سموگ ، مرے کو مارے شاہ مدار

70

برصغیر میں ان دنو ں سمو گ کی آفت نے قیا مت ڈھا ئی ہو ئی ہے۔ او ر پہلے اگر پڑ وسی ملک بھا رت کی با ت کریں تو وہاں حا لات اسقدر خراب ہیں کہ دہلی سمیت مشر قی پنجا ب کے نما یا ں شہر وں کے دفا تر اور سکو لو ں وغیر ہ میں سر کا ری طو ر پر چھٹیا ں کر دی گئی ہیں۔ اور وطنِ عز یز کے ہر دل شہراور پنجا ب کے صو با ئی دا رالحکو مت لا ہو ر کو بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر سموگ سے آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ قیا مت در قیا مت یہ کہ ابھی کرو نا کا مسئلہ ختم نہیں ہوا تھا کہ ڈینگی کی بیما ری نے پو ری شد ت سے حملہ کر دیا ۔ اور اسی بیما ری کے عر وج کے دوران سمو گ نے پو ری فضا کو زہر آ لو د طر یقے سے دھند لا کر رکھ دیا۔ گو یا مر ے کو ما رے شا ہ مدار۔اوریو ں زند ہ دل شہر لا ہو رکو آ فت زدہ قرا ر دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب شہر کے بعض حصوں میں کوالٹی ایئر انڈیکس 700 سے بھی تجاوز کرچکا تھا۔ ایئر کوالٹی انڈیکس 300 تک پہنچ جائے تو اسے طبی ایمرجنسی کی وارننگ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس قدر آلودہ فضا بلاامتیاز ہر شخص کو متاثر کرتی ہے۔ مگر جہاں آلودگی اس بلند ترین درجے سے بھی دوگنا زیادہ ہو وہاں کی صورت حال کیا ہوگی۔ یہ لاہور ہی میں سمجھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ اسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں، اگر سمجھا جائے تو فضائی آلودگی ہمارا قومی سطح کا مسئلہ بن چکی ہے اور جامع اور مستقل حکمت عملی کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ لیکن ہمارے ہاں صحت عامہ کے اس المیے سے نمٹنے کے لیے پچھلے پانچ برس سے جو کچھ ہورہا ہے وہ سبھی کے سامنے ہے کہ سال کے ان مہینوں میں جب آلودگی کی شدت میں سانس لینا محال ہوجاتا ہے تو حکومت کو آلودگی روک سکواڈ یاد آتے ہیں۔ حالانکہ سموگ کی شدت اس وجہ سے نہیں کہ ان دنوں اچانک فیکٹریوں اور بھٹوں سے دھواں زیادہ خارج ہونے لگا ہے۔ یہ اذیت ہماری طویل مدتی لاپروائی کا نتیجہ ہے جو ہماری فضا میں جمع ہوتی جاتی ہے۔ ممکن ہے ان دنوں اٹھنے والی آلودگی اس میں اضافہ کرکے مسئلے کو دو چند کردیتی ہو مگر اس کا حل اگر ہم ہنگامی طور پر کرنا چاہیں تو ایسا ممکن نہیں۔ آلودگی سے بچاﺅ کے سکواڈ سال بھر کام کریں تب کہیں اس مسئلے سے نمٹا جاسکے گا۔ آلودگی سے نمٹنے کا یہ چیلنج آسان نہیں کیونکہ اس کے لیے ٹیکنالوجی سے پہلے عوامی رویے اور سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ فیکٹری مالک سے لے کر رکشہ ڈرائیور تک، ہر شخص کسی نہ کسی لحاظ سے آلودگی کی پیداوار میں شامل ہے۔ لہٰذا ہر سطح پر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ آلودگی کی روک تھام کے لیے سخت قانونی ٹولز کی بھی ضرورت پڑے گی مگر سزاﺅں کے نفاذ سے پہلے لوگوں کو ان کے اعمال کے اثرات سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ یہ کام اگرچند برس پہلے شر وع کیا جاتا تو آج تک ضرورت اس کے مثبت اثرات سامنے آچکے ہوتے اور آلودگی اگر بالکل ختم نہ بھی ہوتی تو اس میں کسی حد تک ضرور کمی آجاتی۔ مگر جو کام ہمیں کم از کم نصف دہائی پہلے کرنے کی ضرورت تھی، وہ آج بھی ہوتا نظر نہیں آرہا۔ گاڑیاں، رکشے اور موٹرسائیکل بدستور زہریلا، گاڑھا دھواں چھوڑ رہے ہیں۔ بھٹوں کو زک زیگ ٹیکنالوجی پہ منتقل کرنے کے منصوبے میں عالمی ماحولیاتی تنظیموں کی شراکت سے اگرچہ کسی قدر پیشرفت نظر آتی ہے مگر ایک رپورٹ کے مطابق ابھی چالیس فیصد کے قریب بھٹے ہی اس ماحول دوست ٹیکنالوجی پر منتقل کیے جاسکے ہیں۔ ماحولیاتی مسائل میں کاشتکاروں کا حصہ بذات خود ایک المیہ ہے۔ زرعی مشاغل قدرتی ماحول کے معاون اور محافظ سمجھے جاتے تھے مگر بڑھتی ہوئی کمرشل ازم اور تربیت، مواقع اور وسائل کی کمی کی وجہ سے کاشتکار فصلوں کی باقیات کو جلا کر اب ماحول کی تباہی کے بڑے ذمہ داروں میں شامل ہوچکے ہیں۔ جبکہ حکومت اس المیے اور اس کے اثرات سے غافل ہے۔ کاشتکار فصلوں کی باقیات کیوں جلاتے ہیں، جب تک حکومت اس مسئلے کو نہیں سمجھتی اور اس کا حل تلاش نہیں کرتی کھیتوں سے دھوئیں کے بادل یونہی اُٹھتے رہیں گے۔ اسی طرح ٹوسٹروک انجن پر کہنے کو ایک مدت سے پابندی عائد ہے مگر ٹوسٹروک رکشے چھوٹے، بڑے شہروں میں بلا روک ٹوک چل رہے ہیں اور دھوئیں کی مقدار اور زہریلے پن کے اعتبار سے یہ ایک رکشہ درجنوں گاڑیوں پر بھاری ہے۔ فیکٹریوں میں بھی ماحولیاتی قواعد کی پابندی نہیں کی جاتی۔ مگر ہماری ملک میں فضائی آلودگی میں دھوئیں کی مقدار سب سے زیادہ ہے اور سب سے زیادہ دھواں گاڑیوں سے خارج ہوتا ہے۔ آلودگی کے اس بنیادی ذریعے سے نمٹنے کی ذمہ داری کے احساس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ ٹریفک پولیس یا وزارت ٹرانسپورٹ اور وزارت ماحولیات کے پاس گاڑیوں کے دھوئیں کی پیمائش کے آلات ہی نہیں۔ لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ٹریفک سگنلز پر کیمرے لگائے جاچکے ہیں جو سڑکوں پر نظر رکھنے کی بہتر اور جدید سہولت فراہم کرتے ہیں لیکن یہ سسٹم صرف سگنل کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی نشاندہی تک محدود نہیں، دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی نشان دہی کے لیے بھی اس سے مدد لی جاسکتی ہے۔ فضائی آلودگی کے نقصانات کو سنجیدگی سے سمجھا جائے تو اس کی روک تھام کے لیے متعدد وسائل سے مدد لی جاسکتی ہے۔ مگر بنیادی بات تو اس ماحولیاتی زہریلے پن کا احساس ہے، جو ہمارے ہاں نہیں ہے۔ کاشتکاروں کو فصلوں کی باقیات نذرِآتش کرنے سے روکنے کے لیے انہیں وہ آلات فراہم کرنے چاہئیں جن سے وہ پرالی اور مڈھوں کو باریک کتر کر زمین سے ملاسکیں۔ اس سے زمین میں نامیاتی مادے کی مقدار میں اضافہ ہوگا اور زمین کی زرخیزی بڑھے گی۔ اگر حکومت آلودگی کے اسباب کو ختم کرنے کے لیے خود کچھ نہ کرے تو یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ لوگ اپنے آپ ان عادتوں کو ترک کردیں گے۔ آلودگی کی جس شدت اور اذیت کا ہم سامنا کر رہے ہیں اس کے لیے کوئی ہنگامی حل کارفرما نظر نہیں آتا۔ سموگ کے مسئلے کو سال بھر سامنے رکھتے ہوئے اور اس کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے اقدامات کرنا ہوں گے اور اس کے لیے مختصر مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔

تبصرے بند ہیں.