سیاسی حل کی اپیل

18

کیا فلسطینی قیادت تھکاوٹ اور مایوسی کا شکارہے ؟حالیہ کچھ عرصے کے واقعات اِس کی تصدیق کرتے ہیں فلسطینی قیادت کی تھکاوٹ اور مایوسی کی وجہ واضح ہے اہم عرب ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور بقیہ کاچند ایک شرائط کے عوض تعلقات قائم کرنے پر آمادگی کے اظہار سے مایوسی اورتھکاوٹ نے جنم لیا ہے کیونکہ بیرونی مددکا سلسلہ ختم ہونے سے دوریاستی حل کا امکان کم ہونے لگا ہے اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تمام فلسطینیوںنے موجودہ حالات کو تسلیم کر لیا ہے بلکہ اب بھی مزاحمت جاری ہے لیکن شدت میں کمی آتی جارہی ہے بیت المقدس کی حد تک اب بھی صیہونی دراندازوں کو رکاوٹوں کا سامنا ہے مگر یہ رکاوٹیں کتنا عرصہ برقرا ر رہتی ہیں کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ دونوں فریق تصادم میں کمی لانے کی طرف مائل ہیں اسرائیل چاہتا ہے کہ شام اورلبنان کی طرح فلسطین میں ایران نواز عناصر کی قوت نہ بڑھے جبکہ فلسطینی قیادت چاہتی ہے کہ بہتر روزگاراورزراعت کے تحفظ کے لیے اسرائیلی کارروائیاں ختم یا کم کرائی جائیں ناکہ بندی اور وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں سے بے گھروں کی بڑھتی تعداد اور روزگار کے مواقع کم ہونے سے فلسطینی قیادت پرعوامی دبائو بڑھ رہا ہے مزید ستم یہ کہ فضائی بمباری سے گرائے یا اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں خالی کرائے جانے والے گھر دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ یہودی بستیاں بسادی جاتی یا خالی گھریہودی خاندانوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں جس سے فلسطینیوں کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں لیکن بڑھتی مشکلات کا احساس کرنے کے بجائے عرب ممالک اپنی جغرافیائی سرحدوں کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل کی طرف دیکھنے اور سفارتی و اخلاقی مدد کے بجائے فلسطینی مزاحمت کاروں سے فاصلے کی روش پر گامزن ہیں جس سے فلسطینی قیادت بھی دوریاستی حل کے علاوہ دیگر آپشن کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئی ہے ۔
امریکہ یا مغربی ممالک اسرائیل کو قابض یا جارح ملک نہیں سمجھتے بلکہ اُس کی ہر کارروائی اور حملے کودفاعی قرار دیتے ہیں اسی لیے اُن کے ذرائع ابلاغ میں اسرائیلی حملوں کو جنگی جھڑپیں لکھا اور بولا جاتا ہے جو درست نہیں کیونکہ ایک ملک کے پاس ایسی تربیت یافتہ بری فوج ہے جو نہ صرف جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے بلکہ اُسے بحری اور فضائی مددبھی حاصل ہے لیکن جواب میں فلسطینی عام طور پر پتھروں سے مقابلہ کرتے ہیںمگر بظاہر انسانی حقوق کی دعویدارعالمی طاقتیں دو ممالک کی جھڑپیں کہہ کر معاملے کی سنگینی کم کردیتے ہیں قبل ازیں عالمی طاقتوں کی تمام تر جانبداری کے باوجود عرب ممالک مذہبی حوالے سے اپنا اخلاقی اور سفارتی فریضہ نبھاتے رہے مگر گزشتہ چند برس سے وہ اپنے فریضے کی ادائیگی سے دستکش ہونے لگے ہیں جو فلسطینی قیادت میں تھکاوٹ مایوسی کو جنم دینے کا باعث بنا ہے اوروہ مزاحمت کے بجائے روزگار اور زراعت کے حوالے سے دیکھنے پر مجبور ہوکر سیاسی حل کی اپیل کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔
ہفتوں فضائی بمباری کے بعد اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی سے میل ملاقاتیں بڑھادی ہیں مقصد عربوں کو احساس دلانا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے بجائے اسرائیل سے پُرامن تعلقات قائم کرنے پر آمادہ ہیں اب مزید عرب ممالک سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کسی اندیشے کا شکار نہ ہوں اِس حوالے سے اُسے امریکی تعاون بھی حاصل ہے جو عربوں کے ساتھ دیگر اسلامی ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دبائو ڈال رہا ہے ابھی حال ہی میں امریکی وزیرخارجہ نے اپنے انڈونیشی ہم منصب سے ملاقات کے دوران اِس حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن انڈونیشیا نے دو ریاستی حل سے قبل کسی بھی تجویز کوقبول کرنے سے انکار کر دیا اب اسرائیلی عہدیداروں کے فلسطینی اتھارٹی  کے دورے اور بہتر روابط سے مزید اسلامی ممالک کو تسلیم کرنے کی شہ ملے گی جیسے جیسے فلسطینی مزاحمت کم ہوتی جائے گی اسرائیلی غلبہ و قبضہ مستحکم ہوتا جائے گا جس کے لیے حالات سازگارہورہے ہیںحال ہی میں فلسطین پر ہونے والی فضائی بمباری کے دوران نہ صرف او آئی سی نے عضو معطل کاکردار ادا کیا بلکہ عربوں کی طرف سے بھی کوئی خاص جو ش و جذبہ دیکھنے میں نہیں آیا اِس لیے اگر فلسطینی قیادت جو اپیلوں پر مجبور ہوئی ہے یہ کوئی حیران کن نہیں تھکاوٹ اور مایوسی کا نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
فلسطین کی سیاسی اور مزاحمتی قوتیں بیان بازی کی حد تو اکثر باور کراتی رہتی ہیں کہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کی مکمل تیاری ہے حماس جیسی قوتیں غزہ میں کسی قسم کی بیرونی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کے عزم دہراتی رہتی ہیں مگر سچ یہ ہے کہ اب فلسطینی صفوں میں دو ریاستی حل کے بجائے اسرائیل میں رہتے ہوئے تعلقات بہتربنانے کی سوچ جڑیں پکڑنے لگی ہے فلسطینی قیادت کا طرزِ عمل واضح ہے فلسطین کے موجودہ صدر محمود عباس اِس وقت اسرائیل کے دورے پر ہیں یہ اُن کا اسرائیل کا پہلا دورہ ہے جس کے دوران اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط مضبوط ہوئے ہیںانھوں نے دورے کے دوران وزیرِ دفاع بینی گنٹز سمیت دیگر کئی اہم رہنمائوں سے ملاقاتیں کی ہیں ہونے والی ملاقاتوں کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ فلسطینی صدر نے دورے کے دوران وزیر دفاع سے اُن کے ذاتی گھر جا کر ملاقات کی ملاقات میں محمود عباس اور ان کے ساتھ وفد نے فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی ،تاجروں اور دیگر اہم شخصیات کے لیے پر مٹوں کا اجراسمیت مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے ہزاروں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی سکونت کی منظوری جیسے مطالبات پیش کیے گئے جن میں سے کچھ کی منظوری بھی دے دی گئی یہ پیش رفت زیادہ حیران کُن نہیں کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے علاقوں میں غربت و فلاس بڑھتی جارہی ہے آئے روز ہونے والی فضائی بمباری سے بے گھروں کی تعداد میںبھی نمایاں اضافہ ہوتا جارہا ہے ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عرب ممالک مظلوم بھائیوں کی مالی مدد میں غیر معمولی اضافہ کرتے لیکن اُلٹا کمی کی گئی ہے فلسطین میں تعلیم اور صحت کا نظام منہدم ہونے کے قریب ہے معلم اور معالج دونوں ضرورت سے تشویشناک حد تک کم ہیں اِن حالات میں فلسطینی قیادت کا مزاحمت چھوڑکر مراعات کی طرف آنا باعث تعجب نہیںمحسوس نہیں ہوتا۔
اسرائیل و فلسطین کے حالیہ باہمی روابط کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل میں موجود مسلم عرب عام انتخابات میں ایک بڑی سیاسی قوت بن کر اُبھرے ہیں چند برس کے دوران میدانِ تجارت، عدلیہ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کرچکے ہیں یہ حالات بھی فلسطینی قیادت کو محدود آزادی قبول کرنے کی طرف لائے ہیں محمود عباس کے دورے سے پہلے اسرائیلی وزیردفاع نے بھی فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تھا جس کے دوران اعتماد سازی کے لیے معاشی اور شہری تعاون بڑھانے کافیصلہ کیا گیا موجودہ دورے اور ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر ایسا سیاسی ماحول بنانے پر زور دیا ہے جو عالمی قوانین اور قراردادوں کے مطابق دوریاستی حل کی طرف لے جا سکے مگر کیا عملی طور پر ایسا ممکن ہے ؟ظاہر ہے ایسا کسی طور پر ممکن نہیںالبتہ اسرائیل کی طرف سے نرمی کا خواب دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کو ہر حوالے سے بالادستی حاصل ہے تو وہ کیونکر آبادکاروں کے طرزِ عمل سے پید اہونے والی کشیدگی کا خاتمہ چاہے گا ایسے حالات میں جب فوج کو پتھر برسانے والے فلسطینیوں کو گولی مارنے کا اجازت نامہ مل چکا ہے کسی بڑی پیش رفت کا امکان تو نہیں لیکن جاری دورے کے دوران بھلے سیاسی حل کی اپیل نا منظور ہو جائے البتہ محدود مراعات کا امکان رَدنہیں کیا جا سکتا۔
ا

تبصرے بند ہیں.