زندگی کی حقیقت

60

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک شخص نے ایک خوبصورت پرندہ خریدا، وہ جب چہچہاتا تو نہایت دل فریب اور خوش مزاج آواز سے وہ شخص بہت مسرور ہوتا گویا اس پرندے کی آواز بہت ہی سریلی اورپیاری تھی۔ ایک دن اچانک اس پنجرے کے پاس اسی کے جیسا ایک اور پرندہ آیا اور اپنی زبان میں کچھ باتیں کیں اورچلاگیا۔پنجرے میں موجود پرندہ بالکل خاموش ہوگیا گویا ایسا ہوگیا جیسے وہ گونگا پرندہ ہے۔ اس کے مالک نے دو تین دن انتظارکیامگر پرندہ بالکل خاموش۔۔۔وہ شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں اس پرندے کو پنجرے سمیت لایا اور شکایت کہ یہ بہت مہنگا پرندہ خریدا تھا، اس کی آواز مجھے مسرور کرتی تھی مگر اب نجانے کیا ہوا کہ بولتا ہی نہیں حضرت سلیمان علیہ السلام (جو جانور، چرند، پرند، سب کی بولیاں جانتے تھے) نے اس پرندے سے پوچھا کیا وجہ ہے جو تم خاموش ہوگئے ہو؟وہ پرندہ عرض گزار ہوا اے اللہ کے برحق نبی! یہ شخص سمجھتا ہے میں خوش ہوکر چہچہاتاہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ میں دیگر آزاد پرندوں کو دیکھ کر روتا ہوں کہ اے کاش میں بھی آزاد ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا مگر یہ میری زبان نہیں سمجھتا تو یہ خیال کرتا ہے جیسے میں بہت خوشی سے گنگنا رہا ہوں۔ پھر ایک دن میرا ایک ہم جنس میرے پاس آیا اور کہا کہ یہ شخص تیری زبان نہیں سمجھتا بلکہ سمجھتا ہے کہ تو بہت سریلی آواز کے ساتھ خوشی خوشی چہچہا رہا ہے۔اگر تم اس کی قید سے آزاد ہونا چاہتے ہو تو رونا چھوڑ دو، بولنا فریاد کرنا بھی چھوڑ دو کہ اس پر تمہارے الفاظ اثر ہی نہیں کرتے کیونکہ یہ تمہارے درد کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ بس پھر کیا تھا میں تب سے خاموش ہوکر صبر کررہا 
ہوں۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس شخص سے کہا کہ پنجرہ کھول دو اور اس کو آزاد کردو کیونکہ اب یہ پنجرے میں کبھی نہیں بولے گا۔ اس شخص نے کہا اگر اب یہ خاموش ہی رہا تو بلاوجہ اس کو رکھ کر میں کیا کروں گا لہٰذا اس نے سلیمان علیہ السلام کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے پنجرہ کھول دیا۔ وہ پرندہ فوراً اڑ کر درخت کی شاخ پر بیٹھا اور اس شخص کو دیکھ کر کچھ چہچہا کر اڑ گیااس شخص نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کی کہ یہ کیا کہہ کر گیا ہے؟آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس نے کہا کہ اگر توبھی اپنے غموں اور مصائب سے آزاد ہونا چاہتا ہے تو خاموش ہوجا اور صبر کر، کسی سے کچھ شکایت نہ کر تو تجھے بھی ایک دن سارے غموں سے نجات مل جائے گی جو تولوگوں کو سناتا رہتا ہے مگر وہ بے احساس لوگ تیری زبان جانتے ہوئے بھی تیری بات نہیں سمجھ سکیں گے۔۔۔! اسی طرح زندگی کبھی ٹیسٹ کرکٹ کی طرح تھی۔ لمبی اننگز تھی۔ سب بلیک اینڈ وائٹ تھا۔ ٹھہراؤ تھا، گریس تھی، ہلکی پھلکی آوازیں تھیں۔ دیکھنے کیلئے بھی وقت تھا اور کھیلنے کیلئے بھی وقت تھا۔ پیسہ اہم نہیں تھا بلکہ شوق اہم تھا تھکاوٹ نہیں تھی بلکہ تازگی تھی۔ کھیلنے والے لمبے عرصے تک یاد رہتے تھے۔پھر آہستہ آہستہ زندگی تیز ہونے لگی اور کھیل میں بھی تیزی آنے لگی۔ بلیک اینڈ وائٹ کلر ہو گیا۔ ہلکی پھلکی آوازوں کی جگہ شور شرابہ آ گیا۔ زندگی ٹیسٹ سے ون ڈے میں تبدیل ہوئی اور فیصلوں میں جلدی آنے لگی۔کھیل کر تھکاوٹ ہونے لگی اور آرام کا وقفہ مختصر ہوتا گیااور پھر زندگی T20 میں بدلی۔ رنگینی آسمان کوچھونے لگی۔ چیخ وپکار کان پھاڑنے لگی۔ فیصلے گھنٹوں میں ہونے لگے۔ وقفہ ختم ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک اننگز کھیلی جانے لگی۔ گریس ختم ہو گئی اور گلیمر آ گیا۔ کھیلنے والوں کے نام بھی میچ کے ساتھ ہی بھولنے لگے۔ تھکاوٹ عروج پر پہنچی اور ایسی پہنچی کہ کھیلنے والے کھیل سے تنگ آنے لگے اور دیکھنے والے دیکھنے سے اکتانے لگے۔
زندگی میں گریس گلیمر سے زیادہ خوبصورت اور دلکش ہے۔ ٹھہراؤ تیزی سے زیادہ پر لطف ہے۔ فیصلے میں تاخیر فیصلے میں جلدی سے زیادہ دلفریب ہے۔ سادگی رنگینی سے زیادہ سحر انگیز ہے اور ہلکی پھلکی آوازیں شور شرابے سے زیادہ میٹھی ہیں!بس یہی زندگی کی حقیقت ہے اور زندگی کی حقیقت کے ساتھ جینا ہی زندگی کی اساس اور زندگی کا ماحصل ہے۔بقول باطن رجانوی
ایسے بھی لوگ دہر میں آئے چلے گئے
تا عمر جن کو لوگ ستائے  چلے گئے
ہم خواب کی مثال تھے آئے چلے گئے
آنکھوں میں تیرے رنگ سجائے چلے گئے
چلتے رہے تو درد کی دنیا تھی ایک ساتھ
بیٹھے کہیں تو اشک بہائے چلے گئے
حسرت بھری نظر سے ہمیں دیکھتا رہا
چپ چاپ ہم نے درد اٹھائے چلے گئے
جو لوگ میرے حق میں تھے دشمن سے مل گئے
دامن پہ میرے داغ لگائے چلے گئے
روشن تھے جب تلک تو رہے ہم بھی پرامید
اس نے یونہی چراغ بجھائے چلے گئے
ممکن نہیں تھی اپنی سمندر سے دشمنی
لہروں نے یونہی نام مٹائے چلے گئے
آواز دی ہے جب بھی ہنسی نے کبھی ہمیں
دل میں ہزار درد چھپائے چلے گئے
دعویٰ کیا ہے جس نے بھی تعبیر کا بہت
دو چار خواب ہم نے سنائے چلے گئے
تم نے تو ایک بات پہ پہرا نہیں دیا
ہم نے تمام عہد نبھائے چلے گئے
باطن عظیم لوگ تھے جو غم کی آگ سے
وہ معجزے سخن کے دکھائے چلے گئے

تبصرے بند ہیں.