پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت عددی برتری ثابت کرنے میں کامیاب

55

اسلام آباد: قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی عددی برتری ثابت ہو گئی۔ انتخابی اصلاحات ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک منظور کر لی گئی جس میں حکومت کے حق میں 221 ووٹ اور مخالفت میں 203 ووٹ ملے اور بل کی شق وار منظوری کا عمل جاری جاری ہے۔

سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔ مشیر وزیراعظم بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ حکومت اور اپوزیشن کے آئینی ماہرین نے سپیکر ڈائس پر مشاورت کی، جس میں فروغ نسیم، رضا ربانی، اعظم نذیر تارڑ اور شیری رحمان شامل تھے۔ اس دوران انتخاب ترمیمی بل تحریک پر گنتی ہوتی رہی۔

بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات بل منظوری کیلئے پیش کر دیا تاہم انہوں نے اس پر رائے شماری کرانے کی بجائے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل موخر کیا جائے اور اپوزیشن کو اس پر بات کی اجازت دی جائے۔ اس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے اجلاس میں اظہار خیال کیا۔

محسن داوڑ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے آج علی وزیر ایوان میں نہیں ہیں اور وزیرستان کی نمائندگی نہیں ہو رہی۔ محسن داوڑ نے انتخابی ترمیمی بل دوسری ترمیم میں اپنی ترمیم پیش کی جس کی بابر اعوان نے مخالفت کر دی۔

اجلاس میں الیکشن ایکٹ دوسری ترمیم کا بل پیش کرنے کی تحریک پر ووٹنگ کرائی گئی تو تحریک کے حق میں 221 اور مخالفت میں 203 ووٹ پڑے۔ اس طرح ارکان کی سادہ اکثریت سے تحریک منظور کر لی گئی اور حکومت نے اپوزیشن کو 18 ووٹوں سے شکست دے دی جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی عددی برتری ثابت ہو گئی۔

تبصرے بند ہیں.