زبوں حالی کا شکارہمارے کسان

33

زراعت دنیا کا قدیم ترین پیشہ ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی 70فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے لیکن پھر بھی پاکستان کا کسان دن بہ دن زوال کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔ 18 دسمبر ملکِ پاکستان کو چلانے میں اہم کردار ادا کرنے والے عظیم لوگوں کا دن اس خاموشی سے آیا اور گزر گیاکہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔کسان روزِ اول سے ہی ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت اور اس سے چلنے والی صنعتوں پر منحصر ہے۔ملکی برآمدات کا نصف سے زائدانحصار ٹیکسٹائل مصنوعات پر ہے۔زراعت کا شعبہ نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں عوام کے معیارِ زندگی کوبلندکرنے اور صنعت و ملکی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے۔شہر وں میں بیٹھے بڑے فیکٹری مالکان کے کاروبار اچھی فصلوں سے ہی ترقی کے منازل طے کر رہے ہوتے ہیںاور کسان دن رات محنت میں لگے رہتے ہیں۔ان کسانوں کے دم سے لاکھوں لوگوں کو روٹی اور روزگار مل رہا ہوتا ہے جبکہ ان غریبوں کو آج تک نا تو اپنی فصلوں کا مارکیٹ میں صحیح سے معاوضہ ملتا ہے اور نا ہی کسی قسم کا ریلیف ۔ایک دہقان جو مٹی کو سونا بنانے کی لیاقت رکھتا ہے،جو بنجر زمین کو سر سبز و شاداب کھیتوں میں تبدیل کرتا ہے اور انسانوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے آج قرضوں کے بوجھ تلے دباوہی غریب کسان خودکشی پر مجبور ہے۔ انسانی دنیا میں کسان کی بہت اہمیت ہے گندم سے لے کر دال تک ،چاول سے لے کر چینی تک کسان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ صنعتوں کو خام مال یہی شعبہ فراہم کرتا ہے لہٰذا یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زرعی ترقی کے بغیر ملک و صنعتی ترقی ممکن نہیں۔ پچھلے کئی سال سے زراعت کا اہم شعبہ عدم توجہی کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے ۔آج یہ حالت ہے کہ کسان پے در پے مصیبتوں اور آفتوں سے نیم جاں پڑا ہے،زراعت مکمل تباہی کے راستے پر ہے پنجاب اور سندھ کے زرخیز میدانوں میں ٹڈی دل راج کرتی ہے۔ زراعت کے شعبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی افرادی قوت کی اکثریت شعبہِ زراعت سے منسلک ہے لیکن پاکستان کے کسان ہر سال ہو رہی ماحولیاتی تبدیلیوں،ناقص حکومتی پالیسیوں اور دن بہ دن بڑھتی مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔کھاد ،کیڑے مار سپرے اور ادویات کی قیمتیں آسمان سے بات کرتی ہیں اس کے باوجود ان تمام ادویات کے معیارکے تعین کا کوئی نظام موجود نہیں۔بدلتی ضروریات،زمانے کی تیزی اور صورتحال کی بدولت ملکی اکثریت اس شعبے کو ترک کر کے دیگر شعبوں سے منسلک ہونے پر مجبور ہے۔زراعت کی اہمیت کو سمجھنے کی اشدضرورت ہے زراعت اگر اہم ہے تو پھر کسان کسی صورت بھی غیر اہم نہیں ہوسکتا،اسے نظر انداز کرنا صرف کسان کے ساتھ ہی نہیںبلکہ اپنے ملک کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔زراعت سے وابستہ 80فیصد لوگ منافع بخش سمجھی جانے والی فصلوں میں شمار ہونے والی کپاس کی فصل کاشت کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ایک ایسے ملک میں گندم باہر سے درآمدکی جاتی ہے جہاں کے کسان لائنوں میں لگ کر اپنی گندم فروخت کرتے ہیں اور کوئی خریدار نہیں ہوتا۔ہر گزرتا دن محنتی اور جفاکش کسانوں کے لیے مایوسیاں اور نئی پریشانیاں لے کر طلوع ہوتا ہے۔ان کسانوں کی زندگی ہل چلاتے بیچ بوتے گزر جاتی ہے مگر قرض کا بوجھ ہے کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔کسی بھی حکومت نے اس متوسط طبقے کی خود مختاری کے لیے کبھی صدق دل سے کوئی اقدام کیا ہی نہیں،قرضوں کی نت نئی سکیموں کے جال میں پھنس کر ان کی ساری زندگی ذہنی اذیتوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا توپھرکسان شاید صرف اپنے کھانے کے لیے فصلیں پیدا کریں گے۔ حکومتِ پاکستان کو ان تمام مسائل کا حل نکالنا ہو گا اگر ہمارے ملک کے کسان ایسے ہی زبوں حالی کا شکار رہے تو وہ فصلیں نہیں کاشت کر پائیں گے۔ فصلیں اگر کاشت نا کی گئیں تو پاکستان کی جی ڈی پی کیسے بڑھے گی اور پاکستان کیسے ترقی کرے گا۔
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ اُمرا کے درو دیوار ہلا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلا دو

تبصرے بند ہیں.