اگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلایا تو پیش ہوں گا : سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

122

لاہور : سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے الزامات کے بعد ازخود نوٹس کی سماعت پر انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلایا تو وہ ضرور جائیں گے ۔

 

برطانوی اخبار کی ویب سے گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پاکستان کی عدالت ہے مجھے یہ زعم نہیں کہ میں بہت بڑا ہوں اگر قانونی حکم نامہ آیا تو بسم اللہ ضرور جاؤں گا ۔ اس معاملے کو چار سال ہو چکے ہیں ، علم نہیں کس سازش کے تحت یہ الزام لگایا گیا ہے ۔

 

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میں کیوں کسی بھی کیس کے حوالے سے خصوصاً ہائی پروفائل کیس کے بارے میں عدالت سے باہر کسی کو ہدایات دوں گا؟۔

 

واضح رہے کہ آج نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں سے متعلق سابق جج کے انکشافات کے معاملے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے مختصر سماعت میں کہا کہ اگر اس عدالت کے غیر جانبدارانہ فیصلوں پر اسی طرح انگلی اٹھائی گئی یہ اچھا نہیں ہوگا ۔ عدالت نے سابق جج رانا شمیم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے منگل 16 نومبر کو طلب کر لیا ہے ۔

 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے معروف صحافی انصار عباسی کی خبر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو کمرہ عدالت میں طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’یہاں پر آپ کے سامنے بہت سارے کیسز زیر سماعت ہیں کوئی انگلی اٹھا کر بتائے مجھے اس عدالت کے ہر جج پر فخر ہے ۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ اس قسم کی رپورٹنگ سے مسائل پیداہوں گے۔ اس عدالت نے ہمیشہ اظہار رائے کی قدر کی ہے اور اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ عدالت آپ سب سے توقع رکھتی ہے کہ لوگوں کا اعتماد اداروں پر بحال ہو۔ زیر سماعت کیسسز پر اس قسم کی کوئی خبر نہیں ہونی چاہیے۔

 

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیوں نہ ہائیکورٹ کا وقار مجروح کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغازکریں؟ ایک معاملہ زیر التوا ہے اس میں اس طرح کی رپورٹنگ ہوگی تو یہ کوئی مناسب بات ہے؟ عدالت اس معاملے کو بہت سنجیدہ لے گی کیونکہ زیر التوا کیسز پر بات کرنے کی روش بن گئی ہے۔

 

عدالت نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے جبکہ جس صحافی نے خبر دی اس کو اور جنگ اخبار کے ایڈیٹر انچیف کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے تحریری حکم نامے میں لکھا کہ رجسٹرار ہائی کورٹ نے معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا ہے۔

 

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے رانا شمیم کے بیان حلفی کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے صحافیوں کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کسی عدالت یا جج کو نواز شریف سے متعلق ہدایات جاری نہیں کیں۔ رانا شمیم کا بیان حلفی سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔

 

 

 

 

تبصرے بند ہیں.