کہانی در کہانی

51

کہانی میں حکمت اور حقیقت تلاش کرنا صاحبان حکمت اور متلاشیانِ حقیقت کا کام ہے، اور حقیقت کو کہانیوں میں گم کر دینا یقیناً عاقبت نااندیشوں کا شیوہ ہے۔ جاہلوں نے احسن القصص کو اساطیر الاولین کہہ کر پسِ پشت ڈال دیا۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہر جگہ ایک ہی کہانی دہرائی جا رہی ہے، چند کردار ہیں جو مختلف ادوار میں نت نئے انداز میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ستاروں، کرداروں کے پھیلاؤ اور کہانی کے دورانیے کا فرق ہے جو ایک کہانی کو دوسری سے ممتاز کرتا ہے۔ کردار ادا کرنے والے اداکار بدلتے رہتے ہیں جبکہ ہدائت کار وہی رہتا ہے۔ کہانی کا مرکزی خیال سمجھ میں آ جائے تو کوئی کہانی نئی کہانی نہیں رہتی۔ کہانی کو حقیقت سے جدا کرنا اور حقیقت کو کہانی کے انداز میں سنا دینا ہر کسی کے بس کا کام نہیں۔ مرکزی خیال تک پہنچنا یا خیال کے مرکز تک پہنچنا محض کارِ ہنر نہیں بلکہ ایک وجدان ہے۔ وجدان وجد سے ہے، اور وجد کے معنی ہیں پا لینا، لیکن یہ پا لینا دراصل جا لینا ہے۔ عقل تجزیہ کر سکتی ہے، احاطہ نہیں کر سکتی ہے کیونکہ یہ خود چند کلیہ جات میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ دل ہے جو آزاد ہے، کسی قاعدے، کلیے اور نصآب کی پروا نہیں کرتا، بلکہ ساتھ ہو لیتا ہے، جا لیتا ہے اور پھر پا لیتا ہے۔ عقل کو اپنے وجود کی حفاظت کے فرائض منصبی سے فرصت نہیں۔ دل روح کے ہمراہ ہو جاتا ہے۔
جس طرح ہر حقیقت کے اندر ایک اور حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے، اس طرح ہر کہانی دراصل کہانی در کہانی ہوتی ہے۔ جب تک مرکزی خیال تک نہ پہنچا جائے کہانی اپنا سبق ظاہر نہیں کرتی۔ حقیقت باطن ہے اور کہانی ظاہر ہے۔ کہانی سے حقیقت تک پہنچنے کے لیے ظاہر سے باطن کے سفر کا ذوق درکار ہوتا ہے۔ حقیقت مجرد حالت میں ہوتی ہے، اسے مجسم کرنے کے لیے کسی واقعے یا کہانی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عالمِ ظاہر میں عالمِ باطن کے حقایق تمثیل کی صورت میں پیش کئے جاتے ہیں، یہ تمثیل کہانی کا روپ دھار لیتی ہے۔ ظآہر پرست آنکھ کہانی میں اٹک کر رہ جاتی ہے، وہ واقعات اور افراد سے الجھتی رہتی ہے۔ واقعات اور افراد جس مرکزی خیال کے گرد گھومتے ہیں، جب تک اس خیال تک رسائی نہ ملے، انسان کا اپنے ارد گرد افراد اور واقعات سے جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔ جسے خیال کے مرکز تک رسائی نصیب ہوگئی، وہ واقعات میں اسباب و علل کے گھورکھ دھندے میں گم نہیں ہوتا۔ وہ ہدایت کار کی منشا تک پہنچ جاتا ہے، اور کہانی میں حقیقت کا لطف اٹھاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسباب و علل کا تانا بانا کسی طے شدہ مقصد تک پہنچنے کے لیے بْنا جاتا ہے۔
احدیت کے عالم میں کوئی کہانی نہ تھی، اس ھو کے عالم میں کوئی شاہد تھا نہ کوئی مشہود، کوئی عابد تھا نہ کوئی معبود، کوئی رازق تھا نہ کوئی مرزوق۔۔۔ کون کس کی عبادت کرتا؟ کون کس کو دیکھتا اور کون کسے رزق دیتا؟ روشنی نے عالمِ احدیت سے عالمِ وحدت کا سفر کیا، کیسے کیا اور کب کیا، اس کی کسی کو خبر نہیں، کہ اطلاع دینے والی ذات ابھی جلوہ افروز نہ ہوئی تھی۔ یہ سیر کتنے عالمین پر محیط تھی، آج ہم عالمِ ناسوت میں کھڑے ہو کر پیچھے دیکھ سکتے ہیں اور کچھ عالموں کو تعین کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن عالمِ لاتعین میں ’’کیا‘‘، ’’کہاں‘‘، ’’کب‘‘ اور ’’کب تک‘‘ کے الفاظ خلا میں دی ہوئی آواز کی طرح کوئی معنی نہیں رکھتے۔ نورِ لاتعیّن جب تعینِ اوّل پر مطلعِ انوار ہوا تو صورت ظاہر ہوئی۔۔۔ لیکن یہ صورت کسی کے لیے قابلِ مشاہدہ نہ تھی، ملائک کے لیے بھی ناقابلِ رسائی تھی، ملائک صرف امر سنتے اور تعمیل کرتے، لیکن صاحبِ امر کہاں ہے، وہ اس کا تعین نہیں کر سکتے تھے۔ چار سُو بلکہ ہر سُو پھیلے ہوئے منبع انوار نے بالآخر ناسوت کو روشن کیا۔ ناسوت میں خاک کا پتلا کثافت میں اٹا ہوتا تھا، اس میں اس کا کچھ دوش نہ تھا، اس کے پیکرِ عنصری کی تعمیر و تشکیل میں مٹی ہی بنیادی عنصر کی حیثیت میں شامل تھی۔ اس کا ظالم اور جاہل ہونا بلکہ ظلوماً جھولاً ہونا اس کے کام آ گیا، اس نے بھولپن میں وہ امانت اٹھا لی جسے اٹھانے کے لیے ارض و سما متحمل نہ تھے۔ مٹی کا زنگار اب نوری کرن کو خوب خوب منعکس کرنے لگا۔ اِس کا انکار کرنے والا اُس نور کو نہ دیکھ سکا، وہ مٹی کے عجز کو نہ پہنچ سکا، اپنی انا کے الاؤ میں جلتا رہا۔ آتشیں لپٹ خود کسی کا عکس نہیں، وہ کسی روشنی کو منعکس کیسے کر سکتی ہے۔ قصہ مختصر، بے صورت حقیقت عالمِ بشریت میں جس صورت میں مخلوق کو نظر آئی اس صورت کو عارفوں نے جان کہا، رب کی شان کہا اور ایسی شان کہا جس شان سے سب شانیں بنتی ہیں۔ لاالہ الااللہ کا کلمہ محمد رسول اللہ کی صورت میں مکمل ہوا، کلمہ مکمل ہوا اور کائناتِ ہست و بود کی غآیت اپنی نہایت کو پہنچی۔
کُن کہانی نہیں، حقیقت ہے، اور ورائے کُن تو حقیقتِ مطلق ہے۔ اس حقیقتِ مطلق کی خبر مخبرِ صآدقؐ کے ذریعے ہم پر پہنچی۔ اس خبر پر یقین ہمیں قیاس آرائیوں سے نکال دیتا ہے اور ہر کہانی میں چھپی ہوئی اصل حقیقت پر مطلع کرتا۔
بات کہانی سے شروع ہوئی تھی، حقیقت تک پہنچی۔ درحقیقت ہر کہانی میں دو ہی کردار مرکزی ہوتے ہیں—- ایک محب اور دوسرا محبوب، تیسرا کردار ولن کا ہوتا ہے، یہ کہانی کے پھیلاؤ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ برادارانِ یوسف نہ ہوں تو قصہ یوسف احسن القصص کیسے ٹھہرے۔ یہاں بھی ابلیس نے قرب کی بہشت سے نکلوا دیا، لیکن جس طرح حضرت یوسفؑ کا کنویں میں گرایا جانا ان کے عروج اور بادشاہی کی طرف بڑھنے والا پہلا قدم تھا، اسی قصہ آدم و ابلیس میں جنابِ آدمؑ کا زمین پر اتار دیا جانا ان کی خلافتِ ارضی کی کہانی کا دیباچہ ثابت ہوا۔ کہانی ازل سے جاری ہے— ابد تک جاری رہنے کے لیے۔۔۔ مقامِ غور ہے کہ ہم دیکھیں اس عظیم کہانی میں ہمارا کردار کیا ہے، اور کب تک ہے؟ لطف کی بات یہ ہے کہ اس کہانی میں جبر کہیں نہیں، یہاں ہر شخص اپنا کردار خود منتخب کرتا ہے، کوئی کردار اس پر ٹھونسا نہیں جاتا۔ وہ جیسا بننا چاہتا ہے اسے ویسا ہی کردار الاٹ کر دیا جاتا ہے، کردار نبھاتے نبھاتے جہاں کہانی کی تکیمل ہوتی ہے وہاں اس کے اپنے
کردار کی تکمیل بھی ہو جاتی ہے۔ زندگی میں کچھ لوگ ہیرو کا کردار ادا کرتے ہیں، اور کچھ اپنے لیے ولن کا کردار پسند کرتے ہیں۔ تعمیری کردار ادا کرنے والے تابندہ ستارے بنتے ہیں، دوسری طرف تخریب بپا کرنے والے، نفرت کے گنڈاسے چلانے والے مقہور وملعون قرار پاتے ہیں۔ فرعون ایسا طاقتور ولن بھی کہانی کا ماسٹر پلان تبدیل نہیں کر سکا۔ ایسے لوگ بنیادی طور پر کہانی کے مرکزی خیال ’’فوز و فلاح‘‘ سے منحرف ہوتے ہیں، اس لیے ’’کامیابی‘‘ سے کردار نبھانے کے باوجود نیک نامی سے علیحدہ کر دیے جاتے ہیں۔
اس کالم نما کہانی کا محرک ہمارے ملتان کے دوست خواجہ مظہر صدیقی بنتے ہیں، بچوں کی کہانیاں لکھتے ہیں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔ ’’کہانی گھر‘‘ خواجہ صاحب کی پانچویں کتاب ہے۔ ملتان کی ہردل عزیز شخصیت ہیں، ادیب، دانشور، مقرر اور کالم نگار کے طور پر تو پہچانے ہی جاتے ہیں لیکن ان کی ایک اور پہچان ابھر کر سامنے آ رہی ہے، اور وہ ان کی خدمتِ خلق کا حوالہ ہے۔ سٹڈی گروپ کے نام سے اہلِ فکر کا ایک جھرمٹ سجائے بیٹھے ہیں، قلم کاروں کے مابین مکالمے کا کلچر عام کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ کہانی گھر کے نام سے متعدد مقامات پر ماہانہ نشست منعقد کرتے ہیں جس میں کہانی سننے اور سنانے والوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ملتان کے علاوہ اب وہ لاہور کراچی اور اسلام آباد میں بھی کہانی گھر بنانا چاہتے ہیں۔ کہانی سنا کر بچوں کو اخلاقِ حسنہ کے اسباق یاد کرانے کا یہ انداز دعوت و ارشاد کا ایک الگ زاویہ ہے۔ یہ ہماری قدیم روایت کی نشاۃ ثانیہ بھی ہے۔ اللہ کرے گلستاں بوستاں کا دور دلوں میں گھر کر لے، یہ کہانی گھر، گھر گھر میں قائم ہو، ہم اپنے بچوں کو کہانی سنانے کے لیے وقت نکال پائیں۔ آج کے بچے اگر کل کے بااخلاق نوجوانوں کی صورت میں ہمیں میسر آتے ہیں تو اس میں خواجہ مظہر صدیقی کی خدمات کا حصہ بھی یاد رکھا جائے گا۔ میری دعا ہے کہ ملتان شہر کی طرح پاکستان کے ہر شہر کو ایک خواجہ مظہر میسر آ جائے۔ رواداری، کشادہ روئی، مہمان نوازی، تعصب و منافرت سے دوری، بلاتخصص مذہب و مسلک مخلوقِ خدا کی خدمت ایک ایسا روحانی وظیفہ ہے کہ جسے میسر آ جائے وہ ’’لاخوف‘‘ کی منزل سے دُور نہیں۔

تبصرے بند ہیں.