یہ سب پاگل ہیں !

32

ہم ہر ہفتے ایف سکس سیکٹر کے ایک گھر میں جمع ہو تے تھے،عصر کے بعد نفسیات کا ایک سیشن ہوتا تھا اور ہم ایک ہفتے کی نفسیاتی خوراک لے کر وہاں سے رخصت ہوجاتے تھے ۔میں نفسیاتی بیماری کی اس حد تک کیسے پہنچا اور اس گروپ کا حصہ کیسے بنا یہ بھی دلچسپ واقعہ ہے ، میں کچھ عرصہ پہلے ایک جاب کے سلسلے میں اسلام آباد مقیم تھا ،میری کتب بینی ،ملک کی بہتری کی خواہش، اصلاح احوال اور وفور اخلاص نے مجھے ضرورت سے زیادہ اور وقت سے پہلے سنجیدہ اور حساس بنا دیا تھا ،میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر بہت رنجیدہ اور پریشان ہو جایا کرتا تھا ، شاید میں اس زمانے میں آئیڈئلزم کا شکار تھا اور چیزوں کو اسی تناظر میں دیکھتا تھا ۔میں کامیاب ملکوں اور قوموں کی تاریخ پڑھتا اوراس تاریخ کو اپنے ملک اور قوم پر اپلائی کرنے کے خواب دیکھتا تھا جبکہ یہاں صورتحال مختلف تھی، ملک سیاسی اکھاڑا بنا ہوا تھا ، سیاسی و اخلاقی کرپشن عروج پر تھی، اقربا پروری کا رواج تھا ،تعلیم و اخلاق نہ ہونے کے برابر تھے اور اخلاقی قدریں زوال پذیر تھیں۔شہر اقتدار میں ہونے کی وجہ سے میں اس صورتحال کو زیادہ گہرائی سے دیکھتا اور اپنے اندر جذب کرتا تھا، میں دیکھتا تھا لوگ اسلام آباد جیسے جدید اور ترقی یافتہ شہر میں بھی غیر تربیت یافتہ ہیں ، یہ ٹریفک رولز کا خیال نہیں کرتے ، یہ ملکی قوانین کا احترام نہیں کرتے ، یہ معذرت اور شکریہ کے الفاظ کو بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں، یہ لائن میں بھی نہیں لگتے ، یہ فٹ پاتھ پر بھی موٹر سائیکل چڑھا لیتے ہیں ، یہ پیدل سڑک پار کرنے والوں کو بھی نہیں بخشتے اور پورے شہر میں آپ کو کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بھی نظر نہیں آتی ۔مجھے یہ سب چیزیں اذیت دیتی تھیں اورمیں اندر سے ٹوٹ جاتا تھا ۔پورا ہفتہ اسلام آبادکی اذیت سہنے کے بعد جب میں گاؤں جاتا تو دوران سفر اور گاؤں کے رویے تو مجھے بالکل مار دیتے تھے ۔ سفر کے دوران کنڈیکٹر کا رویہ انتہائی جارح ہوتا تھا ، چھوٹی چھوٹی بات پر گاڑی میں جھگڑے ہوتے تھے ،زبانیں دراز ہوتی تھیں، سواریاں بلند آواز سے قہقہے لگاتی تھیں ، گلا پھاڑ کر فون بھی سنے جاتے تھے اور کھانے کے بعد کاغذ ،کچرا اور چھلکے وغیرہ بھی گاڑی میں ہی پھینک دیے جاتے تھے۔ رہی سہی کسر ڈرائیور حضرات پوری کر دیتے تھے ، یہ بلند آواز سے انتہائی قبیح
میوزک چلا دیتے تھے اور جب یہ منزل تک نہ جانا چاہتے تو سواریوں کو اگلی گاڑی کو بیچ دیتے تھے ۔ میں گاڑی پر بیٹھنے سے پہلے تسلی کرتا تھا کہ آپ منزل تک جائیں گے اور ہمیں کسی اگلی گاڑی کو نہیں بیچیں گے مگر اس تسلی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا ۔دوران سفر سڑکوں کی حالت زار ، لوگوں کے رویے اور آتی جاتی دنیا کو دیکھنا ایک الگ عذاب تھا ، میں اپنے ملک اور قوم کو ترقی یافتہ او ر تعلیم یافتہ دیکھنے کے خبط میں مبتلا تھا اس لیے مجھے یہ رویے اور بدتہذیبی مار دیتی تھی۔
دوران سفر یہ ساری وارداتیں میرے لیے انتہائی اذیت ناک او ر تکلیف دہ ہوتی تھیں اور رہی سہی کسر گاؤں پہنچ کر نکل جاتی تھی ۔گاؤں کی جہالت ، لوگوں کی کسمپرسی، نئی نسل کی تعلیم سے دوری ، بد اخلاقی ،جگہ جگہ گندگی اور غلاظت کے ڈھیر یہ سارا منظرنامہ مجھے اندر سے توڑ دیتا تھا ۔ میری یہ کیفیت کیوں ہوتی تھی اس کی وجہ میرا مطالعہ اور مشاہدہ تھا ، میں کتابیں پڑھتا تھا، دنیا جہاں کے معاشروں کو دیکھتا تھا ، ترقی یافتہ اقوام کے حال پر غور کرتا تھا ، کامیاب ممالک کے ماڈلز کو پرکھتا تھا، ترقی پذیر ممالک کی تاریخ پڑھتا تھا ، مہذب قوموں کے حالات پر نظر دوڑاتا تھا اور ان تمام ماڈلز ، تہذیب اور ترقی کو اپنے ملک اور قوم پر اپلائی کرنے کے خبط میں مبتلا تھا۔ میں خودبھی پڑھا لکھا شخص تھا اور چاہتا تھا کہ یہ ترقی ، تہذیب، تعلیم اور اخلاق کے مظاہر مجھے اپنے ملک اور قوم میں بھی نظر آئیں مگر یہاں یہ ممکن نہیں تھا ۔یہ چیز مجھے اذیت دیتی تھی اور میں نفسیاتی مریض بن جاتا تھا ۔اسلام آباد رہتے ہوئے میں اس کیفیت کاشدید شکار ہو چکا تھا ،مجھے چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنے لگتا ، میں بلا وجہ آنسو بہانا شروع کر دیتا اور مزاج انتہائی چڑ چڑا ہو چکا تھا ۔ میں نے فیصلہ کیا مجھے کسی نفسیاتی معالج سے رابطہ کرنا چاہئے چناچہ میں دیواروں پر لکھے اشتہارات کی مدد سے ایک نفسیاتی معالج کے پاس پہنچ گیا، میں نے اپنا مسئلہ بیان کیا ، انہوں نے علاج کے ساتھ مجھے اس سیشن میں شرکت کی بھی تا کید کی اور میں ہر ہفتے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس میں باقاعدگی سے سیشن میں حاضر ہونے لگا۔نفسیاتی علاج اور سیشن میںحاضری کا کیا فائدہ ہوا اس سے قطع نظر اب صورتحال یہ ہے کہ میں اس کیفیت سے نکل چکا ہوں ، اب مجھ پر یہ چیزیں اثر انداز نہیں ہوتی ،میرے سامنے میرا ملک ڈوب رہا ہے مگر مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا، میرے سامنے سماج مذہبی و سیاسی انتہاپسندی کے زینے طے کرتا ہوایکتا اور بے مثال ٹھہرا مگر مجھے کبھی عجیب نہیں لگا، اب ہر روز لوگ غربت سے خودکشیاں کر رہے ہیں مگر میرے لیے یہ ایک معمول کی خبر ہے ،ملک قرضوں کی دلدل میں جکڑا جا چکا مگر میں یہ الارمنگ خبر سن کر بھی نظر انداز کر دیتا ہوں، میرے سامنے ملک کی یونیورسٹیاں تعلیم گاہوں سے قتل گاہوں میں بدلی مگر اب میں یہ جان کر بھی ریلیکس رہتا ہوںاور میرے سامنے سماجی قدریں تباہ وبرباد ہو گئیں مگر میرے لیے یہ ایک معمول کا تجربہ ہے۔
میں آج ماضی کی اپنی اس ذہنی کیفیت کو دیکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں شاید میں پاگل تھا جو ملک، قوم اور سماج کی بہتری کے سپنے دیکھتا تھا ، جو پاکستان جیسے ملک کو ترقی یافتہ ،تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ دیکھنا چاہتا تھا اور جو پاکستانی سماج کو پڑھا لکھا، سولائزڈ اور کامیاب دیکھنا چاہتا تھا ۔ میں آج یہ بھی محسوس کرتا ہوںکہ اس پاگل پن میں میں اکیلا نہیں ہوںبلکہ میرے جیسے ہزاروں لاکھوں پاگل اس ملک کے گلی کوچوں میں موجود ہیں جو اپنے طور پر ملک و قوم اور سماج کی حالت زار کو دیکھ کر کڑھتے اورنفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ مجھ سمیت یہ سب لوگ پاگل ہیں ، یہ نفسیاتی مریض ہیں ، یہ یوٹوپیائی ہیں اور انہیں اس کی سزا ملنی چاہئے ۔ کیونکہ یہ ملک تو عمران خان ، نواز شریف اور زرداری کا ہے ، اس ملک کے عہدے اور وزارتیں تو فواد چودھری اور فردوس عاشق جیسے لوگوں کے لیے ہیں اور اس ملک کے وسائل تو عثمان بزدار اور وزیروں مشیروں کے لیے ہیں ۔یہ ملک تو اصل میں اسٹبلشمنٹ اور اشرافیہ کا ہے ،یہ ملک تو ایم این ایز اور ایم پی ایز کا ہے، یہ ملک تو میڈیا مالکان اور انڈسٹری ٹائیکان کا ہے ۔ اس لیے ایسے تمام پاگلوں اور نفسیاتی مریضوں کو اکٹھا کر کے سمندر میں پھینک دینا چاہئے یہ ملک پر بوجھ ہیں، یہ بلا وجہ ملک کو ترقی یافتہ ،تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں ، یہ کامیاب قوموں اور ملکوں کے اصولوں کو اپنے ملک پر اپلائی کرنے کے خبط میں مبتلا ہیںاور یہ بلا وجہ سیاستدانوں اور اشرافیہ کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں ۔ انہیں ضرور سزا ملنی چاہئے ۔

تبصرے بند ہیں.