ایسا مواد فیس بک پرہر گز شیئر نہ کریں ،ورنہ فیس بک ہی آپ کو پکڑوا دیگا 

52

اسلام آباد:چائلڈ پورنو گرافی سے متعلق اہم کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ بچوں کی فخش ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانا معاشرے کو کھوکھلا کرنے جیسا سنگین جرم ہے کیونکہ چائلڈ پورنوگرافی سے معاشرہ تباہ ہو رہا ہے۔

نمائندہ نیو نیو ز کے مطابق سپریم کورٹ نے قرار دیا ہےکہ بچوں کی فخش ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانا معاشرے کو کھوکھلا کرنے جیسا سنگین جرم ہے،چائلڈ پونوگرافی معاشرے میں سماجی برائی کی صورت میں تیزی سے پھیل رہی ہے، جس سے  معاشرہ تباہ ہو رہا ہے۔

 چائلڈ پورنوگرافی اخلاقیات کے ساتھ بچوں کے مستقبل کیلئے بڑا خطرہ ہے، بچوں سے جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی ایک وجہ چائلڈ پونوگرافی بھی ہے جس کی روک تھام کیلئے اس وقت فیس بک خود بھی معلوم فراہم کر رہی ہے ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تین صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا ،فیصلہ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نے تحریر کیا ،فیصلہ عمر خان نامی ملزم کی درخواست بعد از گرفتاری کی درخواست پر جاری کیا گیا،عدالت کے مطابق نامزد ملزم نے اپنے موبائل فون سے فیس بک پر چائلڈ پورنوگرافی مواد شیئر کیا،سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا فیس بک انتظامیہ نے خود ایف آئی اے سے رابطہ کرکے ملزم کیخلاف معلومات فراہم کیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا ملزم نے اب تک کتنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائیں یہ تعین ہونا ابھی باقی ہے ،عدالت نے ملزم کی درخواست بعد از گرفتاری کی درخواست بھی مسترد کر دی اور ساتھ ہی ٹرائل کورٹ کو ٹرائل جلد از جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں ۔

تبصرے بند ہیں.