توڑ کا جوڑ

88

مغربی طرزِ فکر اور طرز عمل نے ہماری بدنی زندگی کوبھاری بھرکم آسائشیں مہیا کی ہیں،وجودی فاصلے دم بھر میں طے ہو رہے ہیں،جسمانی آلام دُور کرنے کی ایک صنعت قائم ہے۔ وجودی لذات کی تکمیل کے لیے سہل ترین راستے تراش لیے گئے ہیں۔ مغربی تہذیب و ترقی نے انسان کو آزادیٔ افکار و اظہار کا ایسا مزہ چکھا دیاہے ‘ کہ تاریخ ِ انسانی میں اسے پہلے میسر نہیں آسکا۔ آج کا انسان انفرادی آزادی اور انفرادی حقوق کی جنگ لڑنے میں اجتماعی طور پر کامیاب رہا ہے۔ آج ہر قوم جانتی ہے کہ آمریت، فسطایت اور شہنشاہیت قابلِ قبول نہیں، جبر کے کوڑے سے کوئی ملوکیت منوانا چاہے تومنوا سکتا ہے لیکن بنیادی طور پرہر قوم آج آزادی جمہور کی قائل ہے۔ آزادیٔ افکار کے اِس عَلم کو سائنسی علم نے مزید شہرہ دیا ہے۔ آزاد معیشت کے تصور نے انفرادی آزادی کا نعرہ مزید بلند بانگ کردیا۔ آزاد معیشت کے تصور نے کیپیٹیلزم کی گود میں آنکھ کھولی ، کیپیٹلزم کے دیرینہ حریف سوشلزم اور کیمونزم مرورِ زمانہ سے اپنے نظریے سے منحرف ہو گئے۔اسے کھلا میدان میسر آگیا۔ یونی پولرورلڈ کا تصور پولر بیئر کی طرح ابھرا۔ گلوبل ویلیج کے چوہدری اپنے بلد کے طول وعرض میں ایک کرنسی اور ایک حکومت کا تقاضا کرنے لگے ہیں، وہ اپنے راستے میں حائل سیاسی اور اقتصادی رکاوٹیں بتدریج دور کر چکے ہیں۔ معاشرتی رکاوٹوں کو دُور کرنے میں میڈیا کے برزجمہروں اپنے جوہر دکھائے …لیکن افکار کی دنیا میں ابھی کچھ رکاوٹیں باقی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی روک اور رکاوٹ روحانی اقدار و افکار کا پیام ہے۔ یہ پیغام عام طور پر مذہب کے پلیٹ فارم سے جاری ہوتا ہے اس لیے اپنے اہداف کی تکمیل کی راہ میں اس رکاوٹ کا دور کرنا ہدفِ اول قرار پایا۔ یہ آویزش ازل سے جاری ہے ، فطری قوانین کی طرح … اس میں گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں، چور سادھ پہچانتا ہے اور سادھ چور کو… یہاں چوری چھپے کچھ بھی ممکن نہیں۔ اپنے ہدف کو زیر کرنے کی ترکیب دُوبدو ہو کر مقابلہ کرنا ہی نہیں ‘ بلکہ دامِ ہمرنگِ زمین بچھا کر رُوحانی افکار کے متلاشیوں کو مادّی افکار کا نوالہ پیش کرنا بھی ایک کارگر نسخہ ٹھہرا۔ دین کے نام  پر رُوحانیت اور پھر رُوحانیت کے نام پر دین سے دُوری… مبلغین کی جگہ تبلیغ کا مائیک موٹیوشنل اسپیکرز کے ہاتھ میں آگیا اور وہ موٹیویشن کے نام پر ہر قسم کے افکار دنیائے فکر کی مارکیٹ میں امپورٹ کرنے لگے۔چنانچہ ہم تزکیۂ نفس کے بجائے رعونت ِ نفس کا سبق پڑھنے لگے، سیلف لیس ہونے کی جگہ سیلف ڈویلپمنٹ کے اسباق  تیزی سے اَزبر کرنے لگے۔ مقدار کی چکا چوند دیکھ کر یار لوگوں نے معیار پر سمجھوتا کرنے میں ایسی تیزی دکھائی کہ سمجھوتا ایکسپریس پر سوار ہو گئے۔ اوپن مارکیٹ میں جہاں گاہک زیادہ میسر آئے ‘وہیں چھابہ لگانے میں جلدی کی۔
بنیادی طور پر ہر انسان مبلغ ہے، ہم اپنے افکار کی اشاعت کے بغیر رہ نہیں سکتے، ہمارا کردار ہمارے افکار میں چھلک چھلک جاتا ہے۔ تھڑے سے لے کر اسٹیج تک جسے جو بھی پلیٹ فارم میسر ہے‘
وہ اِس پر اپنے افکار کی تبلیغ کرتا ہے، اور اِس میں کچھ بھی اچنبھے کی بات نہیں۔ صراحی میں سے وہی کچھ برآمد ہو گا ‘جو صراحی کے اندر ہو گا۔ ہم الفاظ کی مدد سے زیادہ دیر تک خود کو ملفوف نہیں کر سکتے۔ دیکھنے والوں کے لیے یہ جہانِ رنگ وبُو اس قدر شفاف ہے کہ بقول اقبال:ؒ
کوئی دیکھے توہے باریک فطرت کا حجاب اتنا
نمایاں ہیں فرشتوں کے تبسّم ہائے پنہانی
ان دنوں خود کو مسرت سے ہم کنار کرنے کے کئی نسخے مارکیٹ میں میسر ہیں۔ ان میں سے چند ایک تو بہت ہی سیدھے ہیں‘ مثلاً  ’’دوسروں کے غم اور خوشی کی پروا کیے بغیر اپنی زندگی گزارو، جو تمہاری قدر نہیں کرتا ‘تم بھی اس کی پروا نہ کرو، جو تمہیں وقت نہیں دیتا‘ تم اس کے لیے اپنا وقت اور سرمایہ برباد نہ کرو،اردگرد کے لوگ تمہاری ذمہ داری نہیں،آخر تمہار ا بھی تم پر حق ہے، اپنا حق پہچانو، طلب کرو، حاصل کرو، اور آسودۂ فکر ہو جاؤ‘‘…  اگر بنظر ِ عمیق اور تحقیق دیکھا جائے تو یہ اندازِ فکر سرتاپا مادّے کی کثافت سے لتھڑا ہوا ہے۔ یہاں ایثار، احسان اور قربانی کی خوشبو سرے سے عنقا ہے۔ زما نہ طالبعلمی کی بات ہے کہ ہمارے ایک مہربان ایک مرتبہ کسی مغربی مفکر کا مقولہ  سمجھا رہے تھے کہ اگر تم نے اَ میر ہونا ہے تو غریب لوگوں کو اپنے تعلقات کی فہرست سے خارج کردو، کیونکہ یہ لوگ تمہیں کچھ دے نہیں سکتے بلکہ تمہارے وقت اور وسائل پر جونکیں ہیں۔ افسوس صد افسوس! ہمارا روحانی اور اخلاقی ورثہ یہ ہرگز نہ تھا، بلکہ ہمیں تو یہ بتایا گیا ہے کہ مسکینوں کے ساتھ میل جول رکھو۔ رسولِ کریم ؐ کی دعا ہے ‘یااللہ! مجھے مسکینوں میں زندہ رکھ، مسکینوں میں اُٹھا۔ ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو تجھ سے توڑے‘ تو ا‘س سے جوڑ، جو تجھے محروم رکھے ‘ اسے عطا کر۔ہمیں برائی کے جواب میں نیکی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس طرزِ عمل سے تمہارا بدترین دشمن بھی تمہارا گرم جوش دوست بن جائے گا۔
اپنے ارد گرد لوگوں کے درمیان سے رخصت لے لینا ‘ایک رخصت کا راستہ ہے‘ عزیمت کا نہیں۔ رخصت کی راہ اختیار کرنے میں اورراہِ عظمت انتخاب کرنے میں فرق ہے۔ خوشی شاید ڈھونڈنے سے نہیں ملتی‘ بلکہ خوشی دینے سے ملتی ہے۔ کسی کے ہاں خوشی کا دیا جلانے کے لیے خود خرچ ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے پاس لامحدود وقت اور زندگی نہیں، یہی آس پاس کے چند لوگ ہیں ‘ جو ہماری عاقبت ہیں۔ فیس بک پر ٹرانس گلوبل لاکھوں کلک لینے سے میرا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ میرے دل کے تار اُس وقت بجتے ہیں‘ جب آس پاس کسی چہرے پر میری وجہ سے مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔ کہتے ہیں‘ وقت قیمتی ہوتا ہے… انسان وقت سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ بس! جس کا چہرہ انسان جیسا ہے ‘وہ میرے وقت اور وسائل میں بلادھڑک دخیل ہو سکتا ہے۔ میں نے سارے جہان کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا لیکن جو شخص چل کر میرے پاس آ گیا ہے‘ جسے قدرت نے میرے آس پاس پیدا کر دیا ہے ‘ اُس کا مجھ پر حق ہے… میرے وقت اور وسائل میں وہ شریک ہے۔ میں اپنا وقت کسی انجانے شخص کے لیے بچا کر نہیں رکھ سکتا۔ یہی عام آدمی اگر مجھے اپنے دل تک رسائی دے دے‘ تو میرے لیے خاص ہو جاتا ہے۔ عام اور خاص کا فیصلہ کرنے والا گلوبل اکانومی کا کوئی کلرک کون ہوتا ہے؟ کیا میں کسی شخص کے لیے صرف اِس لیے دروازہ بند کر لوں کہ اُس کی جیب میں فی الوقت چند رائج الوقت سکّے موجود نہیں، اعلیٰ حلقوں میں اس کے تعلقات نہیں، شہرت کے حلقوں میں اس کا شہرہ نہیں، وہ میری کسی صفت کا معترف نہیں۔ اگر میں مصنف ہوں‘ تو لازم نہیں کہ میں اپنے دوستوں کا انتخاب بھی دارالمصنفین سے کروں، اگر میں ڈاکٹر ہوں تو کیا لازم ہے کہ میرے حلقہ احباب میں صرف ڈاکٹر لوگ ہی ہوں؟ اپنی کسی ضرورت میں بندھے ہوئے لوگ بھی جب میرا وقت ’’برباد‘‘ کرنے آتے ہیں تو مجھے ایسے ہی عزیز ہونے چاہئیں‘جیسے میرے عزیز ہوں۔
ہر تعلق کا ایک بوجھ ہوتا ہے، اور کم قیمت تعلقات کا بوجھ وہی اٹھا سکتا ہے ‘ جو بیش قیمت ظرف کا مالک ہوتا ہے ، جو اعلیٰ ظرف لوگوں کے نقشِ قدم پر ہوتا ہے۔ جس پر انعام ہوتا ہے ‘وہ انعام تقسیم کرتا ہے۔ اس زندگی میں وقت سے بڑا انعام کیا ہوگا؟ جو توجہ میں ہوگا ‘وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوگا… وہ اپنے جبہ و دستار کے شایانِ شان ماحول تلاش نہیں کرے گا، بلکہ وہ اپنے آس پاس گرے پڑے، مفلوک الحال اور احسان ناشناس لوگوں کے تصرف میں ہوگا۔ عام ہی خاص ہے ‘بشرطیکہ خاص اپنے خاص ہونے کا خراج وصول نہ کرے۔ احساس سے لے کر احسان تک سارا سفر ‘ بوجھ اُٹھانے کا سفر ہے… یہ بوجھ تعلقات کا بھی ہے، اور ذمہ داریوں کا بھی!! کوئی ذمہ دار شخص ‘اپنے اردگرد کے لوگوں کی ذمہ داریوں سے فرار نہیں ہوتا۔
سورج کے جلوے کوایک کرن میں، قلزم کی بیکرانی کوایک قطرے میں اور صحرا کی وسعت کو ایک ذرّے میں دیکھنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں ‘جو فقیر ہوتے ہیں… اور آدمی بے نظیر ہوتے ہیں۔ فقیر کا وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا کیونکہ اس نے اپنے وقت سے اپنے لیے کچھ بھی حاصل نہیں کرنا۔ دریا دوسروں کی پیاس بجھاتا ہے، پھل دار درخت مخلوق کو ثمر بار کرنے کے لیے اپنی شاخوں سمیت جھک جاتا ہے، اُس کے جھکنے سے اُسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اُس کی عاجزی کا فائدہ دوسرے اُٹھاتے ہیں۔ ہماری نیکی دوسروں کے کام آنی چاہیے۔ ہمارا اخلاق اگرچہ آسودگی کی صورت میں لوٹ کرہماری طرف ہی آتا ہے، لیکن ہمارے اخلاق کا مقصد دوسروں کو آسودہ کرنا ہے۔ کسی کے ظاہر کو شانت کریں‘ تو ہمارا باطن شانتی کا نغمہ سننے کا اہل ہو جاتا ہے، کسی کا ظاہری آزار دُور کریں‘ تو ہمارا روحانی روگ دُور ہو جاتا ہے ۔ ممکن ہے’  خوشی کسی حاصل کا نام ہو ‘ لیکن سرخوشی قربانی سے میسر آتی ہے۔ درویش لوگ بتاتے ہیں کہ جب تُولقمہ اپنے حلق میں اُتارتا ہے‘ تو اگلے دن یہ بدبو بن کر خارج ہو جاتا ہے،یہی لقمہ کسی کے منہ میں ڈالے گا تو خوشبو بن کر فضا میں ٹھہر جائے گا۔ لقمہ خوراک کا ہو‘ یا وقت اور وسائل کا‘ دوسروں کا حق فائق ہے! اگر ہم حق پرہیں ‘ تو اپنے حق کے مقابلے میں دوسروں کا حق مقدم جانیں۔ سکھ‘ سکھ دینے میں ہے، دوسروں کو سکھ پہنچانے کے لیے دُکھ اُٹھانے کے لیے بھی تیار رہیں۔ کوئی خود غرض دوسروں کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔ ایثار اور احسان کی منزلیں اہلِ دل طے کرتے ہیں:
فیصلہ تیرا ‘ترے ہاتھوں میں ہے‘ دل یا شکم !

تبصرے بند ہیں.