اب خدا و مصطفیٰؐ کی راہ پر کوئی نہیں!

67

اخباروں کی چیختی چلاتی شہ سرخیاں آسمان سے باتیں کرتے روزافزوں اشیائے ضرورت کے نرخ بتا رہی ہیں۔ چینی ڈالر کی طرح بلند پرواز ہے۔ ’تو ’چینی‘ ہے پرواز ہے کام تیرا‘ اقبال کے شعر کی تازہ تحریف ہے۔ وزراء اور وزیراعظم ریکارڈ توڑ مہنگائی کی نرالی توجیہات پیش کرتے ہیں، اس ناقابل یقین اور ناقابل قبول صورت حال کی۔ چلیے ہم صفائی پیش کیے دیتے ہیں ’عوام دوست‘ حکمرانوں کی۔ چینی پہنچ سے باہر رہنی قوم کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ شوگر (ذیابیطس) کا مرض کنٹرول ہوگا، قوم تندرست وتوانا رہے گی۔ گیس بحران ملک کو گیس چڑھ کر مرنے یا لیکج سے خدانخواستہ آگ لگنے والے حادثات سے بچائے گا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ رہی بجلی، تو وہ کون سی کم خطرناک ہے۔ شاک یا مناسب جھٹکے لگانے کے لیے سرکاری بیانات اور پالیسیاں کافی ہیں۔ ویسے بھی سردیوں میں پنکھے نہیں چلانے تو خواہ مخواہ بجلی دینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ پشاور میں تحریک انصاف کے ایک جلسے میں بزرگ شہری نے دو وقت کی روٹی مشکل بنا دینے اور عوام کو ریلیف نہ دینے پر نعرے بازی کردی۔ منتظمین نے یہ کہ کر انہیں باہر نکال دیا کہ ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں۔ جو سچ بولے وہ مجنوں، دیوانہ ہی تو ہوتا ہے۔ سیانے تو چپکے ہو رہتے ہیں! شکر کریں قوم سیانی ہے۔ چپ کرکے کرکٹ میچ آن لائن دیکھتی گھروں میں نعرے لگاتی ہے۔
دھیان بٹانے کو تماشے کم تو نہیں۔ پاکستانیوں نے ہر قوم، مذہب کے دن منانے کا ٹھیکا لے رکھا ہے۔ ربیع الاول ختم ہونے سے پہلے ہی گوروں کا شیطانی دن ہیلو وین منایا (رسالتؐ کے تقدس کو اونچی جگہ رکھ کر) وہ دن جو باعمل عیسائیوں کے ہاں بھی بالعموم ناپسندیدہ ہے، پاکستان میں ڈٹ کر منایا گیا۔ ابھی اس کی بوباس گئی نہ تھی کہ ہندوؤں کی دیوالی آگئی۔ اس تہوار کی آمد کی خبر بھی بلاول کی دیوالی منانے کی تیاریوں سے قوم کو ملی۔اگرچہ پاکستان میں ان کی آبادی صرف 2.14 فیصد ہے تاہم اس مرتبہ جس جوش وخروش کا اظہار سرکاری سطح پر کیا گیا وہ حیران کن تھا۔ (اب مودی بھی ہماری عید منائے گا!) آتش بازی کے مظاہرے۔ لاہور کرشنا مندر کی تصاویر میں ’ہیپی دیوالی‘ کے بڑے پوسٹر پر ایک طرف وزیراعظم اور دوسری طرف نورالحق قادری کی باشرع تصویر جگمگا رہی تھی۔ چیف جسٹس پاکستان نے جس اہتمام سے دیوالی پر کرک، مندر میں اظہار یکجہتی ہندوؤں سے کیا، ہماری کیا مجال کہ ’توہین عدالت‘ کا خطرہ مول لیں! دیوالی میں بانیئ پاکستان اور اقبال کو بھی تصاویر کی صورت شریک رکھا گیا۔ اقبال کی طرف سے یہ شکوہ کسی نے بلاوجہ ہی کر رکھا ہے۔ سلطنت لے کر خدا ومصطفیؐ کے نام پر، اب خدا و مصطفیؐ کی راہ پر کوئی نہیں! (صحیح حدیث: ’جو کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا‘۔ مسند احمد۔ اسی بنیاد پر ابن تیمیہؒ کفار سے مشابہت حرام قرار دیتے ہیں۔)
فقہاء کا اتفاق ہے کہ (اسلامی حکومت میں) ’غیرمسلموں کو اپنے مذہبی شعائر کی ادائی کا پورا حق ہے۔ جب تک وہ ان شعائر کو علانیہ نہ کریں، انہیں منع نہیں کیا جائے گا۔‘ مسلم آبادیوں پر کافرانہ شعائر سرکاری سطح سے پھیلانے، چھا دینے کی گنجائش نہیں۔ (ہم اور کیا اسلام سے پوچھ کر کر رہے ہیں جو ہیلو وین، دیوالی بارے اجازت طلب کریں!) ہمارے گلے میں FATF,IMF کا قلادہ پڑا ہے، سو یہ ہماری معاشی مجبوری ہے۔ اقبال نے پوچھا تو تھا: ’اے مرے فقر غیور! فیصلہ تیرا ہے کیا، خلعت انگریز یا پیرہن ِچاک چاک۔‘ خلعتِ انگریز یوں بھی ہمارے مرد وزن کی ترجیح اول ہے۔ پہناوا گورے کا پسند ہے۔ فقرِ غیور مشکل اردو ہے جو پہلے بھی قوم کو نہیں آتی تھی۔ آن لائن کورونا تعلیمی سالوں میں مزید ہاتھ دھو بیٹھے! پپرہن چاک چاک ہمسائے افغانستان کا ہے، سو وہ بہکی بہکی باتیں کرتے رہتے ہیں، جب ہم ادھر قرض کی مے میں غرق ہوتے ہیں۔ (ہم دنیا کو افغانستان میں انسانی المیے سے ڈرا رہے ہیں خود عوام کو، معیشت کو TLP اور طوفانی مہنگائی کے ٹیکے لگاکر مار رہے ہیں۔) مثلاً ملّا ترابی کا یہ کہنا ہے کہ ’ہم قوانین قرآن کی رو سے بنائیں گے۔ دنیا ہمیں لیکچر نہ دے کہ ہمارے قوانین کیا ہوں۔‘ ہم یہ لب ولہجہ کیونکر اختیار کرسکتے ہیں۔ ہم تو فیٹف کی فٹے منہ والی ڈکٹیشن کے ہاتھوں مجبور ہیں جبری تبدیلیئ مذہب (سے روکنے) والے بل کی سی اطاعت شعاری پر۔ بھلے نماز اگر پڑھیں تو مغضوب، ضالین کی مشابہت، ان کی راہوں، طور طریقوں سے بچنے کی دعا والی سورۃ فاتحہ پڑھ لیں۔ بس کافی ہے۔پیٹ کے تقاضے گھمبیر ہیں، انہیں اقبال جیسوں کے شاعرانہ تخیلات پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں نہ بتاؤ کہ دیوالی کے دن بھارت میں بریانی بیچنے والے مسلمان دکاندار کو کیسا ڈرایا دھمکایا گیا۔ دکان بند کرواکر مقدمہ اس کے خلاف درج ہوگیا۔ البتہ ایک کمی ہمارے ہاں یہاں تہوار مناتے سیاست دانوں سے رہ گئی۔ وہ یہ کہ گوبر میلے کا اہتمام نہیں کیا جو دیوالی کا حصہ ہے۔ (ان کا عقیدہ ہے کہ اس سے بیماریوں کا علاج ہوتا ہے۔ یہ بھی کرلیتے تو شفایاب ہوجاتے) اس میں گائے کا گوبر آخر میں ایک دوسرے پر پھینکا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ رواداری، مذہبی ہم آہنگی کے سارے کورسز ہم مسلمانوں ہی کو کیوں کروائے جاتے ہیں؟ مودی کے بھارت اور میکرون کے فرانس پر اس کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟ فرانس بالخصوص اور یورپ بالعموم نت نئے قوانین بناکر اسلام پر ہمارا جینا ہر جا دوبھر کیے جا رہا ہے۔ مساجد ڈھانے، حجاب کو مشکل ترین بنا دینے کے بعد اب شامت ہے حلال گوشت میسر آنے کی! یورپ بھر میں پہلے ہی کم ازکم گیارہ ریاستوں میں مسلم ذبیحے اور یہودی کوشر (حلال سے مماثلت والا) ذبیحے کی ممانعت ہے۔ اب یونان کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت نے بھی یہی قانون بنا دیا ہے۔ ظاہری توجیہ یہ ہے کہ جانور کا ذبیحہ بے رحمی ہے، تاہم اسی یورپ میں حیوانات سے بے رحمی کے بے شمار خوفناک شواہد موجود ہیں۔ نیدر لینڈ میں خنزیروں اور بچھڑوں کو زندہ ابالا اور کھال اتاری جاتی رہی ہے مذبح خانوں میں۔ بلجیم اور ڈچ این جی اوز نے واقعات رپورٹ کیے ہیں جس میں باڑوں میں بڑی تعداد میں آگ لگنے اور اپنے ہی گوبر میں دم گھٹ کر مرتے جانوروں کا قضیہ درج ہے۔ سائنسی طور پر بھی یہ ثابت ہے کہ جانور کو سب سے کم تکلیف مسلم ذبیحے کے طریقے پر ہوتی ہے، بہ نسبت بے ہوش/ جھٹکے کے طریقے پر مارنے کے۔ سوائے اسلام دشمنی کی عالمی لہر کے یہ نت نئے حربوں کی کوئی اور وجہ نہیں۔ ہم ہیں کہ سودی قرضوں اور کفر کی خوشنودی کے شوق میں مرے جا رہے ہیں۔ اور وہ ہمارا گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔
ملا عمرؒ نے وائس آف امریکا (VOA: 26 ستمبر 2001ء) کو انٹرویو دیتے ہوئے جو تلخ سچ بولے تھے وہ آج بھی زندہ حقائق ہیں۔ (40 منٹ کا یہ انٹرویو امریکی سرکار نے نشر کرنے کی اجازت نہ دی تھی۔ صرف 12 منٹ کی رپورٹ گارڈین نے دی!) ملاعمرؒ: ’ہر کوئی امریکا سے خوفزدہ ہے اور اسے خوش کرنا چاہتا ہے، مگر امریکا ایسے واقعات کا تدارک (11 /9) نہیں کرسکے گا کیونکہ امریکا نے اسلام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ مسلم ممالک کے لوگ مایوس ہیں۔ شاکی ہیں کہ اسلام رخصت ہوا۔ سیکولر قوانین نے اسلامی قوانین کی جگہ لے لی۔ امریکا اگر اس بلا (فدائی حملوں) سے نجات چاہتا ہے تو اسے اسلام کو دبوچنے کا یہ عمل ترک کرنا ہوگا۔ (یورپ میں مسلمان مسلسل توہین رسالت کے ساتھ لباس اور اب خوراک پر حکومتی یلغار میں مبتلا ہیں۔) VOA: یرغمال بنانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ ملاعمرؒ: امریکا مسلم حکومتیں کنٹرول کرتا ہے۔ ان کی بولی لگاتا، تعاقب کرتا ہے۔ عوام اپنی حکومتوں کے آگے بالکل بے بس ہیں کیونکہ حکومتیں امریکا کی گرفت میں ہیں۔ اس طرح وہ بدعنوان ہوجاتی ہیں۔ (اشرف غنی کی بھگوڑی حکومت اور فوج کی طرح) وہ عوام کو نظرانداز کرتی ہیں۔ اگر کوئی اسلام کی راہ چلتا ہے تو حکومت اسے گرفتار کرتی ہے، تشدد کرکے مار ڈالتی ہے۔ یہ سب امریکا کا کیا دھرا ہے۔ (امریکی ایماء پر ہوتاہے، وہ عقوبت خانوں کو فنڈ کرتا ہے!) اگر یہ ان حکومتوں کو مضبوط کرنا چھوڑ دے تو ایسا نہیں ہوگا۔ یہ بلا (حملہ آور) امریکا نے خود پیدا کی ہے، جو میرے یا اسامہ یا دوسروں کے مرنے سے ختم نہ ہوگا۔ امریکا کو اس پالیسی سے پیچھے ہٹ کر پوری دنیا، خصوصاً مسلم ممالک پر تسلط جمانا ختم کرنا ہوگا۔‘ امریکا، یورپ انسانی اور آسمانی تھپیڑے (11 /9 تا کورونا) کھا کر بھی تکبر کے نشے میں مبتلا ہے۔ ایک ہی مرتبہ فرداً فرداً کولن پاول (آنجہانی) کی طرح نشہ ٹوٹے گا۔ پناہ بخدا!

تبصرے بند ہیں.