نوشتۂ دیوار

32

خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں اتنی بری شکست، الامان والحفیظ۔ فلم چلی یا کسی خوفناک فلم کا ٹریلر، ’’خواب تھا یا سراب تھا کچھ تھا ‘‘جنہیں وزیر مشیر اور ترجمان، ’’تھکے ہوئے پہلوان‘‘ کہتے نہ تھکتے تھے انہوں نے ’’سجی‘‘ دکھا کر ایسی ’’کھبی‘‘ ماری کہ چاروں خانے چت، عرف عام میں خاک چٹا دی کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘ پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمرہ نے ووٹوں کی تعداد بتا کر کہا کہ کے پی کے کی 52 تحصیلوں میں پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ 9 لاکھ 13 ہزار 325 ووٹ لیے جبکہ جے یو آئی (ف) 9  لاکھ 6 ہزار، اے این پی 5 لاکھ 6 ہزار، پیپلز پارٹی 2 لاکھ 77 ہزار، ن لیگ 2 لاکھ 72 ہزار اور جماعت اسلامی نے 2 لاکھ 65 ہزار ووٹ حاصل کیے۔ جے یو آئی ف نے فوراً لقمہ دیا یہ بتائیں سیٹیں کتنی جیتیں، وجوہات کچھ بھی رہی ہوں، کھلے دل سے تسلیم کیجیے کہ ہوم گرائونڈ پر شکست ہوئی۔ کوئی پڑھے تو سہی دیوار پہ کیا لکھا ہے۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں جھاڑو پھرنے کے بعد بھی آنکھیں نہ کھلیں سامنے کا منظر نظر نہ آئے دھند چھائی رہے تو کوئی کیا کرے، بابا جی نے تو این اے 133 کی شکست کے بعد ہی کہہ دیا تھا ’’پترو ہاتھ اٹھا لیا گیا ہے کچھ ہونے والا ہے۔ واپسی کا نقارہ بج گیا ہے۔ ’’کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ‘‘ اسی وقت سوچنا چاہیے تھا کہ لاہور میں جن کا لیڈر موجود نہیں شہباز شریف حلقے میںگئے نہ ہی مریم نواز نے کوئی بڑا جلسہ کیا۔ ن لیگ کی خاتون امیدوار پھر بھی جیت گئی۔ پی ٹی آئی کا امیدوار تھا  ہی نہیں۔ ایسے المیے عام انتخابات کے دوران بھی ہوگئے تو کیا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو نواز مخالف ووٹ پڑ گئے تو دال دلیہ ہوگیا۔ خانیوال میں تو 15ہزار ہی آ سکے۔ اندازہ ہوجانا چاہیے تھا کہ بیس اکیس ضمنی ا نتخابات میں تو دھڑن تختہ ہوگیا۔ ایک وفاقی وزیر نے دھمکی دی کہ کامیاب ہونے والوں کو فنڈز نہیں دیں گے۔ حقیر سوچ، تنگ نظری عوام مزید بدظن ہوں گے۔ ایک اور بات قابل غور صوبہ کی ساڑھے تین کروڑ آبادی میں صرف 68 لاکھ ووٹ پڑے ٹرن آئوٹ پر چیخم دھاڑ مچانے والے کیوں خاموش رہے۔ اتنا مایوس کن ٹرن آئوٹ کیوں، لوگوں کو گلی محلے کے انتخابات سے بھی اپنے مسائل کے حل کا یقین نہیں رہا۔ کتنے وننگ امیدوار توڑے گئے دودو کروڑ کی سیٹ خریدنے کی کہانیاںمنظر عام پر آئیں لیکن تبدیلی نہ آسکی۔ بقول غالب ’’بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا‘‘ اپ سیٹ شکست نے پورے سیٹ اپ کو ہلا کر رکھ دیا وجوہات ڈھکی چھپی نہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی، تحقیقاتی رپورٹس اپنوں کو شوکاز نوٹس صرف ٹشوز سے آنسو پونچھنے کے مترادف، نوشتہ دیوار پڑھنے والوں کی حکومت ہوتی تو کوئی نہ کوئی تھنک ٹینک سر جوڑ کر بیٹھ جاتا اور سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں نیچے گرنے کی اصل وجوہات پر غور کرتا۔ رپورٹ دی جاتی کہ پے در پے شکستوں کی اصل وجہ مہنگائی ہے۔
لوگ ابتدا میں وزیروں مشیروں اور ڈھیر سارے ترجمانوں کے ٹی وی چینلز پر چہرے دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ ان کی باتیں سن کر یقین کرلیا کرتے تھے کہ تبدیلی کی دیوی ان کی چھت پر اتر کر خوشحالی کا پیغام سنائے گی گھروں کے حالات بدلیں گے بچوں کے چہرے وزیروں کی طرح سرخ گلاب ہوجائیں گے۔ لیکن کمر توڑ بلکہ گردن توڑ مہنگائی کے باعث جب گھروں میں بیوی بچوں کے سامنے چہرے چھپانے پڑے تو دلوں سے بد دعائیں نکلنے لگیں اور سرکار کی مقبولیت روز بروز صفر کے ہندسے کی طرف بڑھنے لگی۔ حیرت ہے حکمران طبقہ مہنگائی سے متاثر نہیں، روٹی نہ ملے کم ملے یا مشکل سے ملے تو پھول سے چہرے مرجھا جاتے ہیں اپنے وزیروں مشیروں اور ترجمانوں کے چہرے تو ماشاء اللہ کھلے رہتے ہیں لگتا ہے انہیں آٹا، دال، گھی، دالیں، بجلی، گیس ساٹھ ستر فیصد رعایت (سبسڈی) سے ملتی ہیں۔ پانچ سو روپے کلو والا گھی سو ڈیڑھ سو روپے کلو ملے تو چہرہ گلاب ہی نظر آئے گا۔ استاد ذوق نے کمال فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا ’’خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے، حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے‘‘ شعر کی پیروڈی ملاحظہ فرمائیں۔ ’’گل بڑھے، خاور بڑھے، فرخ بڑھے، فیصل بڑھے، تبدیلی سرکار میں جتنے بڑھے ’’قابل‘‘ بڑھے، گھی بڑھا آٹا بڑھا دالیں بڑھیں ڈالر بڑھے، تبدیلی سرکار میں جتنے بڑھے قرضے بڑھے ‘‘کیا مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کا کوئی طریقہ نہیں؟ کیوں نہیں یقینا ہوگا۔’’ چوروں ڈاکوئوں‘‘ کے زمانے میں مہنگائی نہیں تھی انڈسٹریز بھی چل رہی تھیں گندم آٹا گھی سب وافر مقدار میں تھا ان کے جاتے ہی کیا ہوا کہ عالی جاہ ڈالروں کی آرزو کرنے لگے۔ حالانکہ معیشت بحالی کے لیے بہت سے فارمولے ایجاد ہوئے ہیں۔’’ اور بھی گر ہیںمعیشت میں آئی ایم ایف کے سوا، راحتیں اور بھی ہیں قرضوں کی راحت کے سوا‘‘۔ بس اس کے لیے اہلیت اور گڈ گورننس ضروری ہے۔ دیوار پہ لکھا ہے کہ 350 ارب کے منی بجٹ کی آڑ ڈیننس کے ذریعہ منظوری کے بعد تو پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں بھی خیبرپختوا جیسا حشر بلکہ حشر نشر ہوگا۔ نوشتہ دیوار کیا ہے؟ کوٹ لکھپت میں ماجے کی ہٹی (معراج دین کی دکان) سے ملحق دیوار پر لکھا ہے کہ اجلاسوں، تقریروں، ہوائی احکامات، تختیوں کی نقاب کشائی، اور اربوں کھربوں کے قرضوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انا، حسد اور انتقام ترقی کا راستہ روک لیتے ہیں۔ بقول آصف علی زرداری ان سے ملک چلانے کے منصوبے مانگے جا رہے ہیں۔ واللہ اعلم ان کی جیب میں کچھ ہے یا نہیں، اپنے دور میں تو سب کچھ لٹا چکے، اینٹ سے اینٹ بجانے کے دھمکی برا شگون ثابت ہوئی اپنی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ سیانے کہتے ہیں ’’اٹ کھڑ کا ‘‘دانش مندوں کا شیوہ نہیں، پھلجھڑیاں، چھوڑنے سے اقتدار کا ہما سر پر نہیں بیٹھتا۔ تحریک عدم اعتماد کا فارمولا ناکام رہا۔ استعفے دینے کو تیار نہیں لانگ مارچ میں ساتھ دینے پر آمادہ نہیں اچھی بھلی قومی پارٹی صوبائی پارٹی کا روپ دھار چکی ہم جیسے بہی خواہوں کو دکھ ہوا۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ فارمولے کون مانگ رہا ہے، کس نے پیشکش کی ہے؟ یہ الگ بحث لیکن نوشتہ دیوار پڑھنے کی عادت ہو تو بندہ نقصان نہیں اٹھاتا، نوشتہ دیوار پڑھنے کی فرصت نہیں تو کسی سیانے یا پرانے سے مشورہ کرلیں ورنہ پنجاب میں انتخابی حکمت عملی کی خودنگرانی بھی کام نہیں آئے گی۔
آخر میں قارئین کرام کو سرکاری سطح پر بھنگ کی پہلی فصل تیار ہونے پر مبارکباد۔ انکشاف وفاقی وزیر شبلی فراز نے فخریہ طور پر کیا ،فنانس کا بندہ سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر بنا دیا گیا تو وہ کیا کرے گا بھنگ ہی بوئے گا ،ایک ایکڑ میں بھنگ کی فصل بوئی تھی جو تین ماہ میں تیار ہوگئی۔ مخالفین طعنہ دیتے ہیں کہ حکومت تین سال میں کچھ نہیں کرسکی شبلی فراز نے تین ماہ میں ’’کارنامہ‘‘ کر دکھایا۔ چلیے ایک پروجیکٹ تو مکمل ہوا ،کہتے ہیں بھنگ دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے، بچپن میں سکول کے راستے میں پیپل کے درخت کے نیچے آٹھ دس افراد بھنگ گھوٹ رہے ہوتے تھے پیالے میں ایک ایک کو پیش کرتے جس کے بعد سب مل کر نعرہ مستانہ بلند کرتے ’’پی پیالہ بھنگ دا، نہ کوئی ساتھی قبر دا‘‘ تمام گرم مزاج سیاست دانوں بشمول وزیروں، مشیروں ترجمانوں کو ضرور پینی چاہیے۔ گرما گرم سیاست میں کمی آئے گی۔ بھنگ مہنگی نہ ہوئی تو عوام بھی استعمال کریں گے۔ تاکہ مہنگائی کے عذاب کو بھول جائیں۔

تبصرے بند ہیں.