ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو رہا کردیا گیا

60

لاہور : حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کی ایک اور شق پر عمل کرتے ہوئے سربراہ علامہ سعد رضوی کو رہا کردیا ہے۔

نیو نیوز کے مطابق علامہ سعد رضوی اپنے مرکز جامع مسجد رحمۃ اللعالمین پہنچ  گئے

حکومت کی طرف سے سعدرضوی پر 98 مقدمات تھے اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل تھا ۔فورتھ شیڈول سے نام نکلنے کے بعد ان کو رہا کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں محکمہ داخلہ پنجاب نے تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے خلاف پنجاب حکومت کی جانب سے دائراپیل واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے سعد رضوی پر درج 98 مقدمات کی فہرست بھی وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوا ئی تھی اور وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے مقدمات ختم کرنے سے متعلق وزارت قانون سے مشاورت بھی کی تھی۔

یاد رہے کہ 12 اپریل کو سعد رضوی کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے لاہور سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ان کی گرفتاری کے بعد جس پر ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس نے بعدازاں پر تشدد صورت اختیار کرلی تھی جس کے پیشِ نظر حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کردی تھی۔

حافظ سعد حسین رضوی کو ابتدائی طور پر 3 ماہ تک حراست میں رکھا گیا اور پھر 10 جولائی کو دوبارہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک وفاقی جائزہ بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں 23 اکتوبر کو ان کے خلاف حکومتی ریفرنس لایا گیا۔

 یکم اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے خلاف حکومت نے اپیل دائر کی تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ ابھی تک تشکیل نہیں دیا گیا۔

بعدازاں حکومت پنجاب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے 12 اکتوبر کو سنگل بینچ کے حکم پر عمل درآمد معطل کردیا تھا اور ڈویژن بینچ کے نئے فیصلے کے لیے کیس کا ریمانڈ دیا تھا۔

تاہم 19 اکتوبر کو عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر نکالے گئے جلوس کو کالعدم جماعت نے اپنے قائد حافظ سعد رضوی کی رہائی کے لیے احتجاجی دھرنے کی شکل دے دی تھی۔

بعدازاں 3 روز تک لاہور میں یتیم خانہ چوک پر مسجد رحمۃ للعالمین کے سامنے دھرنا دینے کے بعد ٹی ایل پی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

23 اکتوبر کو لاہور میں کالعدم ٹی ایل پی کے قائدین اور کارکنوں کے پولیس کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

بعدازاں 28 اکتوبر کو بھی مریدکے اور سادھوکے کے قریب ٹی ایل پی کے مشتعل کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 4 پولیس اہلکار جاں بحق اور 263 زخمی ہوگئے تھے۔

 

تبصرے بند ہیں.