تالی بج چکی ہے

32

سال رواں ،کچھ ہی دنوں میں ہواکے دوش پہ سفر کرتا سال گزشت ہو جائے گا،21ویں صدی کا21واں سال بہت سے حوالوں سے سرد و گرم رہا،حکومت اور اپوزیشن کی لفظی جنگ کے ساتھ مہنگائی اور اشیاء صرف کی قلت نے عوام کو خون کے آنسو رلائے،حکومتی حلقوں کی جانب سے عوام کی اشک شوئی کسی بھی کام نہ آئی ،کورونا کی عالمی وباء نے پاکستانیوں کو بھی عذاب میں مبتلاکئے رکھا، سال کے آخر میں موسم کی یخ بستگی کیساتھ سیاست کی گرم بازاری کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے ، اپوزیشن سے ڈیل کی باتیں جاری ہیںتو وزیر اعظم کی گفتگو بھی معنی خیز ہے،اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں نواز شریف کی واپسی کی اطلاع کیساتھ ہی اختلافات ابھر کر سامنے آنے لگے ہیں، مولانا فضل الر حمٰن ن لیگ کی قیادت سے خاصے شاکی دکھائی دئیے،ن لیگ کے اندر بھی وزارت عظمیٰ کے حوالے سے خاصے تفرقات نظر آتے رہے، بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ کا وزارت عظمیٰ کا امیدوار دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جبکہ بہت سے سرگرم اور مہم جو لیگی شہباز شریف کے امیدوار ہونے پر صاد کر گئے، ایک نے تو انکشاف کیا وقت آنے پر مریم نواز، شہباز شریف کی تجویز کنندہ ہوں گی۔
افواہ سازی کے اس دور پر فتن میں بہت کچھ ہوتا نظر آ رہا ہے ، نواز شریف واپس آتے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہونے کیلئے گرفتاری دینا ہو گی، ضمانت کرانا ہوگی ، سزا پر نظر ثانی کیلئے دائر درخواستوں پر عدالتی فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا،نا اہلی ختم کرانا ہو گی،اس کے بعد الیکشن میں حصہ لے سکیں گے،شہباز شریف کے حالات اور ہیں مگر 16ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا کیس اب بھی ان کے گلے میں اٹکا ہواہے،اس کیس میں بریت تک وہ شائد وزارت عظمیٰ کا تاج سر پر نہ سجا سکیں،سرد موسم میں افواہوں کی گرم بازاری جیسی بھی ہو مگر جو لوگ ڈیل کے دعوے کر رہے ہیں وہ یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ ڈیل کس کیساتھ اور کیا ہو رہی ہے ؟ماضی مگر گواہ ہے ،پیپلز پارٹی پر بھروسہ نہیں اور شریف خاندان ہمیشہ ڈیل کر کے اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر ہی ایوان اقتدار میں آیا،پی ڈی ایم کی اکثر جماعتیں ان ہاؤس تبدیلی پر مصر ہیں مگر ن لیگ ایسا کوئی ایڈونچر نہیں چاہتی جس میں ناکامی کا رتی برابر اندیشہ ہو۔
اس تمام صورتحال کی بڑی اور بنیادی وجہ خراب حکومتی کار کردگی ہے،گزشتہ تین سال میں حکومت کی طرف سے بعض طویل المدتی اچھے کام کئے گئے ،وزیر اعظم نے لاہور میں سپیشل ٹیکنالوجی زون کا بھی افتتاح کر دیا ہے جو ایک بہترین کام ہے اور اس سے آئندہ دنوں میں سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا مگر عوام کو فوری ریلیف دینے میں حکومت اب تک ناکام ہے،تمام حدوں کو توڑتی مہنگائی اور بجلی کے غیر متوقع بل عام شہری کیلئے وبال جان بن چکے ہیں،بنیادی ضروریات کی اشیاء آٹا، چینی، دالیں، گھی، سبزیاں ریکارڈ مہنگی ہو چکی ہیں،سال رواں میں تو ان کی قیمت کو جیسے پر لگے رہے مگر حکومت کی طرف سے غریب خاندانوں کو بنیادی اشیاء  پر سبسڈی دینے کے علاوہ کوئی ایسا ٹھوس اقدام دیکھنے کو نہ ملا جسکی وجہ سے مہنگائی پر قابو پایا جا سکے، خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکومت کی شکست کی بنیادی وجہ ہی مہنگائی بنی ہے،اگر چہ کے پی کے حکومتی کارکردگی بہتر ہے اور وہاں عوام کو پنجاب سے پہلے ریلیف دیا گیا۔ مسائل کے کوہ گراں کے مقابل حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس کے اثرات تو صفر بھی نہیں ہیں،ایسی بے چینی اور غیر یقینی کیفیت سے فائدہ اٹھانا اپوزیشن کا حق تھا اور اس نے اندرونی اختلافات کے باوجود اس سے سیاسی فوائد حاصل کئے۔
اسی کالم میں متعدد بار حکومت کے ذمہ داران کو احساس دلایا گیا کہ حکومت اگر نچلے درجے کے انتظامی مسائل میں الجھ جائے گی اور قومی اور صوبائی سطح کے معاملات پر ضلعی اور مقامی معاملات کو فوقیت دینے لگے گی تو حکومت چلانا ہی نہیں فیصلہ سازی بھی مشکل ہو جائے گی اور انتظامیہ میں بد دلی کیساتھ عدم اعتمادی پھیلے گی اور معاملات گمبھیر ہو تے چلے جائیں گے اس لئے حکومت قانون اور فیصلہ سازی کرے اور انتظامی امور ریاست کے ذمہ دار انتظامیہ کے سپرد کر کے نتائج حاصل کرے،خود ہی مدعی منصف اور وکیل نہ بنے، مگر شائد تحریک انصاف کے ذمہ داران اس بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے تھے نتیجے میں نچلی سطح پر انتظامی معاملات میں بھی بگاڑ آیا، بیوروکریسی، انتظامی مشینری عضو معطل بن کر رہ گئی،ہر کوئی اپنی جگہ عدم تحفظ کا شکار رہا،اب بھی قریب قریب صورتحال یہی ہے،کوئی مطمئن نہیں،غیر یقینی اور بے چینی کی دھند گہری ہوتی جا رہی ہے اور لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کا یہ آخری سال ہے۔
ضرب الامثال ہزاروں سال کی ہڈ اور جگ بیتی کا نچوڑ ہوتی ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ’’جس کا کام اسی کو ساجھے‘‘اور ’’کل کرے سو آج کرے آج کرے سو ابھی‘‘یہ تاریخ کے معتبر لوگوں کے تجربہ کا حاصل ہیں جو تحریک انصاف نہ سمجھ سکی ،حکومت نے انتظامی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی،ریاستی ملازمین پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا انہیں کھڈے لائن لگا دیا نتیجے میں نہ خود کچھ کر سکے نہ کسی کو کچھ کرنے دیا،ہر کام کو کل پر چھوڑنا بھی حکومت کی کمزوری رہی،نتیجے میں آج تک پولیس اصلاحات کو عملی شکل دے کر نافذ نہ کیا جا سکا،بلدیاتی نظام بھی حکومت اور اتحادیوں میں کشمکش کا باعث اور حکومت کی توجہ الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کرانے پر رہی جو عوام کا فوری حل طلب مسئلہ نہ تھا،عوام کی ضرورت ہے روزگار،سستی اشیا ،تحفظ، امن اور انصاف،جس ملک میں عوام محافظوں کے ہاتھوں ہی مارے جاتے ہوں وہاں کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا،جہاں انصاف میسر نہ ہو فوری اور سستا، وہاں حکومت نہیں مافیاز کی حکمرانی ہوتی ہے،جہاں عوام روٹی کپڑے اور مکان کی سہولیات سے محروم ہوں وہاں الیکٹرانک ووٹنگ منتخب حکومت اور جمہوریت بے معنی ہوتی ہیں۔
بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ،حکومت اب بھی اگر فراست اور تدبر کا مظاہرہ کرے تو سال گزشت کی غلطیوں کوتاہیوں کو باقی ماندہ مدت میں دور کر کے عوام کو ریلیف دیکر سرخرو ہو سکتی ہے،اس کیلئے ترقی یافتہ ممالک کی تقلید کرنا ہو گی اور انتظامی معاملات ریاستی ملازمین جسے انتظامیہ کہا جاتا ہے کے سپرد کر کے ان سے نتائج کا تقاضا کیا جائے،بیوروکریسی اور انتظامیہ میں احتساب کا ایک باقاعدہ مسلسل اور منظم نظام موجود ہے،جو افسر یا ملازم نتائج نہ دے اس کیخلاف اسی نظام کے تحت کارروائی کی جائے اور جو نتائج دے اسے انعام و اکرام اور اعزاز دیا جائے، شائد کچھ فائدہ ہو جائے ورنہ نئے سال میں کچھ بھی ہو سکتا ہے،یہ حکومت کا آخری سال بھی ہو سکتا ہے،تالی تو بہر حال بج چکی ہے۔

تبصرے بند ہیں.