کولوسیم

28

 رومی کولوسیم کی تعمیر سلطنت روم کے اس دورکی یادگارہے جب رومیوں کی قوت و جبروت دنیا بھر میں چھائی ہوئی تھی جن لوگوں نے قرآن حکیم کی سورہ بنی اسرائیل کا مطالعہ کیاہے وہ جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو اپنے اعمال بد سے باز آجانے کے لیے باربار تنبیہہ کی گئی بالآخر انھیں خدائی فیصلے کا سامنا کرنا پڑا۔قرآن حکیم نے ایسے دو واقعات کا بہ طورخاص ذکرکیاہے، جب بنی اسرائیل کو ان کی کج روی کی سزادی گئی۔پہلا واقعہ ۵۸۶ ق م کا ہے جب بخت نصر نے ۵۸۶ ق م میں یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجاکریہودکو غلام بنالیا۔ اس کے بعد یہود سنبھلے لیکن ایک بارپھراپنی سابقہ حالت پر لوٹ گئے، جس کے نتیجے میں حضرت مسیح ؑ کی تنبیہہ کے مطابق ایک بارپھر ان پر ذِلّت و مسکنت کا عذاب نازل ہوا۔قرآن کابیان ہے کہ  فَإِذَا جَاء  وَعْدُ الآخِرَۃِ لِیَسُوؤُواْ وُجُوہَکُمْ وَلِیَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوہُ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَلِیُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِیْراً(7)پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمھارے چہروں کو بگاڑدیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہو گئے تھے اُسی طرح پھر اس میں داخل ہو جائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کر دیں۔
مفسرین کی تحقیق کے مطابق یہ تباہی رومی بادشاہ طیطاؤس(Vespasian)کے ہاتھوں سنہ ۷۰ عیسوی میں ہوئی۔یہی وہ سال ہے جب، روم کے کلوسیم کی تعمیرکا آغازہوا۔ دس برس اس کی تعمیرمکمل ہونے میں لگے اور تکمیل پر بنیادگزاربادشاہ کے بیٹے Titus(39-81)نے سنہ ۸۰ ء میں اس کاافتتاح کیااوراسے اپنے شاہی خاندان کی مناسبت سے  Flavian Amphitheaterکانام دیا۔اپنی تعمیرکے آغازہی سے یہ کلوسیم انسانوں اور انسانوں اورانسانوں اوردرندوں کے درمیان وحشیانہ مقابلوں کے لیے استعمال ہونے لگا۔مسلسل چارصدیوں تک اس میں وحشت و بربریت کا یہ کھیل کھیلاجاتارہا چارصدیوں کے بعد شایدزمانہ اور حالات بدل جانے کے باعث اس کی جانب توجہ کم ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ اٹھارویں صدی تک یہ ایک ویران سٹیڈیم بن کررہ گیا جہاں سے عمارتی سامان اکھاڑاکھاڑکر لے جایاجاتارہا،جیسے ایک زمانے میں اہرام مصرسے بھی 
اس کے پتھراکھاڑے جاتے رہے۔میں اورحذیفہ جب یہاں پہنچے تو اس کی دائروی دیوار کا ایک حصہ گرچکاتھا اور فضاسے دیکھنے پر یہ ایک بہت بڑا لیکن ٹوٹا ہوا پیالہ دکھائی دیتاتھا۔مجھے یہ پیالہ دیکھ کر”مادرپیالہ عکس رخ یاردیدہ ایم“کاتوخیال نہ آیا البتہ خواجہ میردردکی یاد آئی     ؎
کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کا 
کوئی خریدکے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا
اس ٹوٹے پیالے کو خریدنا تو ممکن نہ تھاالبتہ اسے دیکھنے کے خواہش مند بے شمارتھے، ہرجانب دنیابھرسے آئے ہوئے سیاح گھوم پھر کر اس پیالے کو دیکھ رہے تھے اوراس کی تصویریں بنارہے تھے۔حذیفہ بھی کسی سے پیچھے رہنے والانہ تھا۔وہ یہاں پہنچ کر پرجوش ہوگیا تھا۔ یہ خیال اس کے جذبات میں ارتعاش پیداکیے ہوئے تھا کہ وہ روم کا کلوسیم دیکھ رہاہے۔اس نے تصویریں بنانے سے آگے بڑھ کر ویڈیو آن کرلی اور رواں تبصرے کے ساتھ پاکستان میں بیٹھے سروش، ندیا اور بلال کو بھی کلوسیم کی اس سیرمیں شامل کرلیا۔ کلوسیم کی دیوار پر مختلف تحریروں نے کتبات کی سی صورت اختیارکررکھی تھی۔ ہم نے ان کتبات کی تصویریں بنائیں۔ایک کتبے پر اطالوی زبان میں کولوسیم کی بابت تفصیلات درج تھیں دوسرا کتبہ کولوسیم کی دیوار میں نصب پتھر کی طرح تھا جس پرلاطینی زبان میں پوپ بینی ڈکٹ کی جانب سے اس تاریخی عمارت کی مرمت اورتزئین وغیرہ کروانے کا ذکر تھا۔ عمارت میں چار و اور تین درجوں میں بڑے بڑے محرابی دریچے ہیں۔ماضی میں زمین پر ہرجانب سے داخلے کے راستے  رہے ہوں گے جنھیں اب لوہے کے پائپ اور جالیاں لگاکر بند کر دیا گیا ہے۔ صرف صدردروازہ کھلاہے۔جہاں جہاں سے دیوارٹوٹی ہوئی ہے اور ایک سمت سے تو کلوسیم کا ایک حصہ ڈھے چکاہے، وہاں سے سیڑھیوں کا منظربھی دکھائی دے رہاتھا اور ان پر قدم زن زائرین بھی نظر آرہے تھے۔ عمارت اگرچہ مدوّرہے لیکن اطراف میں کسی سہارے کے بغیر بالکل تنہا کھڑی ہے۔ مرورِوقت سے جہاں جہاں دیواروں میں شگاف واقع ہوگئے ہیں وہاں دیواروں کی موٹائی دیکھی جاسکتی ہے جس سے عمارت کی مضبوطی اور استواری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے   ع 
کھنڈر بتارہے ہیں عمارت عظیم تھی    
 میں اس سے پہلے دنیاکے بہت سے ایمفی تھیٹر دیکھ چکاتھا جن کا ذکر میں اپنے یونان کے سفرنامے میں کرچکاہوں، اب تک رومیوں کے بنائے ہوئے جتنے ایمفی تھیٹردیکھے تھے ان میں سب سے گہرانقش بصریٰ الشام کے ایمفی تھیٹر(المسرح الرومانی ببصریٰ)کا تھا۔جنوب مغربی شام کا یہ تاریخی شہر،اب کھنڈرات کی شکل میں موجودہے شام پر ٹوٹنے والی حالیہ قیامت کے بعدیونیسکو کی تازہ رپورٹس کے مطابق یہ دنیاکاایسا ورثہ ہے جس کی بقااب خطرے میں۔خیال کیاجاتاہے کہ یہ ایمفی تھیٹر رومی بادشام ٹریجن Trajanکے عہدمیں تعمیرہوا اگرایساہے تو پھر اس کی عمر روم کے کلوسیم سے کم قرارپاتی ہے کیونکہ ٹریجن کا عہدحکومت  ۹۸ء سے ۱۱۷ ء تک ہے اور روم کے کلوسیم کی بناجیسا کہ ذکرہوا ۷۰ء میں رکھی گئی۔
رومیوں کے بناکردہ ایمفی تھیٹر دنیابھرمیں، جہاں جہاں بھی ان کے مقبوضات رہے، پھیلے ہوئے ہیں۔ صرف اٹلی میں رومی دورکے درجنوں ایمفی تھیٹرہیں۔اٹلی کے بعدشاید سب سے زیادہ سپین میں ہیں۔ ترکی میں بھی ان کی تعدادکم نہیں لیکن روم کا یہ ایمفی تھیٹران میں سب سے بڑاہے۔چھ ایکڑکے رقبے پر پھیلے ہوئے اس مسرح (ایمفی تھیٹر)میں بہ یک وقت پچاس ہزاراور بہ قول بعض ستاسی ہزارسے زیادہ تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔اس سے پہلے بصریٰ الشام کے جس ایمفی تھیٹر یا مسرح کا ذکرہواوہ اسی ہزارکی آبادی کے شہرکے لیے بنایاگیاتھا جس میں پندرہ ہزارافرادکی سمائی ہے۔یہ تھیٹرمیں نے بہت اچھی حالت میں دیکھا، اتنی اچھی حالت میں کہ حالیہ جنگ سے پہلے تک اس میں وقتاًفوقتاً موسیقی کی محفلیں منعقدہوتی رہی ہیں جن کے لیے شام کے دوسرے شہروں سے طائفے، اس ویرانے میں آکر رومی دورکی محفلوں کی یادیں تازہ کرتے رہے ہیں۔بصری کا یہی ایمفی تھیٹر ہے جسے راقم نے اپنی ایک نظم میں اس طرح یادکیاہے:
وہ بصریٰ کہ صدیاں ستاروں کی صورت /اترتی رہیں جس کے آکاش پر /وہ نبطی وہ رومی وہ اسلامی لہریں /اسی ایک دریامیں بہتی رہی ہیں / بحیر اکادیر اور ناقہ کا مرکب/وہ عمروخضر کے معابدکی رونق/وہ ایمفی تھیئٹرکے زینوں کا سرگم/یہ سب جھیل میں لہلہاتے کنول ہیں ……(جاری)

تبصرے بند ہیں.