ہم شرمندہ ہیں!!

58

ہم اپنے بچوں سے شرمندہ ہیں۔ ہم شرمندہ ہیں‘ اپنے طالب علموں سے ، ہم شرمندہ ہیں اپنے سکول کالج اور یونیورسٹی کے بچوں سے ، ہم شرمندہ ہیں ‘ اپنے مدارس اور مساجد میں پڑھنے والے بچوں سے ، ہم شرمندہ ہیں‘ اپنی قوم سے ، ہم شرمندہ ہیں‘ اقوامِ عالم سے!!
ہم واقعی شرمندہ ہیں‘ اپنے بچوں سے ، ہم انہیں تعلیم نہیں دے سکے ، جنہیں تعلیم دے سکے ‘ انہیں تربیت نہیں دے سکے۔ ہم سکول ، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے بچوں کوفقط ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی تعلیم دیتے رہے، مقابلے کے امتحان کی تیاری ہی کراتے رہے۔دَھن میں آگے بڑھنے کی اِس دُھن میں بہت کچھ پیچھے چھوڑ آئے، ہم انہیں نہیں بتا سکے کہ ہمارا دینی اور روحانی ورثہ کیا ہے۔ ہم انہیں محبت، ایثار اور احسان کی تعلیم نہ دے سکے۔ہم اپنی انفرادی نااہلی کو نظام کی ناکامی کی آڑ میں چھپاتے رہے، ہم یہ بھول گئے کہ محبت ، احسان اور ایثار کی تعلیم کے لیے کسی ادارے ، کسی نظام کی ضرورت نہ تھی بلکہ یہ فرد سے فرد تک منتقل ہونے والا ایک ذاتی جوہرتھا۔ اس کے لیے ہمیں خود مثال بننا تھا، لیکن مثال بننے کے اہل لوگ کامیابی کی تتلی کے پیچھے دوڑ پڑے، وہ اپنی جگہ چھوڑتے رہے۔ کیا ایک فوجی کبھی اپنا مورچہ چھوڑ سکتا ہے‘ خواہ وہ سیلن زدہ مٹی کا بنا ہواہی کیوں نہ ہو۔ اہل لوگ اپنے جوہر کی ناقدری کا رونا روتے رہے ، اپنے حالات سدھارنے کے لیے ان ممالک کو سدھار گئے ‘ جہاں اُن کے جوہر کی قدر ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کی مثال اُس گاؤں کی طرح ہو گئی‘ جس کا ہر پڑھا لکھا بچہ شہر میں جا کر گھر بنا لیتا ہے اور گاؤ ں کی گلیاں اور بازار ویرانی اور اداسی سے اُٹے رہتے ہیں۔
ہم مدارس میں پڑھنے والے بچوں کو اپنا نہیں سکے‘ انہیں  own نہیں کر سکے ،ہم انہیں عصر حاضر کی تعلیم نہ دے سکے۔ مساجد اور مدارس کے لیے ہم نے معاشرے کا کمزور ترین طبقہ منتخب کیا۔ غربت اور کسمپرسی ہی یہاں داخلے کا میرٹ ٹھہرا۔ اہلِ ثروت نے اپنے بچو ںکے لیے ماڈرن گرامر سکولوں کا انتخاب کیا اورغریبوں کے بچوں کو مدرسوں کی راہ دکھائی۔اس رویے سے ظاہر ہوا کہ دین اور دینی تعلیم ہماری ترجیح ِ اوّل نہ تھی ۔ ایسے میں مدرسوں نے اُن کی کفالت قبول کی، انہیں کھانا کھلایا ، رہائش دی اور دینی تعلیم بھی دی۔ یہ الگ بات کہ ازاں بعد قوم کو اِس کفالت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ ہمارے مدارس کے بچے دینی جماعتوں کے سیاسی ورکر بن گئے ، جس طرح ایک جاگیردار اپنے مزارعوں سے ووٹ لیتا ہے ‘ ایسے ہی دینی جماعتوں نے اپنے زیرِ کفالت پلنے والے مدارس کے بچوں سے سیاسی بیگار لینا شروع کردی۔ہم نے اِن بچوں سے سوال کرنے کی سرشت چھین لی اور اس کی جگہ روبوٹ کی طرح ان کے ذہنوں میں چند جذباتی نعرے فیڈ کردیے۔عصرِ حاضر کے تقاضوں سے بے خبر یہ لوگ دین کے نادان دوست اور ناکام وکیل ثابت ہوئے۔  انہیں اسلام صرف دوسروں پر نافذکرنے کی تعلیم دی گئی۔ دوسروں کے مسلک اور مکتب کو خارج از اسلام قرار دینا ان کی کل تعلیم ٹھہری ۔ ہم شرمندہ ہیں‘ ہم انہیں یہ نہیں بتا سکے کہ ایک کلمہ گو کو کسی دوسرے کلمہ گو کے کلمے پر شک کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ہم یہ بتانا بھول گئے ‘ ہم سب دسترخوانِ محمدی ؐ پر مہمان ہیں،اور کسی مہمان کے لیے روا نہیں کہ وہ کسی دوسرے مہمان کو دسترخوان سے اُٹھادے۔
کلمہ ٔوحدت نے ہمیں ایک ہجوم کو قوم بنانے کی ذمہ داری دی تھی، لیکن ہم نے سیاسی اور مسلکی فوائد سمیٹنے کے لیے قوم کو ایک بے ہنگم ہجوم میں بدل دیا۔ ہم اسلام کی تبلیغ کے نام پر اپنے فرقے اور مکتبِ فکر کی تعلیم دینے میں مصروف رہے۔ ہم یہی بتاتے رہے کہ فلاں اور فلاں عقیدہ خراب ہے ، اور فلاں اور فلاں نظریہ فاسد ہے…ہم یہ نہیںبتا سکے کہ کون سا اخلاق اور کردار اسلامی ہے۔ ہم اپنے سامعین کو یہ توبتاتے رہے کہ یہ اور یہ عقیدہ رکھنے والا منکر ، کافر ، گستاخ اور منافق ہوتا ہے… لیکن کون سے اخلاق کریما نہ ہیں، کون سی سرشت مومنانہ ہے‘ یہ بتانے میں ہم غفلت کا شکار رہے۔ اِسلام اور ایمان کی شرائط گنوانے اور بتانے والے یہ نہیں بتا سکے کہ ’’وہ شخص مسلمان نہیں ‘جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہیں‘‘۔ ہم یہ نہیں بتا سکے کہ ’’جس میں عہد کی پاسداری نہیں‘ اُس کا کوئی دین نہیں، جس میں امانت داری نہیں ‘ اُس کا کوئی ایمان نہیں‘‘۔ ہم اوراق اور عمارات کی تقدیس پرپہرہ دیتے رہے ‘ حالانکہ سب سے بڑی مقدس عمارت کعبہ مشرفہ کے بارے میں بانی ٔ دین ِ مبین نے فرما دیا تھا ’’اے کعبہ ! تُو کس قدر حُرمت کا حامل ہے ، لیکن ایک مسلمان کی جان ، مال اور عزت کی حرمت تجھ سے بھی زیادہ ہے‘‘۔انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسان کی حرمت کو عبادت گاہوں پر فوقیت دی گئی۔ ہم شرمندہ ہیں‘ ہم رسولِ رحمتﷺ کی محبت کا دعویٰ توکرتے ہیں ‘لیکن اقوامِ عالم تک آپؐ کا اندازِ رحمت نہیں پہنچا سکے۔ ہم اقومِ عالم سے شرمندہ ہیں‘ہمیں روح ِ انسانیت کی پیاس بجھانے والا آبِ حیات دیا گیا تھا لیکن ہم غاصب بن بیٹھے۔ اس آفاقی پیغام کو اپنا آبائی ورثہ سمجھ لیا، اِس چشمہ ٔ حیات سے خود فایدہ اُٹھایا ‘نہ کسی اور کو مستفید ہونے دیا۔
ہم دارِ عقبیٰ میں ثواب سمیٹنے کے لیے دن رات کوشاں رہے‘ عبادت کے ذریعے ،پندو نصائح اور تبلیغ کے ذریعے … لیکن یہ بھول گئے کہ جس میزانِ عمل کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں‘ اُس کے بارے میں رسولِ کریم ؐ نے واضح فرمادیا ہے ’’میزانِ عمل میں سب سے بھاری چیزحسنِ اخلاق ہوگی‘‘۔ ہمیں جس محبوب ہستیؐ سے محبت کا دعویٰ ہے ‘ اُس ہستیؐ نے اپنا مقصدِ بعثت بتلا دیا کہ ’’ مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا‘‘۔ ہم صرف چہرے پر سنت ِ رسولؐ سجانا کافی سمجھتے ہیں‘ اپنے ہاتھ اور زبان کو سنت میں ٹھہرانا قبول کیوں نہیں کرتے!!  ہم فقط عبادت کی تبلیغ کرتے رہے اور خدمت کی ترویج کرنا بھول گئے۔بنیادی انسانی اخلاقیات سے بے بہرہ ہو کر ہم کون سا دین سیکھنے اور سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہمارے قول و فعل میں اس قدر تضاد آچکا ہے کہ  کبھی کبھی ڈر لگتا ہے‘ ہم سے یہ قول بھی نہ چھین لیا جائے، ہم سے کلمہ واپس نہ لے لیا جائے۔ اگر مسلمان ہی اسلام پر بوجھ بن گئے ، اگر کلمہ گو ہی کلمے سے دُور کرنے کا باعث بن گئے تو کلمے والے اپنے کلمے کا تحفظ کرناجانتے ہیں، وہ ایک قوم کو دوسری قوم سے تبدیل کرتا رہتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ دیکھ لینا! کہیں ایسا نہ ہو‘ یہ کلمہ تم سے چھین کر چین والوںکو دے دیا جائے ۔ آپؒ نے ایک بار جمعہ کی محفل میں دعائیہ انداز میں فرمایا ’’یااللہ! اسلام کو مسلمانوں سے بچا‘‘ ایک درویش کے دل سے نکلی ہوئی دعا کسی وقت بھی قبول ہو سکتی ہے!!آج کے حالات میں یہ پیش گوئی کہیں نوشتۂ دیوار نہ بن جائے!!  اللہ‘ ربّ المسلمین نہیں ‘ ربّ العالمین ہے اور اُس کے حبیبؐ فقط رحمت المسلمین نہیں‘ رحمت اللعالمین ہیں۔ رحمت اللعالمین ؐکے پیرو اگر عالمین میں رحمت کے سفیر نہیں بنتے تو کس منہ سے اُمتی ہونے کا دعویٰ کریں گے؟؟

تبصرے بند ہیں.