نیب مسئلے کا حل ہے، مسئلہ نہیں :جسٹس (ر) جاوید اقبال

111

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے  کہ لوگوں کو کیوں گمراہ کیا جا رہا ہے؟ نیب مسئلے کا حل ہے، مسئلہ نہیں ہے، ایسے لوگوں پر بھی کیس رجسٹرڈ کیے جن کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ریکوری پر کچھ لوگوں نے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کی، حالانکہ گزشتہ 4 سال میں تاریخ کی سب سے بڑی ریکوی ہوئی ہے، جس میں 541 ارب روپے کی ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ ریکوری شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ہاؤسنگ سوسائٹی نے 14 ارب روپے ادا کیے تو وہ نیب کی تجوری میں نہیں آتے، اگر نیب نہ ہوتا تو نہ 14 ارب ریکور ہوتے اور نہ یہ رقم لوگوں کو واپس ملتی، سوال ہوتا ہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ میں یہ پیسے کیوں جمع نہیں کرائے گئے۔

چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی رقم تھی ان کی تصدیق کر کے 14 ارب کی رقم ان کے حوالے کی گئی، اس رقم پر حکومت کا حق نہیں، یہ متاثرین کی رقم ہے، 56 ارب روپے سے زائد نقد رقم ریکور کی، یہ رقم سوسائٹی سے آئی، جبکہ سوسائٹی کو چیک کرنے کا نظام نہیں تھا، یہ سوسائٹیاں لوگوں کی بربادی کا سبب بنیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سوسائٹیوں نے لوگوں کو کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیا تھا، لوگ خوبصورت بروشر پر انویسٹمنٹ کر دیتے ہیں، انسان کو سادہ اور معصوم ہونا چاہیے، لیکن ظالم نہیں ہونا چاہیے، ایک بروشر غور سے دیکھا تو اس میں نیاگرا فال کی تصویر تھی، انویسٹمنٹ کرنے سے پہلے متعلقہ اداروں سے تصدیق کر لیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے مزید بتایا کہ ملک میں 35 ہزار لوگوں کو رقم ادا کر دی، نیب پر تنقید بالکل کریں، لیکن تنقید برائے تنقید نہ کریں ،ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر تنقید کریں۔

تبصرے بند ہیں.