں ان کے غلا م بنے ہوئے ہیں۔ انہیں ہی سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اگرچہ عوام پاکستان حکومتوں سے نالاں بھی رہے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلا سکے اب بھی یہی کچھ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ان کی رگوں میں خون کی جگہ تیزاب داخل کیا جا رہا ہے تو بھی وہ سوائے گلوں شکووں کے اور کچھ نہیں کر رہے جبکہ ان کے سامنے مہنگائی کا سونامی آچکا ہے سٹیٹ بینک کو خود مختار بنا دیاگیا ہے کہ اب اس سے کوئی کچھ نہیں پوچھ سکتا۔
حرف آخر یہ کہ اب لوگ خوشحالی، حقوق اور کسی نئی سویر کے طلوع ہونے کو بھول جائیں وہ جدید غلامی کے دور میں دھکیل دیئے گئے ہیں اور اس کے ذمہ دار ہمارے حکمران طبقات ہی ہیں جنہوں نے اس ملک کو لوٹا اور خزانے خالی کر کے بیرون ممالک لے گئے جنہیں بھرنے کے لیے عوام کی ہڈیاں تک پیس ڈالیں۔ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ وہ شیش ناگوں سے محفوظ رہیں تو دما دم مست قلندر کرنا ہو گا۔

تبصرے بند ہیں.