یہی ممکن تھا اتنی عُجلت میں!

135

غیر ممالک میں پاکستان سے اربوں روپے میںلوٹی ہوئی دولت واپس لانے والے، اپنوں اور غیروں سے قرض نہ لینے کے دعوے دار، ایم آئی ایف کا قرض اُس کے منہ پر مار کر لوٹانے والے بالآخر آئی ایم ایف سے کشکول بھروا ہی لائے، مگر عوام کا خون نچوڑ لینے والی سخت ترین شرائط پر۔ 
چند سال سے ملک کی سیاست میں تبدیلی کا شور برپا ہے۔تبدیلی کے علم برداروں کو جیسے تیسے اقتدار بھی مل ہی گیا ہے اور حالت اُس حبس کی سی کردی ہے کہ جس میں لوگ لو کو بھی غنیمت سمجھیں۔ 
قوم کیا چیز ہے؟ قوموں کی امامت کیا ہے؟ کے اہم نکتے سے ہماری سیاسی جماعتوں نے دانستہ چشم پوشی اختیار کررکھی ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اب بھی ماضی سے کوئی سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں:
منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ 
سیاسی جماعتوں کے نزدیک اقتدار کے حصول کی آرزو کے سوا کچھ نہیں ہے قوم سازی اورمعاشرے کے فکری ارتقاء اور اجتماعی شعور کی سطح کو بلند کرنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی ہے۔ تبدیلی کے علم بردارملک کی ترقی میں حائل جاگیرداری، سرمایہ داری اور مذہبی انتہا پسندی جیسی بنیادی رکاوٹوں اور اسباب سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تبدیلی کا راگ مستقل الاپا جارہا ہے ،جس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ : 
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے 
محمود مرزا صاحب مرحوم پاکستانی سماج کا گہرا اور عمیق مطالعہ رکھتے تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ بنیادی طور پر سماج کا مزاج اشرافیہ کی خدمت گذاری کا ہے۔ معاشرے کا فیوڈل کلچر یہاں جوں کا توں رکھتے ہوئے ریاستی اور معاشرتی ترجیحات میں عوام کے مفاد کو آخری نمبروں پر رکھا گیا ہے۔ اس اہم اور بنیادی حقیقت کو فراموش کردیا گیا ہے کہ ایک زیادہ آبادی رکھنے والا ملک اس وقت تک معاشی ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ سماجی تبدیلی کے عمل سے نہ گذرا ہو۔ ہمارے یہاں ریاست اور سماج کی طاقت جن طبقات اور اداروں کے ہاتھ میں ہے انہوں نے ریاست اور معیشت کو لوٹا، انتہا پسندی کو فروغ دیا اور عوام کو تنگدستی اور مایوسی سے دوچار کیا ہے ۔ 
بالادست طبقات سے تعلق رکھنے والے چالاک سیاسی افراد نے مسائل کو بنیاد بنا کر پسماندہ افراد کے جذبات کا خوب استحصال کیا اور جوشیلی سیاست (پاپولسٹ سیاست) کو رواج دیا۔ پاپولسٹ سیاستدان ریاستی ذمہ داریوں اور شفاف حکمرانی کے لیے نااہل ہوتے ہیں جس کے سبب اقتدار کے ایوانوں اور اداروں میں تصادم پیدا ہوتا ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
مرزا صاحب سماجی اور معاشی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی تحریروں میں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسا پاکستان کب وجود میں آئے گا جب امن، عوام کی خوشحالی اور ترقی میسر آئے گی ؟ اس راہ میں درپیش روکاوٹوں کو بیان کرتے ہوئے محمود مرزا صاحب بتاتے ہیں کہ سماجی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جانب پہلا قدم ریڈیکل زرعی اصلاحات کانافذ نہ ہونا ہے۔ واضح رہے کہ زرعی اراضی کی حد مقرر کرنے کو سپریم کورٹ شریعت بنچ نے کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ دوسری رکاوٹ ہمارا مروجہ معاشی نظام ہے جو عالمی معاشی نظام سے منسلک اور اس کا محتاج ہے۔ ہمارے یہاں یہ سیاسی فکر موجود ہے کہ گڈگورننس سماجی تبدیلی کا دوسرا نام ہے لیکن اس کا کوئی انتظام ابھی تک نہیں ہوسکا ہے کہ جاگیردارانہ رویوں کے ہوتے ہوئے گڈ گورننس کیسے ممکن ہے۔ محمود مرزا صاحب کے نزدیک سماجی تبدیلی کا وہی پروگرام بامعنی ہوتا ہے جوان وجوہ کا قلع قمع کردے۔ 
سماجی تبدیلی اور ترقی کے لیے مرزا صاحب نے جو حل تجویز کیے ہیں ان میں سماجی سیاست کے تصور کو وہ پہلے نمبر پر رکھتے ہیں۔ سماجی سیاست دان کی تعریف وہ یہ کرتے ہیں کہ ایسا سیاستدان جو اقتدار کی سیاست میں آنے سے پہلے سماجی خدمت سے رہبری کی شروعات کرے اور یہ ثابت کرے کہ وہ خدمت کے جذبے سے سرشار ہے۔ ممتاز دانشور اور ترقیاتی ابلاغ کے ماہر پروفیسر مجاہد منصوری سماجی خدمت کی دو خصوصیات بتاتے ہیں۔ پہلی یہ کہ اس سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری اور آسودگی آئے اور دوسری یہ کہ بہتری کے لیے جو عمل جاری ہو اس میں علاقے کے مکین حصہ لیں۔ سماجی سیاست کے امیدوار عوام کی خدمت کے ذریعہ مقامی سطح پر عوام کو متحرک کریں کہ وہ اپنی مدد آپ کے اصول کے مطابق زندگی سنواریں۔اسی عمل کے دوران عوام کی فکری تربیت کا انتظام ہوگا۔ مرزا صاحب کے نزدیک ترقی کا تصور سماجیاتی ہے جہاں سماج کا ہر شعبہ معاشی اور غیر معاشی ترقیاتی عمل میں اپنا کردار ادا کرے۔ 
 ایک اہم تجویز جو سماجی تبدیلی کے باب میں مرزا صاحب نے بیان کی ہے وہ معیشت کو کلی طور پر مارکیٹ فورسزکے رحم و کرم پر نہ چھوڑنا ہے۔ حکومت کو معاشی استحکام کے لیے اور انصاف کے فروغ کے لیے معیشت کے تمام شعبوں کو ریگولیٹ کرنا چاہیے۔ کیونکہ نیو لبرل اکنامک پالیسی اور فنانس کیپٹل کی چالبازیوں کے سبب ہی عالمی اور طبقاتی سطح پر دولت کی تقسیم میں مساوات کا عنصر مفتود ہوا جس کے نتیجے میں معاشی بحران نے جنم لیا۔ 
 معاشرت اور معیشت زوال کی جس صورتحال سے دوچار ہے ممکن ہی نہیں ہے کہ ہتھیلی پر سرسوں جما کر نتائج حاصل کر لیے جائیں:۔ 
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
محمود مرزا صاحب کی یہ تجاویز ان جلد بازوں کے لیے بھی ایک نصیحت ہے جو بغیر کسی تیاری کے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہوئے اور آج عوام ان کی مشقِ ناز کا شکار ہورہے ہیں۔ 1969 ء میں اسرائیل کے انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کی امیدوار گولڈا میئر کے انتخابی نعرے ’’ہم نہیں تو کون اور اب نہیں تو کب‘‘ کو پاکستان میں لگا کر اپنی قابلیت اور نیک نامی کا ڈھول پیٹ کر تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں سے سوال ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ استحصالی طبقات کے کندھوں پر سوار ہوکر استحصالانہ نظام کو تبدیل کیا جاسکے؟۔ آج تحریک انصاف کی کارکردگی کو دیکھ کو جون ایلیا کا مصرع یاد آتا ہے کہ : 
 یہی ممکن تھا اتنی عُجلت میں

تبصرے بند ہیں.