اسرائیلی وزیراعظم نے ایران پر نیوکلیئر بلیک میلنگ کا الزام عائد کر دیا

36

تل ابیب: اسرائیل کے وزیراعظم نفتالی بینٹ نے ایران پر نیوکلیئر بلیک میلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر عائد پابندیاں ہٹائی گئیں تو وہ ملنے والی رقم سے اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے لیے ہتھیار تیار کرے گا۔

 

خلیجی نشریاتی ادارے العربیہ میں شائع ہونے والی عالمی خبر رساں ایجنسی کی جاری کردہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوین تل ابیب پہنچے ہیں۔

 

تل ابیب پہنچنے والے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر کی سب سے پہلے اسرائیل کے صدر آئزک ہیزروگ سے ملاقات ہوئی جنہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

 

واضح رہے کہ ویانا میں ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں جو تاحال نتیجہ خیبز ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ اسرائیلی صدر سے ملاقات کے بعد امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلوین نے وزیراعظم نفتالی بینٹ سے بھی ملاقات کی ہے۔

 

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے ہونے والی ملاقات میں ویانا میں جاری مذاکرات روکنے پر بھی زور دیا۔ جیک سلوین کی تل ابیب میں لینڈنگ سے قبل ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہونے والی ملاقات میں ایران ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔

 

امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلوین کی فلسطین کے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات شیڈول ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اسرائیل کی فوجی قیادت نے مظاہرین کے خلاف گولیاں چلانے کے جو احکامات جاری کیے ہیں، اس پر بھی بات ہو گی یا نہیں؟

 

اسرائیل کی فوجی قیادت نے دو دن قبل فوجیوں کو اجازت دی ہے کہ وہ پتھراؤ کرنے والے مظاہرین پر گولیاں چلا سکتے ہیں جسے فلسطینی قتل عام کا لائسنس جاری کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے اس ضمن میں گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ عالمی اداروں سے باقاعدہ رجوع کرے گی۔

تبصرے بند ہیں.