اب بھی وقت ہے۔۔۔

41

خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی شکست پر اپنی اپنی پسند کی تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں۔ لیکن ایک بات کا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت کو جاتا ہے کہ کے پی کے کے بلدیاتی انتخابات کی شفافیت پر کوئی سوال نہیں اٹھا جو کہ خوش آئند ہے۔ اس سے بڑھ کر وزیر اعظم نے شکست کی ذمہ داری تسلیم کر کے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے لیکن جب تک اس شکست کے ذمہ داران کے خلاف بلا تفریق اور سخت کارروائی نہیں ہو گی اس وقت تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
پی ٹی آئی کی اس شکست کے پیچھے بظاہر جو متفقہ رائے نظر آتی ہے اس میں دیگر عوامل کے علاوہ مہنگائی اور بے روزگاری سر فہرست ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی نے ہر شعبہ زندگی کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور عوام کی بنیادی ضرورت دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ترین ہو چکا ہے۔ اگر سیاسی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں پی ٹی آئی کی ناقص انتخابی و سیاسی حکمت عملی کا بھی بڑا حصہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اقربا پروری، موروثی سیاست اور پارٹی کی اندرونی رسہ کشی بھی اس شکست کا سبب بنی۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی ان انتخابات کے اگلے مرحلے میں ان خامیوں پر کس حد تک قابو پاتی ہے اور کیا نتائج دیتی ہے اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں۔
دوسری طرف مخالفین ان انتخابات کے نتائج کو عوام کا حکومت پر عدم اعتماد قرار دے رہے ہیں اور اس کے تناظر میں عام انتخابات کے نتائج بھی اخذ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ 2023 کے انتخابات میں بھی کے پی کے میں پی ٹی آئی کا یہی حال ہو گا۔ گو کہ یہ دعویٰ قبل از وقت ہے لیکن اگر پی ٹی آئی نے بلدیاتی انتخابات کے اگلے مرحلے میں اپنی حکمت عملی بہتر نہ بنائی، مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو نہ پایا تو حالات اس سے بھی بد تر ہو سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور جمعیت اسلام لیکن مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کو سابق صدر آصف علی زرداری کا مشکور ہونا چاہیے جنہوں نے انہیں ضمنی انتخابات، سینیٹ انتخابات سمیت سسٹم میں رہ کر جدوجہد کرنے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی شکست کی ایک وجہ اپنے منشور سے ہٹنا ہے۔ اگر ان انتخابات کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں جہاں جہاں سے پی ٹی آئی ہاری ہے اس کی ایک وجہ ٹکٹوں کی تقسیم میں حقداروں کے بجائے موروثی سیاست اور اقربا پروری کو ترجیح دینا تھا جسے پارٹی کارکنوں نے مسترد کر دیا اور انہوں نے اس نا انصافی کے خلاف آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا۔ اس طرح ایک ایک نشست پر پی ٹی آئی کے تین تین امیدوار کھڑے ہو گئے جس کہ وجہ سے ووٹ تقسیم ہو گیا اور پارٹی ٹکٹ ہولڈر کی شکست کا سبب بنا۔ اس کی تمام تر ذمہ داری ٹکٹوں کی تقسیم کرنے والی کمیٹی، کے پی کے کی مقامی قیادت اور وزیر اعلیٰ کے پی کے پر ہے جنہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے موروثی سیاست کے حوالے سے ویژن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حقدار امیدواروں کے بجائے اپنے چاچے مامے، بھانجے بھتیجے داماد اور بیٹوں کو ترجیح دی جسے پی ٹی آئی کے ووٹرز نے مسترد کر دیا، اس کا نتیجہ شکست کی صورت میں نکلا۔
کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان کی دوسرے اور تیسرے نمبر کی جماعتیں ہونے کی دعویدار مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی شکست ہوئی اور کے پی کے کے عوام نے انہیں بھی مسترد کر دیا۔ مسلم لیگ ن کے لیے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کے پی کے عوام نے ان کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو رد کر دیا۔ اسی طرح روٹی کپڑا اور مکان کی دعویدار جماعت کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان جماعتوں کی قیادت کو بھی بلدیاتی انتخابات کی شکست سے سبق سیکھتے ہوئے 2023 کے انتخابات کے لیے بہتر حکمت بنانا ہو گی۔
جے یو آئی نے اپنی بہتر حکمت عملی یا حکمران جماعت کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے بہتر کارکردگی دکھائی اور فاتح ٹھہری۔ یقینا اگر پی ٹی آئی کی یہی حکمت عملی رہی تو اس کا اثر عام انتخابات پر بھی پڑے گا جس کا فائدہ اپوزیشن اٹھائے گی۔ کچھ لوگ ہمیشہ کی طرح عادت سے مجبور پی ٹی آئی کی شکست کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ رہے ہیں اور اس بیانیے پر رائی کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ان انتخابات میں جن نتائج کا سامنا کرنا پڑا اس کی ذمہ داری ان کی حکمت عملی پر آتی ہے۔
کے پی انتخابات کے بعد مریم نواز کے اس بیان میں جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو 2023 کے انتخابات میں ہیلمٹ پہن کر عوام میں آنے کو کہا ہے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے تشدد پر اُکسانے سے تشبیہ دی گئی۔ سیاستدانو ں کو اس قسم کے رویوں کے بجائے رواداری کو فروغ دینا چاہیے۔ اس دوران مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک ہوئی جس میں وہ دو میڈیا ہاؤسز کا نام لے کر کہہ رہی کہ ان کے ذریعے انہوں نے مخالفین کی بینڈ بجا دی۔ یہ افسوسناک ہے اور سیاست دانوں کو سمارٹ فون کے اس دور میں لفظ تول کر بولنے چاہئیں۔

قارئین کالم کے بارے میں اپنی رائے وٹس ایپ 03004741474 پر بھیجیں۔

تبصرے بند ہیں.