ندیم ریاض کے متفرقات اور انجم سعید کی شاعری

165

وطن عزیز کی فضاؤں کو ججوں، سیاست دانوں کے متعلق آڈیوز، وڈیوز، بیان حلفیوں کی بازگشت، حکومتی ترجمانوں، مشیروں، وزیروں کی پریس کانفرنسوں اور وزیر اعظم کی مریخ اور دیگر سیاروں میں بسنے والی مخلوقات کے لئے زمین سے کی جانے والی تقریروں (کیونکہ یہ تقریریں پاکستان کے عوام کے حالات کے برعکس ہیں) نے مکدر کر رکھا ہے، سوچا کہ جب تک ان آڈیوز، ویڈیوز، پریس کانفرنسوں کی کورس میں اڑتی ہوئی دھول نہ بیٹھ جائے سیاست کے خارزار سے دور ہی رہا جائے۔
دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ اقوام نے اپنے ملک کے ٹیلنٹڈ، باصلاحیت، ہنر مند لوگوں کی صلاحیت بروئے کار لا کر اس سے فائدہ اٹھایا، ضائع نہیں کیا۔ یا بیرون ملک جانے پر مجبور نہیں کیا، سولی نہیں چڑھایا، گولی نہیں ماری، قید تنہائی نہیں دی، جلاوطن یا ملک چھوڑنے یا فاقوں سے مر جانے پر مجبور یا نشہ کی لت میں نہیں پڑنے دیا۔ امریکہ محض اس لیے سپر پاور نہیں کہ کھیل، تعلیم، ٹیکنالوجی، میڈیکل سائنس، حربی، عسکری و دیگر اعتبار سے آگے بلکہ دنیا میں جہاں کہیں باصلاحیت ہنرمند لوگ ہیں۔ امریکہ نے ان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا۔ سیکنڈے نیوین ممالک، یورپی ممالک، کینیڈا، انگلینڈ، کوریا، روس کی بھی یہی صورت حال ہے۔ چائنہ کی صورت حال بھی مختلف نہیں۔ قانون کی حکمرانی، باصلاحیت افراد کی قدر، اپنے ملک اور دنیا باصلاحیت انسانوں کے ہنر اور صلاحیت سے فائدہ اٹھانا۔ یقین کیجئے میں نے آج تک جتنے نوجوان بچوں کو روزگار کے لیے سرکاری روزگار کی عمر کی حد پار کرتے ہوئے دیکھا اور جو اب بھی روزگار کی تلاش میں ہیں، سب کے سب عثمان بزدار سے زیادہ باصلاحیت ہیں اور وزیر اعظم سے زیادہ سچے ہیں، بات پھر سیاست کی طرف نکل گئی۔ روزگار کے لیے لائق ترین لڑکوں کا لکھتے وقت گوجرانوالہ کے محمد شفیق بٹ اور لاہور کے رحمن عمر (مانی چودھری) میرے ذہن اور آنکھوں میں گھومنے لگے۔ حساسیت ہنر اور صلاحیت کی شرط ہے مگر حساسیت وطن عزیز میں جرم ٹھہرا اور صلاحیت تو جیسے گناہ کبیرہ ہو۔ صبح فیس بک پر گوجرانوالہ کے معروف ماہر تعلیم ریٹائرڈ وائس پرنسپل گورنمنٹ سیٹلائٹ ٹاؤن کالج جناب خواجہ کے ندیم ریاض سیٹھی کے متفرقات کے عنوان سے چند تحریریں نظر آئیں۔ پھر معروف قانون دان جناب حافظ انجم سعید کی شاعری نظر آئی پہلے سیٹھی صاحب کے متفرقات۔۔۔
عدل اور انصاف اکثر اوقات مترادف الفاظ کے طور پر مستعمل ہیں لیکن ان میں بہت بنیادی فرق ہے، انصاف، برابری اور مساوات کا نام ہے لیکن عدل اس سے ایک قدم آگے کسی کو اسکے حق کے مطابق عطا کرنا ہے، ہر شخص کو دو روٹی برابر تقسیم کرنا یقینا انصاف ہو گا لیکن عدل نہیں، عدل یہ ہے کہ اگر میری بھوک یا ضرورت تین روٹی سے پوری ہوتی ہے تو مجھے دوسرے کے مقابل تین روٹی دی جائے، ایک درزی کاریگر اگر دن میں تین سوٹ سلائی کرتا ہے دوسرا دو، تو دونوں کا معاوضہ یکساں ہونا عدل نہیں، کمیونزم میں مساوات ہے عدل نہیں، ’’اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ تو پھر کیا یہ عدل ہو گا کہ مجھے ایک روٹی بھی میسر نہ آئے اور دوسرے کے کتے اور بلیاں بھی امپورٹڈ غذا لیں، کیا یہ لمز یونیورسٹی میں پڑھنے والے اور فٹ پاتھ پر لوگوں کے جوتے پالش کرنے والے بچوں کے ساتھ عدل ہے؟ کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟ کلاس میں طلبا سے پوچھا کہ آپ کا اللہ تو عادل ہے پھر یہ کیوں؟ ایک طالبعلم جھٹ سے بولا، یہ دوسروں کی عبرت کیلئے ہے، میں نے اس کے ساتھ بیٹھے بچے کو
ایک چھڑی جڑ دی، وہ بولا، سر میرا قصور؟ میں نے کہا یہ باقی لوگوں کی عبرت کیلئے ہے، پہلے سے پوچھا بتاؤ یہ عدل تھا کہنے لگا ہرگز نہیں، زچ ہو کر
’’ایک آواز آئی اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس میں اسکی حکمت ہے‘‘۔ میں نے کہا اگر کوئی اللہ پر یقین ہی نہ رکھتا ہو اور وہ یہ سوال کر لے تو کیا اس جواب سے اسے مطمئن کر لو گے، کہنے لگا، ہرگز نہیں۔ میں بولا، کل مسجد کے مولوی صاحب سے اسکا جواب پوچھ کر آنا، قرآن میں ہر سوال کا جواب تو ہے، میں صرف یہ جانچنا چاہتا تھا کہ ہمارے مساجد کے پیش امام کس طرح بچوں کو مطمئن کرتے ہیں، لیکن مایوسی ہوئی۔ میں نے کہا لو یہ تو بہت آسان جواب ہے، کلاس میں ایک بچہ جو کچھ معذور تھا میں نے اسے سامنے بلا لیا۔ دوسرا بچہ بہت توانا اور طاقتور تھا، اسے بھی باہر نکال لیا، پھر کہا کہ اگر کسی وجہ سے انکے درمیان کشتی کرانا پڑے تو کیا یہ عدل ہو گا، سب بول پڑے یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے کمزور بچے اسکے عذر کی مناسبت سے طاقتور بچے کو اچھی طرح گرا لینے کو کہا، پھر پوچھا اگر اب مقابلہ ہو تو کیا یہ عدل ہو گا، وہ بولے، جی بالکل، اب تو اسے محض اسے چت کرنا ہی باقی ہے۔ میں نے کہا، کائنات ایک منصوبہ ساز کے باقاعدہ نظام کے تحت چل رہی ہے، اس میں کوئی بھی مکمل نہیں، ہر شخص کو دوسرے کی احتیاج ہے، مجھے کپڑے سینے کیلئے درزی چاہئے، آپکو جوتے گانٹھنے کیلئے موچی درکار ہے، تمام لوگ یکساں ہوں تو نظام کائنات چلانا ممکن نہیں۔ اب جس کو کم ملا، یا کوئی عذر لاحق ہے تو اسے کارخانہ کائنات کے خالق نے ایک قانون مراعات (Law of compansation) کے تحت رکھا ہے۔ یہ زندگی اور اسکی تمام مراعات فانی اور عارضی ہیں، (وما عندکم ینفد وما عنداللہ باق) یعنی جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ جزا وسزا کا سارا تصور ہی یہ ہے کہ ہر شخص کو جو عطا کیا گیا اس سے صرف اتنا ہی حساب لیا جائے۔ جسے دنیا کی عارضی زندگی میں جو کم حصہ ملا اسکے مطابق اسے compansate کیا جائے۔ یہ تصور تمام ادیان میں ہے۔ ہندو مت کی کتابوں میں بھی نیک روحیں لوٹ کر آتی ہیں اور بد روحیں چڑیلیں بنا دی جاتی ہیں۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس کا مشاہدہ ہم آئے روز کرتے ہیں۔ سائنس بھی آج اس اکتشاف کو مانتی ہے کہ انسانی آوازوں کو بھی فنا نہیں وہ خلا میں موجود ہیں۔ قرآن بھی اس کی تصدیق کرتا ہے، ’’آپ سے پوچھتے ہیں روح کیا ہے؟ ان سے کہہ دو کہ وہ اللہ کا حکم ہے‘‘۔ جب اللہ غیر فانی ہے تو اس کے حکم سے وجود میں آنے والی روح کیسے غیر فانی ہو سکتی ہے۔ اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جب تم مردہ جسم کو دفنا کر واپس لوٹتے ہو تو وہ تمہارے قدموں کی چاپ بھی سن رہا ہوتا ہے‘‘، ’’کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘ میں نے دیکھا کہ طلبا کے چہروں پر گہرا اطمینان ہویدا تھا۔ (بقیہ از متفرقات)
تقدیر کیا ہے؟ یہ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں جا تھمتی ہے؟ بڑا گنجلک سوال ہے، بہت لوگوں نے اس پر ہزاروں صفحات لکھ چھوڑے، سید مودودیؒ کی معمولی ضخامت والی کتاب ’’مسئلہ جبر و قدر‘‘ زمانہ طالبعلمی میں پڑھی، نقوش تازہ نہیں رہے تب سال اول کا طالبعلم تھا، پھر اس جواب کی تلاش میں کتابوں کی بہت چھان پھٹک کی، الجھتا ہی چلا گیا، غلام احمد پرویز کی ’’کتاب التقدیر‘‘ ایک مرتبہ جسٹس دین محمد لائبریری سے ہتھے چڑھ گئی، پہلے اسکی بہت سی تحریرات پڑھ چکا تھا، جواب نہ ملا، ذہن میں سوال پنپتے چلے گئے، کہ اندھا کیوں پیدا ہوتا ہے؟ جھونپڑے میں پیدا ہونیوالے اور محل میں جنم لینے والے میں کیوں فرق ہے؟ ایک وہ جو سسک سسک کر زندگی بسر کرتا ہے دوسرا عیش و تعیش اور آسودگی سے لطف اندوز ہوتا ہے، آخر کیوں؟ کوئی سماعت سے محروم ہے تو کوئی چلنے کی سکت نہیں رکھتا؟ زندگی اگر امتحان ہے، مدت متعین، تو پھر وسائل اور سوالنامے میں فرق کیوں؟ یونیورسٹی ہوسٹل میں دوران رہائش ایک طالبعلم رہائشی کو دیکھا جو میس ممبر نہ تھا، وہ رات گئے میس روم کا دروازہ کھول کر بچا ہوا کھانا کھاتا ہے، سوچتا رہا کہ ایسا کیوں ہے؟ اللہ تو بہت انصاف کرنے والا ہے اور انصاف کو پسند کرتا ہے، تو پھر کیا یہ نا انصافی نہیں؟ تقدیر کا جبر کہاں سے شروع ہوتا ہے، اٹل تقدیر کی کیا حدود ہیں؟ حضرت علیؓ سے کسی نے پوچھا کہ تقدیر میں انسان کتنا مجبور ہے اور کتنا خود مختار، انہوں نے اپنا ہاتھ کمر کے پیچھے بڑھایا جب وہ ایک حد پر پہنچ کر رک گیا تو فرمایا، آگے تقدیر کا جبر ہے۔ مولوی صاحب سے پوچھا کہ سنا ہے حدیث رسولؐ ہے کہ جب بچہ رحم مادر میں قرار پکڑتا ہے تو فرشتہ اللہ سے دریافت کرتا ہے کہ یہ نر ہو گا یا مادہ؟ عمر کتنی؟ رزق کا سوال؟ سب کچھ طے ہو جاتا ہے، شادی کارڈوں پر لکھا دیکھا کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں! قرآن میں پڑھا ’’نحن قسمنا رزقا بینھم‘‘ یعنی تمہارے درمیان رزق کی تقسیم ہم کرتے ہیں، ٹرک کے پیچھے لکھا دیکھا، ’’مقدر کا سکندر‘‘ یہ سکندر کہاں ہوتا ہے؟ سوال بڑھتے چلے گئے۔
اور اب جناب حافظ انجم سعید ایڈووکیٹ کی شاعری
اچھا ہے
اچھا ہے تم
لوٹ کر نہیں آئے
ورنہ زندگی!
چھوڑی ہوئی زندگی
کی بھیک کس سے
کہاں مانگتے پھرتے!!
پھر سے۔۔!
فراق میں
مرنے کیلئے!
دوبارہ سے جینا
ممکن ہو پاتا!
نہ ہو پاتا
کون جانے!
اچھا ہے تم
لوٹ کر نہیں آئے!!!
۔۔۔۔۔۔۔
ابہام
یہ جو مبہم سا اک تعلق ہے
اس کا ابہام دور کرنے کو
کتنے برسوں کا خون شامل ہے
کتنی راتیں تڑپتے گزری ہیں
کتنے دن چھاؤں بن، بن جئے بتائے ہیں!!
یہ جو مبہم سا اک تعلق ہے
اور بھی جانے کیا سے کیا مانگے
اور اب، میرے کاسئہ جاں میں!
کچھ نہیں، جان ناتواں کے سوا
سانس کی ایک ڈور باقی ہے
اس کو تھاموں کہ توڑ دوں اس کو!!!
۔۔۔۔۔۔
فاصلے
ہم کہیں اور ہی رستے پے سفر کرتے رہے!!
زندگی اور کہیں دور۔۔۔ بہت دور بسر ہوتی رہی!!!
سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل و دیگر شعبہ جات میں وطن عزیز میں باصلاحیت نوجوانوں کی ایک بہار ہے جسے حکمرانوں کے وعدے خزاں میں بدل گئے۔ حکمرانی کے افق اور آئندہ کے لیے کیے جانے والے بندوبست، حکمران طبقوں کے چہروں پر نظر تو ڈالیں۔ ایک ایک کو غور سے دیکھیں اور کردار بھی معلوم ہو تو دیکھیں اور پھر دیکھیں کہ ہمارا ہنر، ہماری صلاحیت ہمارے وطن عزیز کے کچھ کام آئی یا یہ لوگ معرکہ حق و باطل، خیر و شر، مفلسی و آسودگی کے کام آ گئے۔

تبصرے بند ہیں.