مزاحمت کریں گے ہم

75

فرحت عباس شاہ سے پہلا تعارف آٹھویں کلاس میں شہباز احمد(کلاس فیلو) کے توسط سے ہوا۔ہم سکول سے چھٹی کے بعد عموماً ’’ایوننگ واک ‘‘کے لیے کھیتوں کی جانب نکل جاتے‘ دن بھر کی تکان اتارنے کا بہترین راستہ شاعری ہوتا‘ایک دوسرے کو شعر سناتے اور ان کی تفہیم پر گھنٹوں بحث کرتے۔ اس دور میں اگرچہ شعری شعور کچھ زیادہ نہیں تھا مگر آپس میں گفتگو کے دوران اکثر اوقات شعر پر اچھی بات ہو جاتی۔ایوننگ واک کے دوران ہمارے ہاتھ میں ’’کلیاتِ ساغر‘ ‘ہوا کرتی‘ایک دن شہباز مجھے کہنے لگا :’’ آج ایک نئی کتاب ہاتھ لگی ہے‘‘وہ کتاب فرحت عباس شاہ کی’’شام کے بعد‘‘ تھی۔بس پھر اگلے کئی دن ’’شام کے بعد‘‘ہمارے حواس پر چھائی رہی‘کلاس کے دوران بھی اور چھٹی کے بعد بھی اسی کتاب کے اشعار ہمارے ہاں زیرِ بحث رہتے۔یہی وہ زمانہ تھا جب اردو زبان کے رومانوی اور ادبی منظر نامے پر فرحت عباس شاہ چھایا ہوا تھا‘سکول سے لے کر یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس تک ’’شام کے بعد ‘‘کا چرچا تھا۔ہم اکثر یہ بات کرتے کہ جیسی تازگی اور ندرت فرحت عباس شاہ کے ہاں ہے‘ایسی شاید ہی دوبارہ کسی کو نصیب ہو‘چند ماہ میں ’’شام کے بعد‘‘کے ریکارڈ ایڈیشن فروخت ہوئے اور نوجوان نسل فرحت شاہ کی دیوانی ہو گئی۔
پھر اس وقت خوشی کی انتہا نہ رہی جب فرحت عباس شاہ نے اپنے ٹی وی پروگرام’’شام کے بعد‘‘میں بطور نوجوان شاعر مدعو کیا‘میں ٹیلی فون سے آن لائن شریک ہوا تھا اور پروگرام میں اپنی ایک تازہ غزل سنائی تھی۔یہ تعارف یقینا پہلے سے زیادہ مضبوط تھا جب اپنے پسندیدہ شاعر کے پروگرام میں شرکت کرنے کا موقع ملا اور ان سے فون پر داد وصولی۔تیسری بالمشافہ ملاقات لاہور چیمبر آف کامرس کے ریڈیو پروگرام میں ہوئی جسے فرحت
عباس شاہ ہوسٹ کرتے تھے‘مجھ ناچیز کا بطور نوجوان شاعر لائیو انٹرویو کیا اور شاعری سنی‘یہ ملاقات اور انٹرویو بہت اہم رہا۔پھر جب مستقل طور پر لاہور آ گیا تو فرحت عباس شاہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔
مئی 2016ء میں برادر ضیاء شاہد نے کراچی میں آرٹس کونسل کے تعاون سے جشنِ فرحت عباس شاہ رکھا اور لاہور سے فرحت عباس شاہ ‘ڈاکٹر تیمور حسن تیمور اور راقم کو مدعو کیا۔اس سفر میں بھی فرحت عباس شاہ کو انتہائی قریب سے دیکھنے ‘سننے اور سمجھنے کا موقع ملا اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ فرحت عباس شاہ کو ملنے والی محبت اور شہرت خدا کی عطا ہے کیونکہ اس محبت میں کہیں بھی لالچ‘خود غرضی اور ذاتی مفاد نہیں تھا‘لوگ فرحت عباس شاہ سے محبت اس کے کام کی وجہ سے کرتے ہیں اور بلاشبہ یہی محبت دائمی ہوتی ہے۔ایسا تعلق جس میں لالچ‘مفاد پرستی اور ذاتی غرض آ جائے ‘وہ تعلق اپنی موت آپ مر جاتا ہے‘فرحت عباس شاہ سے محبت کرنے والے لوگوں کو فرحت عباس شاہ سے کوئی لالچ نہیں اور نہ ہی فرحت عباس شاہ بلندی پر پہنچنے کے لیے کسی سیڑھی کے متلاشی ہیں۔خدا نے فرحت عباس شاہ کو مقام و مرتبہ شعر کی بنیاد پردیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 1980ء کی دہائی میں شعری منظر نامے پر نمودار ہونے والے فرحت عباس شاہ دیکھتے ہی دیکھتے ادبی دنیا پر چھا گئے‘پچاس سے زائد کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ان کے پاس خیالات‘احساسات اور الفاظ کا ذخیرہ ہے‘وہ گزشتہ تیس سال سے لکھ رہے ہیں ‘اس سفر میں کہیں ان کے قدم ڈگمگائے اور نہ ہی کسی پراپیگنڈے سے خوف کھا کر ترکِ سفر کیا۔ ایک نڈر‘ بے باک اور کھرا تخلیق کار ہونے کی یہی دلیل ہے کہ جو آپ کے دل میں ہو‘ وہی زبان اور قلم پہ بھی ہو۔ لابیاں بنانے والے‘ پراپیگنڈا کرنے والے‘ شاگردوںکو لکھ کر دینے اور اپنے اعزاز میں شامیں سجانے والے یہ بھونڈی حرکتیں کرتے رہ گئے اور فرحت عباس شاہ اپنے شعر کی بنیاد پر بہت آگے نکل گئے۔میں اکثر دوستوں سے کہا کرتا ہوں کہ شاہ صاحب چونکہ ایک صاف اور شفاف انسان ہیں‘وہ منافق نہیں اور نہ ہی منافق انسان کو پسند کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ’’سرکار بہادر‘‘ کی نگاہ کے بغیر شہرت حاصل کی اور اس شہرت کی وجہ سے دشمن بھی پیدا کر لیے۔یہ ایک کامیاب اور سیلف میڈ آدمی کی نشانی ہوتی ہے وہ جس قدر کامیاب ہوگا ‘اس کے دشمنوں اور حاسدین کی تعداد بھی اسی تناسب سے بڑھتی جائے گی لہٰذا فرحت عباس شاہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔لیکن میں ایک بات بڑے وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ فرحت عباس شاہ نے کامیابی اور شہرت کے لیے کسی کا حق نہیں مارا‘کسی کی رکھی ہوئی بنیادوں پر عمارت نہیں بنائی بلکہ خود محنت کی اور اپنی محنت پر کامیابی کی عمارت تعمیر کی‘یہی وجہ ہے کہ ان کو نہ کسی کا خوف ہے اور نہ ہی ڈر۔
حال ہی میں فرحت عباس شاہ کا تازہ شعری مجموعہ’’مزاحمت کریں گے ہم‘‘شائع ہوا ہے‘اس مجموعے کو بھی وہی شہرت ملی جو فرحت عباس شاہ کی باقی مجموعوں کو نصیب ہوتی رہی ۔اسی مجموعے سے ایک مزاحمتی غزل ملاحظہ فرمائیں۔
پھاڑوں نہ گریبان،دما دم نہ کروں میں
احساس کو اظہار سے باہم نہ کروں میں
میں روز اٹھاتا ہوں کسی خواب کی میت
اور آپ یہ کہتے ہیں کہ ماتم نہ کروں میں
سمجھاتا تو ہوں خود کو کہ مضبوط رکھوں دل
اور پلکوں کو تنہائی میں بھی نم نہ کروں میں
اک شخص دکھا دو مجھے ہنستا ہوا دل سے
یعنی کہ یہ سب دیکھ کے بھی غم نہ کروں میں
صد حیف جو مظلوم کی آواز نہ بن پائوں
صد حیف اگر شعر کو پرچم نہ کروں میں

تبصرے بند ہیں.