خیبر پختونخواہ بلدیاتی الیکشن اور پنجاب اوورسیز کمیشن

40

خیبر پختونخواہ کی ایک نمبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں عوام نے دو نمبر بنا دیا ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ،وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیںکہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ میں امیدواروں کے انتخاب میں غلطیاں کی ہیں جس کی سزا پہلے مرحلے میں اسے مل گئی ہے، وزیر اعظم کا کہنا اپنی جگہ بجا مگر لوگوں نے مہنگائی اور بے روزگاری پر اپنا غصہ نکالاہے ،اگر وزیر اعظم کو اب بھی اس کی سمجھ نہیں آ رہی تو ،،جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔دوسری طرف یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخواہ حکومت نے پاکستانی تاریخ میں پہلی بار براہ راست ووٹوں کے ذریعے بڑے شہروں کے مئیرز کے الیکشن کرائے،جو ایک قابل تعریف قدم ہے جبکہ سیاسی پنڈت اور گھاگ سیاستدان اس کے خلاف تھے۔سیاست میں ہار جیت چلتی رہتی ہے اور حکومتی پارٹی کو امیدواروں کی بھر مار کی وجہ سے بھی فیصلے کرنے میں پریشانی ہوتی ہے ،دیکھیں تحریک انصاف وہاں دوسرے مرحلے میں کیا کارکردگی دکھاتی ہے ،ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی عوام نے لفٹ نہیں کرائی،انہیں بھی اس پر غور کرنا ہو گا کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔
پنجاب کے بلدیاتی انتخابات ابھی دور ہیں مگر خیبر پختونخواہ کے الیکشن سے کم از کم تحریک انصاف پنجاب کو سبق سیکھنا چاہئے،گو یہاں مختلف دوسرے معاملات میں پنجاب حکومت کافی بہتری دکھا رہی ہے،خصوصی طور پر میں آج ذکر کروں گا پنجاب اوورسیز کمیشن کا ،اس وقت جہاں اکثر منتخب نمائندے اور وزرا اپنے اپنے محکموں میں کچھ نہیں کر رہے وہاں مخدوم سید طارق محمود الحسن نے صرف تین مہینوں میں کمال کر دیا ہے ،لگتا ہے انہوں نے پنجاب میں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ایک سرائے کھول دی ہے جہاں ان کے کام تو ہوتے ہیں ،مسائل کا حل بھی نکلتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کے قیام طعام کا بھی بندوبست ہوتا ہے۔مجھے اس دفتر میں جانے کا اتفاق ہوا تو لگا جیسے میں کسی کمیونٹی سنٹر میں آ گیا ہوں جہاں اوورسیز پاکستانیوں کا جمگھٹالگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ساتھ لنگر یعنی کھانے کا بھی وسیع انتظام تھا ،دیگوں اور ڈالوں کے منہ کھلے ہوئے تھے ،یہ بھی پتہ چلا سب کچھ مخدوم صاحب اپنے پلے سے کر رہے ہیں جس کے بعد مجھے وزیر اعلیٰ بزدار کے انتخاب کی داد دینا پڑی۔
جس طرح وزیراعلیٰ پنجاب نے اوورسیزپاکستانیوں کے مسائل کا حل اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے اور مخدوم طارق جیسے متحرک اور محنتی قانون دان کو پنجاب اوورسیز کمیشن کی ذمہ داریان تفویض کی ہیں اس ادارے میں ایک نئی تبدیلی آگئی ہے اور اب تارکین وطن پاکستان خصوصاً پنجاب میں خود کو بہتر اور ایزی تصور کرتے ہیں۔وائس چیئرمین اوورسیز کمیشن مخدوم طارق نے ایک اندوہناک حادثہ میں اپنے جگر کے ٹکروں کو کھو دیا تھا جس کے بعد اپنے زخموں کو مندمل کرنے کیلئے انسانیت کی خدمت کا سہارا لیا جس کی وجہ سے آج پوری دنیا میں موجود پاکستانی ان کی خدمات سے مستفید ہورہے ہیں۔
انہوں نے بطور وائس چیئرمین اپنے نوے دن مکمل کر لیے ہیں اور ان نوے دنوں میں انہوں نے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں جو کہ اس سے پہلے سالوں میں ممکن نہیں ہوسکے تھے۔بطور وائس چیئرمین اوورسیزپاکستانیز کمیشن چارج سنبھالتے ہی انہوں نے اوورسیزپاکستانیوں کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے بذریعہ موبائل ایپلیکیشن درخواستیں وصول کرنی شروع کردیں جس سے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ادارے کی سروسز فنگر ٹپس پرآ گئیں،صرف یہی نہیں انہوں نے او پی سی کی ویب سائٹ کو دوبارہ سے آسان اور بہتر بنوایا تاکہ شکایات کنندگان کو آسانی حاصل ہو اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے 24/7ہیلپ لائن کا آغاز کیا جہاں جدید کال سنٹر نمبرز 0092-42-99202299 اور 0092-42-99205745 پر او پی سی کے نمائندے دن رات اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے اندراج اور ان کے ازالہ کیلئے موجود رہتے ہیں اور اب اوورسیز پاکستانی ٹائم زون کی قید کے بغیر چوبیس گھنٹے ہیلپ لائن سے استفادہ کرسکتے ہیں۔چونکہ اوورسیز پاکستانیوں کو ایل ڈی اے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل ڈی اے میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی کاؤنٹر بنوایا ہے،اسی طرح او پی سی کے دفتر میں ٹیوٹا کا خصوصی ڈیسک قائم ہے جہاں پر اوورسیز پاکستانیوں کوٹیوٹا کے حوالے سے معلومات اور تربیت کا بندوبست کیا جائیگا۔ملک میں سیاحت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے او پی سی میں محکمہ ٹورازم اور بورڈآف انویسٹمنٹ کے تعاون سے مخصوص ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔اپنی کاوشوں اور انتھک محنت سے انہوں نے صرف نوے دن میں 1254شکایات کا ازالہ کیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
نوے روز کی تکمیل کیساتھ ہی وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ پنجاب میں تارکین وطن کا ایک ایسا اکٹھ کر رہے ہیں جہاں پہلی دفعہ اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کو سراہا جائیگا۔پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن کانفرنس2021بزدار حکومت کا ایک انتہائی اچھا قدم ہے جس میں جاپان سے لیکر ہوائی تک دنیا کے ہر خطہ سے اوورسیز پاکستانیوں کے وفود شرکت کر رہے ہیں۔
یہ سب مخدوم صاحب کی محنت کی وجہ سے ہی ممکن ہوپایا ہے کہ جاپان، آسٹریلیا،یورپ اور امریکہ کے اہم اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان آکر اپنی سروسز کو والنٹیئر کیا ہے ،جس کی وجہ سے اوورسیز پاکستانی پاکستان تحریک انصاف کیلئے بہت اہم ووٹ بینک بنتے جارہے ہیں۔اپنے قیام کے سات سالوں میں یہ کمیشن کبھی بھی اتنا مؤثر نہیں رہا جتنا اس وقت ہے، پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن نے جہاں گزشتہ دور حکومت میں صرف 37فیصد درخواستیں نمٹائی تھیں آج بزدار سرکار کے صرف تین سالوں میں ان درخواستوں کی اوسط 63فیصد ہے جن میں اوورسیز پاکستانیوں کو ریلیف مہیا کیا گیا ہے۔صرف تین سالوں میں گیارہ ہزار سے زائد درخواستوں کو نمٹانا اس امر کا ثبوت ہے کہ بزدار حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے کس قدر سنجیدہ ہے۔
وائس چیئرمین خود ایک اوورسیز پاکستانی ہیں،اس لئے وہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے چارج سنبھالتے ہی او پی سی پنجاب کے تمام دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی کا اطلاق کر دیا جس کی وجہ سے اب کوئی بھی اوورسیز پاکستانی بغیر کسی روک ٹوک کمیشن کے دفاتر تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اس دفتر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے تاکہ انہیں احساس ہو کہ اگر وہ اس ملک کو بھاری زرمبادلہ دے رہے ہیں تو اس کے بدلے میں انہیں بھی عزت اور احترام مل رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.