خیبر پختونخوا انتخابات اور مہنگائی!

48

آج کل خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات، اہم تریں موضوع بن چکے ہیں۔ اخبارات پر نظر ڈالو یا الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز دیکھو، ہر جگہ یہی بحث چل رہی ہے کہ پی۔ٹی۔آئی کو کیوں شکست ہوئی۔ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص جمیعت العلمائے اسلام کی کارکردگی کیوں اچھی رہی؟ وزراء بھی پی۔ٹی۔آئی کی کمزور کارکردگی کے بارے میں مختلف بیانات دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ناقص پر فارمنس کی بڑی وجہ غلط امیدواروں کو ٹکٹ دینا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا میں اگلے انتخابی مرحلے کے لئے امیدواروں کا چناو میں خود کروں گا۔ حکومتی جماعت کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ پارٹی کے اندر یکجہتی نہیں تھی جس کی وجہ سے اپوزیشن کو فائدہ پہنچا۔ اپوزیشن اپنے دلائل رکھتی ہے۔ پی۔ٹی۔آئی کی مخالف جماعتوں کا کہنا ہے کہ دراصل عوام نے تحریک انصاف پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے کیوں کہ وہ حکومتی کارکردگی سے مطمین نہیں۔ پی۔ٹی۔آئی کے اندر سے یہ آواز بھی آئی ہے کہ عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں اس لئے انہوں نے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔
انتخابات، جب بھی اور جس سطح کے بھی ہوں، سیاست میں ہلچل سی ضرور پیدا ہوتی ہے۔ نتائج کو عام طور پر عوامی رائے کا مظہر خیال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہارنے والے عام طور پر دھاندلی کا رونا روتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سامنے آنے والے نتائج کو اپوزیشن اور پی۔ٹی۔آئی دونوں نے تسلیم کر لیا ہے۔ ہارنے کے باوجود تحریک انصاف کی صوبائی یا مرکزی حکومت نے دھاندلی کا الزام نہیں لگایا۔ جیتنے والے اس لئے خوش ہیں کہ وہ جیت گئے اس لئے وہ بھی انتخابات کو درست قرار دے رہے ہیں۔ یہ اچھی علامت ہے۔ انتخابی عمل کے دوران بعض ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ کچھ افراد کا خون بھی ہوا۔ بعض جگہوں پر پولنگ روکنا پڑی۔ لیکن   ‘فافن’  سمیت مبصرین کی یہ رائے بہت خوش آئیند ہے کہ الیکشن دھاندلی سے پاک تھے۔ کسی طرف سے بھی انتخابی عمل میں مداخلت نہیں ہوئی۔ گنتی کے بارے میں بھی زیادہ شکایات سامنے نہیں آئیں۔ بالعموم انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔
دوسرا انتخابی مرحلہ کس طرح کے نتائج سامنے لاتا ہے؟ کیا ان نتائج سے حکومتی موقف کی تصدیق ہو جائے گی؟ کیا عمران خان کے چنے ہوئے امیدوار بہت بہتر کارکردگی دکھائیں گے؟ کیا اپوزیشن کی اس دلیل کو تقویت ملے گی کہ مسئلہ پی۔ٹی۔آئی کے امیدواروں کا نہیں، حکومت کی کارکردگی کا ہے جس سے اب عوام نالاں ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی بلدیاتی انتخابات ہونا ہیں۔ ان کے نتائج سے یقینا اندازہ ہو سکے گا کہ کیا خیبر پختونخوا کا معاملہ صرف ناموزوں امیدواروں کا تھا یا اس کے اسباب کچھ اور ہیں۔
ایک سبب جس کا اعتراف خود حکومتی وزرا نے بھی کیا ہے اور جس کا ذکر اپوزیشن جماعتیں بھی تسلسل کے ساتھ کر رہی  ہیں،شدید قسم کی مہنگائی ہے۔ اس مہنگائی نے واقعی عوام کی زندگی پر انتہائی سنگین اثرات ڈالے ہیں۔ جب روزمرہ استعمال کی اشیاء مثلا آٹا، چینی،گھی، دالیں ، دودھ، روٹی، نان، گوشت، سبزیوں کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور اس حوالے سے افراط زر کی شرح 20 فیصد کو چھونے لگے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محدود اور کم آمدنی والے کنبوں پر کیا گزر رہی ہے۔ اشیائے خوردونوش کے علاوہ بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے اوسط درجے کے خاندانوں کا گزارا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ اسی دوران ادویات کی قیمتیں مریضوں کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ بڑے کاروباری طبقات بھی مسلسل عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ کارخانوں کو کہیں بجلی میسر نہیں اور کہیں گیس مہیا نہیں۔ اس کے برے اثرات ملکی صنعت اور برآمدات پر پڑ رہے ہیں۔ درآمدات اور برآمدات کے فرق کے باعث تجارتی خسارہ ریکارڈ حدوں کو چھونے لگا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک افغانی، دو روپوں کے برابر ہو گیا ہے۔ بنگلہ دیشی ٹکہ بھی روپے کے مقابلے میں دگنی قیمت رکھتا ہے۔ یہ خبر بھی تشویشناک ہے کہ بیرون ملک، خصوصا متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرنے والے سمندر پار پاکستانی، سرکاری طور پر بنکوں کا چینل استعمال کرنے کے بجائے ہنڈی اور حوالہ کا راستہ اختیار کر رہے ہیں کیونکہ وہاں انہیں ڈالر 190 روپے کے لگ بھگ قیمت دے رہا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے ترسیل زر میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو زر مبادلہ کے ذخائر پر دباو بڑھے گا ور روپیہ کی قیمت مزید گر جائے گی۔ اس ساری صورت حال کی آخری ضرب عوام پر ہی لگے گی جو پہلے ہی سنگین قسم کی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ جب چالیس فی صد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قومی معیشت کس حال میں ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر معاملہ سیاست کی نذر ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے بعد بھی حکومت اور اپوزیشن اپنا اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہیں۔ اصل مسئلے کی طرف اب بھی توجہ نہیں دی جا رہی ہے جو یہ ہے کہ مہنگائی نا قابل برداشت ہو چکی ہے۔ لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے سڑکوں اور چوراہوں میں بھیک مانگنے والے گداگروں کی تعداد میں بے تحاشاا اضافہ ہو گیا ہے۔ ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آئی۔ایم۔ایف کے دباو پر ایک منی بجٹ آنے والا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں ہر بجٹ ، مہنگائی کی نئی لہر لے کر آتا ہے۔ اسباب کچھ بھی ہوں۔ مہنگائی پر قابو پانے کی ذمہ داری حکومت ہی کے سر آتی ہے۔ بہتر ہو کہ حکومت انتخابی جیت کے لئے سیاسی حکمت عملی بنانے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے اس شدید عذاب سے عوام کو نجات دلانے کے لئے کوئی فوری اور موثر حکمت عملی بنائے۔

تبصرے بند ہیں.