برطرف جج شوکت عزیز صدیقی کو بڑا ریلیف مل گیا

68

اسلام آباد : پاکستان بار کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف کیے جانے والے سینئر ترین جج شوکت عزیز صدیقی کا وکالت کا لائسنس بحال کر دیا ہے۔

نیو نیوز کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پاکستان بار کونسل کی 3 رکنی انرولمنٹ کمیٹی نے شوکت عزیز صدیقی کی وکالت کے لائسنس کو بحال کیا ہے۔ اس کمیٹی کے دیگر دو اراکین سید قلب حسن اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں۔

پاکستان بار کونسل کی 3 رکنی انرولمنٹ کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ شوکت صدیقی سپریم کورٹ بار کے وکیل 31 جنوری 2001 کو بنے ۔ اُنھیں 21 نومبر سنہ 2011 کو پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور پھر اُنھیں مستقل جج مقرر کر دیا گیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس سنہ 2015 میں دائر کیا گیا تھا اور ان پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سرکاری گھر پر تزئین و آرائش کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے کا الزام ہے۔

یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو راولپنڈی بار سے خطاب کے دوران خفیہ ادارے پر عدالتی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کرنے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے 2018 میں شوکت صدیقی کو بطور جج اسلام آباد کورٹ برطرف کر دیا تھا۔ ان کا یہ مقدمہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

پاکستان بار کونسل کی کمیٹی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ شوکت صدیقی کو بدعنوانی یا اخلاقی گراوٹ جیسے الزامات کی بنیاد پر چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے برطرف نہیں کیا تو اس وجہ سے یہ کمیٹی فوری طور پر ان کے لائسنس کو بحال کرتی ہے۔

شوکت عزیز صدیقی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ میں مظلوم لوگوں کی وکالت کرتا رہوں گا۔ جو کچھ ان سے متعلق لائسنس بحالی کے فیصلے میں لکھا گیا ہے وہ خود انھیں تمام تر الزامات سے بری کردیتا ہے۔

اسلام آباد کے سابق برطرف جج کا کہنا تھا وہ اپنی برطرفی کے فیصلے کی پیروی بھی کرتے رہیں گے تا کہ انھیں باعزت مراعات کے ساتھ اس مقدمے میں بھی انصاف مل سکے۔

شوکت صدیقی نے کہا کہ اب زائد العمر ہونے کی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نہیں بن سکتے۔

لائسنس کی بحالی کے باوجود شوکت صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور وکیل پیش نہیں ہو سکیں گے کہ وہ اس عدالت کے جج رہے ہیں۔ جو وکلا کسی عدالت میں جج رہے ہوں تو پھر انھیں بعد میں اس عدالت میں بطور وکیل پیش ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔

تبصرے بند ہیں.