جلد کچھ بڑا ہونے کادعویٰ

37

وطنِ عزیز کی سیاست کیا رُخ اختیار کرے گی؟ وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں آجکل ملک میں نواز شریف کے آنے کی بحث زوروں پر ہے سیاستدان، صحافی اور حکومتی حلقے اندازے لگا نے میں مصروف ہیں وجہ یہ ہے کہ تاحیات نااہلی کے باوجود اُن کا ووٹ بینک برقرار ہے جو جیت کی سیاست کرنے والے سیاستدانوں کے لیے نہایت پُرکشش ہے کیونکہ جیت کی سیاست کرنے والے انتخابی میدان میں اُترنے سے قبل کسی مقبول جماعت کا ٹکٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں پنجاب کے کئی ضمنی انتخابات جیتنے سے اِس خیال کو تقویت ملی ہے کہ موجودہ حکمران سے زیادہ سابق حکمران جماعت کا ٹکٹ بہتر ہے انتخابات سے قبل نواز شریف اگر ملک واپس نہیں آتے تو سابق حکمران جماعت ن لیگ کی انتخابی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے وجہ یہ ہے کہ جیت کی سیاست پریقین رکھنے والے سیاستدان کیونکہ کامیابی کے بعد حکومتی منصب کی بھی تمنا کرتے ہیں لیکن یہ تمنا مریم نواز کی قیادت میں پوری نہیں ہو سکتی اِس لیے موجودہ حکمران جماعت کا ٹکٹ  جیت کی سیاست پر یقین رکھنے والوںکے لیے اہم ہوگا اگر نواز شریف ملک میں آجاتے ہیں جس کاکچھ امکان ہے تو چاہے وہ انتخابی جلسوں میں شریک نہ ہوں بلکہ پسِ زنداں ہی ہوں تو مستقبل کی سیاست میں جلد کچھ بڑاہونے کے دعوے پر یقین کیا جا سکتا ہے کیونکہ بھلے حکومتی منصب نہ ملے لیکن جیت کی سیاست پر یقین رکھنے والوں کو مقبول جماعت کا ٹکٹ راغب کر سکتا ہے جس سے پنجاب کی حد تک کچھ بڑاہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
لندن سے واپس لوٹنے والے ایاز صادق نے جب سے جلد کچھ بڑا ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ہوگا وہ دھماکہ ہوگاحکومت بے سکون ہے خیرسیاستدان کا اپنے کارکنوں کو ایسی طفل تسلیاں دینا نئی بات نہیں مگر وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے نواز شریف کی نااہلی ختم کرانے کے راستے نکالنے کی بات کرنے کچھ بڑا ہونے کے دعوے کو اہم بنا دیا عمران خان نے سزایافتہ مجرموں کو چھوڑنا ہی ہے تو جیلوں کے دروازے کھول دینے کی بات کرتے ہوئے حیرانگی ظاہر کی اور عوام الناس سے دریافت کیا کہ تین بار ملک کا وزیرِ اعظم رہنے والا ایک سزا یافتہ شخص کیسے چوتھی دفعہ ملک کا وزیرِا عظم بن سکتا ہے؟ ممکن ہے عمران خان نے سابق وزیرِ اعظم کی نااہلی ختم کرانے کا پیغام موجود ہ سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کے اِس بیان سے لیا ہو جس میںانھوں نے کہا کہ کسی عدالت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو تاحیات نااہل کر ے بقول اُن کے اِس حوالے سے انھوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے بات کرلی ہے انھوں نے تاحیات نااہلی پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا بھی عندیہ دیا لیکن یہ عمران خان کو کیا ہو گیا ہے کہ ایک بات سے ہی ہاتھ پائوں پھول گئے ہیں ویسے شاید انھیں معلوم ہو کہ وطنِ عزیز میں کچھ بھی ناممکن نہیں ذوالفقار علی بھٹوکے دورِ حکومت میں نیشنل عوامی
پارٹی کو کالعدم قرار دیکر تمام بڑے عہدیداروں کو گرفتار کر لیا گیا جس کی سپریم کورٹ نے بھی تائید وتصدیق کر دی پھر سیاسی حالات تبدیل ہوئے تو گرفتار تما م سیاسی رہنما نہ صرف جیلوں سے رہا ہوئے بلکہ کچھ تو ضیاالحق کی کابینہ میں وزیر بھی بنے ابھی حال ہی میں توڑ پھوڑ کی بناپر کالعدم ہونے والی ٹی ایل پی کوقومی دھارے میں لانے کی آڑمیں حکومت نے نہ صرف بطور سیاسی جما عت تسلیم کیابلکہ اتحاد بنانے کے لیے سلسلہ جنبانی بھی شروع کررکھا ہے مگر عمران خان حریف جماعتوں کی قیادت بارے انتہائی سخت رویہ رکھتے ہیں اُن کا سخت رویہ ہی اپوزیشن کو متحد رکھنے کی بڑی وجہ ہے۔
موجودہ حکومت ایسی کچھ خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی جسے کچھ بڑا ہونے سے تعبیر کر سکیں مگر کیا واقعی اپوزیشن کچھ بڑا کرنے کی پوزیشن میں ہے؟اگر نواز شریف کی ملک میں آمد کے حوالے سے جواب دیں تو نوازشریف کا فوری طور پر آنا ممکن نہیں حالانکہ برطانیہ میںرہائش کی توسیع بارے دی گئی درخواست مسترد ہونے کے بعداب اپیل زیرِ سماعت ہے جس کے بارے اکثر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپیل بھی مسترد ہونے کاقوی امکان ہے جس کے بعدملک واپسی کے سواچارہ نہیں دوم یہ کہ نوازشریف کے پاسپورٹ کی مدت جنوری میںختم ہورہی ہے جس میں توسیع یا نئے کے اجراکا امکان بھی کم ہے اِس صورت میں کسی اور ملک میں جانا بھی محال ہے اسی لیے واپسی کی خبروں میں صداقت نہ ہونے کے باوجودمکمل طورپرجھٹلایا بھی نہیں جا سکتا جہاں تک پی پی اور ن لیگ کی طرف سے ڈیل کا شور ہے آصف زرداری نے یہ کہہ کر کہ فارمولے والے ملک کوموجودہ بھنور سے نکالنے کے لیے اُن سے مدد لینے آئے تھے جس پر انھوں نے پہلے عمران خان کو نکالنے کی شرط رکھی ہے ڈیل کے تاثر کو تقویت دی لیکن عملی طور پر ابھی ایسا کچھ نہیں ویسے یہاں سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان سے سبھی خوش ہیں ؟ظاہرہے نہیں کے سوا کوئی اور جواب ہو ہی نہیں سکتا جس کے ذمہ دار وزیراعظم کے سوا کوئی اور نہیں لیکن ڈیل یا ڈھیل کی باتیں فی الحال بعید از قیاس ہیں۔
باخبر ہونے کے دعویدار سلیم صافی نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اعلان کی صورت میں خبر لگائی ــ: ایک ضروری اعلان سُنیے نواز شریف جنوری میں پاکستان آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں منصوبے کے مطابق واپسی پر جیل جائیں گے پھر عدالتوں سے ریلیف اور سابقہ سزائوں کے خاتمے کی اپیلیں ہوں گی انھوں نے ڈی جی نیب لاہور کے تبادلے کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ نواز شریف بھی سکرپٹ سے مطمئن ہیں اعلان ختم ہوا:مگر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا یہ اتنا ہی آسان ہے ؟ویسے اعلان کرنے والے صحافی تو آصف زرداری کی اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کو بھی ڈیل کا حصہ کہہ چکے ہیں لیکن کچھ حلقوں کی باتوں کے دوران موجود کڑواہٹ سے ایسے دعوئوں پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا۔
منی بجٹ کی صورت میں حکومت کو جو چیلنج درپیش ہے ڈیل سے زیادہ اِس سے کچھ کیا کافی کچھ بڑا ہونے کا مکان ہے کیونکہ حکومت کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینا مشکل ہوگا وزیرِ خزانہ شوکت ترین بارہ جنوری سے قبل عالمی مالیاتی اِدارے آئی ایم ایف سے کیے وعدے پورے کرنے کرنے کے لیے پُرعزم ہیں لیکن انتخابات کی منزل قریب ہونے سے کوئی سیاستدان مہنگائی بڑھانے میں حصہ دار بن کر ووٹروں کو ناراض کر نے کا متحمل نہیں ہو سکتا اِس لیے اٹھائیس دسمبر کو حکومت ترمیمی فنانس بل قومی اسمبلی میں پیش کرے تو ممکن ہے کچھ اتحادی سیاسی راہیں جدا کر لیں حکومت نے ایک ارب پانچ کروڑ کی قسط کے عوض کافی سخت شرائط تسلیم کی ہیں جن کا کسی صورت دفاع نہیں کیا جا سکتاکیونکہ350 ارب ٹیکس چھوٹ کے خاتمے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آجائے گا جس سے عوام سیاسی اشرافیہ پر غضبناک ہو سکتی ہے اسمبلی اراکین ،وزیروں ،مشیروں ودیگر حکومتی عہدوں پر فائز شخصیات کی مراعات قائم رکھتے ہوئے سارا بوجھ براہ راست عوام کومنتقل کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں سابقہ حکومتوں نے بھی قرضے لیے لیکن کسی نے بھی سٹیٹ بینک کو عالمی ادارے کے تابع نہیں بنایا موجودہ حکومت نے یہ حماقت بھی کردی جس کے بعد بھی یہ توقع رکھنا کہ حکومت کے خلاف کچھ بڑا نہیںہوسکتاحالات سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.