پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل حکومت ، اپوزیشن کی الگ الگ میٹنگ

68

اسلام آباد : پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل حکومت اور متحدہ اپوزیشن کے اہم اجلاس  ہوئے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے بل پاس کرانے اور اپوزیشن کا بل منظور ہونے سے روکنے کے لئے پوری طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

تفصیلات کےمطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے مشترکہ طور پر کی۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے والے بلز کو روکنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت نے یکطرفہ اور زبردستی قانون سازی کی تو  اس کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

اجلاس میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے اس بار پر اتفاق کیا کہ عوام دشمن قانون سازی کی بھرپور مخالفت کی جائے گی، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھی ایسی قانون سازی کےخلاف احتجاج ہوگا۔

اجلاس کے بعد شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے متحد ہونے سے حکومت کو ایک کے بعد ایک شکست کا سامنا ہو رہا ہے ، اگر اپوزیشن متحد ہو جاتی ہے تو عوام کی آواز بن سکتے ہیں اور کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے حکومت اور اتحادی ایکسپوز ہو چکے ہیں وہ قوم کے سامنے ہے ۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں حکومتی بلز کو پاس کروانے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سمندرپارپاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے رہے ہیں، سمندر پارپاکستانیوں نے اس سال 30 ارب ڈالرز بھیجے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے الیکشن میں دھاندلی رکے گی ۔

 

تبصرے بند ہیں.