تاریخ دہرائی جائے گی؟

22

2018الیکشن میں پی ٹی آئی حکومت کا اقتدار سنبھالنے سے پہلے کا وعدہ سو دن میں تبدیلی کا تھا۔وقت گزرتا گیامگر وعدہ وفا نا ہو سکا۔دن ہفتوں اور مہینے سال میں بدل گئے لیکن عوام تبدیلی نا دیکھ سکی۔سیاسی مخالفین کو کٹہرے میں لایا گیا لیکن تمام تر وسائل اور اداروں کی موجودگی میں جرم ثابت نا کیے جا سکے اور تمام سیاسی مخالفین کمزور تحقیقات کی وجہ سے جیلوں سے باہر آ گئے۔بات صرف قید اور اقتدار کی نہیں تھی عوام کو کسی بھی پارٹی کے سربراہ کی قید سے کوئی سروکار نہیں،انہیں صرف ملک دشمن اور ملک کو لوٹنے والوں کو سزا دلوانے میں دلچسپی تھی لیکن سزا تو دور کی بات الٹا عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس دیا گیا۔پاکستان کے غریب عوام اس وقت شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔اسی ذہنی اذیت سے دوچار عوام نے ضمنی الیکشن،کنٹونمنٹ الیکشن اور خصوصی طور پر تحریکِ انصاف کے قلعہ خیبر پختون خوا کی دیوار ہلا کر رکھ دیں۔یہ صرف سیاسی فتح کا معا ملہ نہیں ہے عوام کا غصہ بجلی ،پانی،گیس اور اشیائے زندگی عوام کی پہنچ سے دور ہونے کا نتیجہ ہے ۔آنے والے وقت میں بھی یہ مہنگائی کا طوفان تھمتا نظر نہیں آ رہا۔ پٹرول، ڈالر اور بجلی کی ہر ماہ بڑھتی قیمتوں نے عوام کو جس دلدل میںپھنسا یا ہے اس میں آئے دن سبزی، دال، گوشت اور دودھ عوام کو مزید اوپر سے دبا رہی ہیں۔ ایسے میں زندگی گزارنا پلِ صراط سے گزرنے کے مترادف ہے۔ عوام حکومت کو جس مان سے لے کر آئی تھی اب اس سے کئی گنا زیادہ غصے سے گھر بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ بات اگر مہنگائی تک ہی رہتی تو عوام کچھ ہمت کر کے حکومت کے لیے قربانی دے دیتی لیکن انصاف کی عدم دستیابی، رشوت کا ریٹ ڈبل ہونا، ڈکیتیوں اور چوریوں کا بڑھ جانا، تھانہ کلچر میں سیاسی مداخلت، قبضوں میں اضافہ عوام کے صبر کے پیمانے کو لبریز کرنے کو کافی ہے۔ جس دن عوام نے صبر کا دامن چھوڑ دیا وہ دن انقلاب برپا کر دے گا۔ اب بھی عوام کو کچھ فیصد امید ہے کہ شاید حکمران ہوش کے ناخن لے کر عوام کے لیے کچھ کریں۔ آج تک پاکستان کے وزیراعظم پانچ سال کی مدت مکمل کرنے میں ناکام رہے ہیں اپنی نا اہلی یا مخالفت وجہ چاہے کوئی بھی ہو تختہ الٹا دیا جاتا  ہے۔ نظر اب بھی یہی آ رہا ہے حکومتِ وقت کی عدم دلچسپی، عوام کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی شاید اشارہ ہے کہ تاریخ دہرائی جائے گی۔ 2022 جنوری سے شروع ہونے والی تبدیلی مارچ تک کچھ خاص نتیجہ دکھا دے گی۔ حکومت کے پاس یہی ساٹھ دن بہت اہم ہیں لیکن اب شاید کافی دیر ہو چکی ہے، اقتدار کا آخری سال کسی صورت مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ہمارے حکومتی وزرا اور مشیروں نے حکومتی کشتی کو جس بھنور میں پھنسا دیا ہے اب ڈوبتی کشتی کو ڈبونے کے لیے اپوزیشن کو کسی خاص محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ عوام کے پاس اپنی حالت بدلنے کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ ہے، ووٹ کی طاقت سے بلدیاتی الیکشن اور ضمنی الیکشن میں عوام نے حکومتی قلعے کے درو دیوار ہلا کر رکھ دیے ہیں۔ہوش والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں بساط لپیٹی جا رہی ہے۔وقت بدل رہا ہے، تبدیلی آ رہی ہے یا جا رہی ہے، لیکن تاریخ ضرور دہرائی جا رہی ہے۔ اب بس وقت کا تعین کرنا باقی ہے۔

تبصرے بند ہیں.