بستر علالت سے

100

تقریباً 2 ماہ بعد ان صفحات پر حاضری دے رہا ہوں… سخت علیل رہا، چلنے پھرنے، غور کرنے اور لکھنے کے قابل نہیں تھا… اس دوران میں دو مرتبہ لاہور کے نجی ہسپتال میں داخل رہا… علاج میں اللہ کے فضل سے کوئی کمی نہ تھی لیکن بیماری بھی جان لیوا ثابت ہو رہی تھی… اب قدرے ہوش حواس ٹھکانے آئے ہیں… آزادی سے چل پھر اب بھی نہیں سکتا… یورن بیگ لگا ہوا ہے… لیکن اپنے اندر قارئینِ محترم سے ہم کلام ہونے کی ہمت پا رہا ہوں… اس دوران میں جن دوستوں اور عزیزوں نے اپنی دعائوں سے نوازا ان کا خاص طورپر شکرگزار ہوں… میرا مشاہدہ اور تجربہ یہ رہا ہے آدمی سخت بیمار ہو جائے تو 30 فیصد علاج کا اہتمام ڈاکٹر حضرات اور اعلیٰ درجے کی ادویات کرتے ہیں… جب کہ 70 فیصد پاس اور خاص طور پر آپ کے افرادِ کنبہ کی جانب سے کیا جاتا ہے جو 24 گھنٹے کی نگہداشت میں کوئی کمی واقعہ نہیں رہنے دیتے… میری ماشاء اللہ 6 بالغ اور شادی شدہ بیٹیاں ہیں… ان میں سے کوئی بھی تعلیم میں پوسٹ گریجویٹ سے کم نہیں… لاہور ہی میں آبادوشاد ہیں… اللہ تعالیٰ نے خوشحالی اور سکون دے رکھا ہے… وہ باری باری آ کر میری تیمارداری میں اس حد تک توجہ دیتی رہی ہیں، کسی توجہ میں کوئی کمی نہیں رہنے دی… دامادوں میں سے بھی سب سے بڑا پنجاب یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدے پر فائز میڈیکل ڈاکٹر ہے… اگرچہ اس دوران میں اسے بڑا دکھ برداشت کرنا پڑا جو ہم سب کو سوگوار کر گیا… اس کے باوجود اس نے پورے خلوص کے ساتھ پیشہ وارانہ توجہ میں کمی روا نہ رکھی… اسی طرح دوسرے دامادوں اور عزیزان نے میرے گرد جمگٹھارکھا… دفتر والوں نے چوبیس گھنٹے کا ملازم مقرر کر دیا تھا جو میری آرام سے اُٹھک بیٹھک کا خیال کرتا ہے… میرے جسم میں بار بار پانی بھر جاتا تھا اس کا اخراج کاردار ثابت ہوتا رہا… اس عارضے نے مجھے اپنی جکڑبندی میں رکھا… اب تمام تر وقت بستردرازی پر صرف کرتا ہوں… اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے جلد چلنے پھرنے کے قابل بنا دے گا… پھر اس کی ذات برتر کو منظور ہوا تو دفتر حاضری دینے کے بھی قابل ہو جائوں گا… قارئین، دوستوں اور عزیزوں سے ایک مرتبہ پھر پُرخلوص دعائوں کی درخواست ہے…
میری علالت کے دوران اگرچہ معمول کے سیاسی زیروبم میں کمی نہ رہی لیکن دو واقعات ایسے ہوئے جن میں سے ایک نے تو پوری قوم کو حددرجہ پریشانی و ندامت کے ساتھ دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا… شدید شرمندگی میں ڈبو دیا… سیالکوٹ والا ناقابل بیان واقعے نے ہمارے اندر کی گندگی نکال کر باہر رکھ دی اور افسوس کی بات یہ ہے یہ سب کچھ خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کے نامِ نامی اسم گرامی پر ہوا… ہم نے ایک بے گناہ غیرملکی کو قتل کر کے حرمتِ رسول کے تمام اعلیٰ تصورات کی جو ہماری جانوں سے بھی عزیز تھے بھک سے اڑا کر رکھ دی… اس سے پھیلنے والی ناگوار ترین بدبو پوری فضا کو متعفن کر گئی… غیرمسلم کا کسی گناہ کے بغیر ناکردہ جرم میں قتل ہوا… دنیا بھر میں بدنام ہوئے لیکن اس کی وجہ کوئی خارجی عامل نہیں تھا بلکہ ہمارے یہاں نبی اکرمؐ کی ذات گرامی پر جو سیاست کھیلی گئی جس میں اعلیٰ درجہ کے ناجائز حکمرانوں سمیت ایک دو بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ ان کی سرپرستی میں پرورش پانے والی شدت پسند تنظیمیں بھی تھیں… یہ اس سب کا شاخسانہ تھا وہ جو باہمی برداشت پر مشتمل تھا تمام تر تخریبی سلیبس قرآن و سنت میں ہمارے دل و دماغ میں پیوست کئے تھے خاک ہو کر رہ گئے… وہ تو غنیمت ہوا کہ قوم کا اجتماعی شعور جاگ اٹھا ندامت کا عالم طاری ہوا… علماء کی بھاری اکثریت کا شعور بھی بیدار ہوا… اس گھٹیا حرکت کا
فوری طور پر نوٹس لیا گیا… لیکن تاریخ عالم کی سب سے مقدس ہستی کے نام پر جس پر ہمارے دل و جان فدا رہتے ہیں ہم نے اس پرلے درجے کی حرکت کی کہ اس کا کاری زخم تادیر مٹایا نہیں جا سکے گا… یہ موقع ہے کہ پوری کی پوری قوم سخت خوداحتسابی عمل سے گزرے… جو لوگ حُرمتِ رسول کے نام پر ہمارے جذبات سے کھیلتے ہیں سیاست کرتے ہیں اس مقتدر قوتوں کے ہاتھوں سے بھی کھیل جاتے ہیں اور اپنی چھوٹی بڑی تنظیمیں بنا کر عامتہ الناس کو جذباتی راہوں پر ڈال دیتے ہیں… ان پر کڑی نگاہ رکھی جائے… حضورؐ کی ذات گرامی ہمیں اعلیٰ درجے کی مہذب زندگی اور شائستہ اطوار اپنانے کا سبق دے گئی تھی نہایت درجہ شرم کی بات ہے کہ ہم نے ان کے نام نامی کو وقتی اور گھٹیا سیاست کے لئے استعمال کیا اور ایسا نتیجہ سامنے آیا جو ملکی سیاسی فضا کو بھی مکدر کر گیا اور سیالکوٹ واقعہ نے تو بالکل ہی ہماری شرم وحیا کی لٹیا ڈبو کر رکھ دی… لازم ہے کہ ہر فرقے کے علماء کرام سمیت ریاستی اداروں میں بیٹھے دانشور حضرات ایسی تنظیموں کے خیالات، نعروں اور گھٹیا درجے کے لٹریچر کا نوٹس لیں… عوام کے دل و دماغ میں ان تعلیماتِ قرآنی اور احادیثِ نبوی کی تعلیمات کو پیوست کریں… جن کے لئے قرآن اترا تھا اور نبوی آخرالزماں نے اپنی شاندار اور باکمال زندگی کے کئی سال صرف کیے تھے…
سیاسی لینڈسکیپ پر بھی ایک بڑے واقعے نے ملکی سیاست کے اندر زلزلہ سا پیدا کر دیا… صوبہ خیبرپختونخوا میں کچھ اضلاع میں جو بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے ان کے نتائج نے جہاں حکمران جماعت کے پائوں تلے سے زمین سرکا کر رکھ دی وہیں پوری قوم کو یہ جان فزا پیغام ملا کہ ہمارا مستقبل اتنا برا نہیں… عمران خان کو اپنے گھر کی وکٹ پر شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا… سبب اس کا عمران خان غلط امیدواروں کا چنائو قرار دیتے ہیں… ان کی جماعت کے وزراء آسمانوں سے بات کرتی ہوئی مہنگائی کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں… جب کہ عام رائے یہ ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں گڈگورننس کے ان تمام تصورات کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا ہے جن کا خان بہادر اُٹھتے بیٹھتے پرچار کیا کرتے تھے… اور دوسری جماعتوں کے مقابلے میں اپنا امتیاز بناتے تھے یہ شکست اتنی غیرمتوقع تھی کہ غیرآئینی حکمرانوں جنہوں نے بڑے ذوق و شوق کے ساتھ نوازشریف کی جائز حکومت کو ایک بوگس عدالتی فیصلے کے ذریعے دوہزار اٹھارہ (2018) کے انتخابات میں مرضی کے نتائج پیدا کر کے اپنے شہزادے کھلاڑی کو مسند اقتدار پر لا بٹھایا کہ وہ تبدیلیاں لائے گا جو نوازشریف جیسے غیرمطیع اور آئین کی پابندی پر اصرار کرنے والے قومی لیڈر سے ممکن نہ تھیں حالانکہ اس نے ہر شعبے میں ترقی کے نئے دیے روشن کئے اور امید کے کئی دیے جلائے تھے… اس نے ساڑھے تین سال میں ہی اُلٹے نتائج پیدا کر دیئے… اقتصادی لحاظ سے ملک کی تباہی کا سامان پیدا کیا… نظم و ضبط کا ستیاناس کر دیا اور اپنے ہی گھر صوبہ سرحد کے عوام کو اس حد تک مایوس کیا کہ وہ حددرجہ نالاں ہو کر رہ گئے… عمران خان کے لیے بھی بلدیاتی انتخابات کے نتائج مایوس کن حد تک سامنے آئے… مولانا فضل الرحمن کو کچھ افغانستان میں طالبان کی حکومت کی وجہ سے کچھ اس زبردست عمران اور اسٹیبلشمنٹ مخالف کمپین کی بنیاد پر جو نوازشریف سے مل کر انہوں نے چلا رکھی تھی تقویت ملی… ان چنائو میں کامیابی ان کے لئے سرخروئی ثابت ہوئی… اب بقیہ خیبرپختونخوا اور پنجاب جیسے بڑے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور نتائج کے انعقاد کا انتظار ہے… حالات کرکٹ کے کھلاڑی کے لیے پُرامید نظر نہیں آتے… اسی امر نے بڑے اور غیرآئینی حکمرانوں کو اس سوچ میں مبتلا کر دیا ہے کہ ملک ان کے چنیدہ سیاست دان کے ہاتھوں چلنے کے قابل نہیں رہا … جو تجربہ انہوں نے نوازشریف کو اُتار پھینک کر کیا تھا وہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آ رہا… اب شنید یہ ہے کہ نوازشریف کے ساتھ ازسرِنو روابط قائم کیے جا رہے ہیں… لندن میں روابط قائم کئے گئے ہیں، معذرتیں بھی ہوئی ہیں… اس مردِ آئین و جمہوریت کی بنیادی شرط یہ ہے آئینِ پاکستان کو مکمل طور پر بحال کیا جائے… ماتحت ادارے اس کی سختی سے پابندی کریں… نیز قومی سطح پر نئے انتخابات منعقد کئے جائیں، جن میں اپنے آپ کو ناجائز طور پر بالاتر سمجھنے والے ادارے کسی قسم کی مداخلت سے مکمل اجتناب کریں جو بھی نتائج سامنے آئیں انہیں من و عن درست سمجھ کر عوام کے صحیح معنوں میں منتخب نمائندوں کی حکومت قائم کی جائے… اس کے خلاف بوگس مقدمات واپس لئے جائیں تو وہ واپس آئے گا تو ملک و قوم کی گاڑی کو ایک دفعہ پھر راہ راست پر لانے میں مددگار ثابت ہو گا… یہ تجویز معقول ترین حد تک صائب ہے… اس پر عمل پیرا ہونے پر ہی ہمارے مستقبل کے لئے بہتر لائحہ عمل پایا جاتا ہے… اب معلوم نہیں اوپر کیا کھچڑی پک رہی ہے لیکن کچھ نہ کچھ لے دے ضرور ہو رہی ہے… اُمید ہے لندن میں ہونے والے مذاکرات آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی پر منتج ہوں گے… جن سے تین مرتبہ منتخب ہونے والے سابق وزیراعظم جس کے خلاف اب تک کسی مقدمے کا ثبوت نہیں مل سکا کی واپسی کی سر راہیں کشادہ ہو جائیں گی… اگر ایسا ہو گیا تو پاکستان میں آئین جمہوری اور اقتصادی ترقی کی دوبارہ راہیں کھلنا شروع ہو جائیں گی… تاہم سب سے بڑی اُمید آئندہ انتخابات سے وابستہ کی جا سکتی ہے جو جتنے بھی آزاد اور شفاف ہوں گے خواہ وہ کسی کو ہی منتخب کریں قوم کے لیے اُتنا بھلا ہو گا…

تبصرے بند ہیں.