ملالہ یوسفزئی نے نکاح کے موقع پر پاکستانیوں سے بڑی اپیل کردی

146

لاہور: پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے جیون ساتھی چن لیا ۔ملالہ یوسفزئی نے  اثر ملک کے ساتھ نکاح کے دن کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی دن قرار دیا ۔ملالہ نے پاکستان کے عوام سے اپنے بہترمستقبل کے لئے دعاؤں کی درخواست کی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق ملالہ یوسفزئی اور اثر ملک کا نکاح برمنگھم میں ان کے گھر میں ایک سادہ تقریب میں ہوا جس میں دونوں خاندانوں کے افراد نے ہی شرکت کی ۔ ملالہ یوسفزئی نے اپنے نکاح کی تصدیق کرتے ہوئے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ آج میری زندگی کا سب سے قیمتی دن ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی نئی زندگی اور بہتر مستقبل کے لئے پرجوش ہوں مجھے ایسے وقت میں پاکستان اوردنیا بھر کے عوام کی دعائیں چاہئیں ۔

یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کے شوہر اثر ملک لمز یونیورسٹی سے گریجویٹ اور  پاکستان کرکٹ بورڈ میں جنرل مینجر ہائی پرفارمنس سنٹر میں ذم داریاں سرانجام دے رہے ہیں ۔

24 سالہ ملالہ یوسفزئی 12 جنوری، 1997ء کو خیبرپختونخوا کے علاقے سوات میں پیدا ہوئیں، ان کی وجہ شہرت اپنے آبائی علاقے سوات اور خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق، تعلیم اور حقوق نسواں کے حق میں  اس وقت آواز بلند کرنا ہے جب مقامی طالبان نے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگا دی تھی اور خواتین کا تعلیم حاصل کرنا جرم سمجھا جاتا تھا ۔

سال 2009ء  میں 12 سالہ ملالہ نے "گل مکئی” کے قلمی نام سے بی بی سی کے لیے ایک بلاگ لکھا جس میں ملالہ نے طالبان کی سوچ اور پالیسی پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں خواتین کو بھی اتنا ہی تعلیم یافتہ ہونا چاہئے جتنا کہ مردوں کے لئے سمجھا جاتا ہے ۔

سال 2009 ء میں جب پاک فوج نے سوات سے طالبان کا خاتمہ کیا تو امریکی صحافی ایڈم بی ایلک نے ملالہ پر ایک  ڈاکومنٹری بنائی۔ جس سے ملالہ کو دنیا بھر میں شہرت ملی ۔

ملالہ یوسفزئی کا نام بین الاقوامی امن ایوارڈ برائے اطفال کے لیے جنوبی افریقہ کے ڈیسمنڈ ٹوٹو نے پیش کیا تھا ۔

9 اکتوبر، 2012ء میں سکول جاتی ہوئی ملالہ کو ایک مسلح شخص نے بس میں سوار ہوکر نام پوچھا اور فائرنگ کا نشانہ بنایا ۔ ملالہ یوسفزئی کو تین گولیاں لگیں ایک گولی ان کے ماتھے کے بائیں جانب لگی اورکھوپڑی کی ہڈی کے ساتھ کھال کے نیچے سے حرکت کرتی ہوئی اس کے کندھے میں جا گھسی ۔

زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ملالہ یوسفزئی کئی ہفتے بیہوش رہیں ان کی حالت کچھ سنبھلی تو اسے برمنگھم کے کوئن الزبتھ ہسپتال بھیج دیا گیا جہاں ان کا علاج ہوا جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی وہیں گذارنے کا فیصلہ کرلیا ۔

12 جولائی 2013ء کو ملالہ نے اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں خطاب کیا اور مطالبہ کیا کہ دنیا بھر میں تعلیم تک رسائی دی جائے۔ ستمبر 2013ء میں ملالہ نے برمنگھم کی لائبریری کا باضابطہ افتتاح کیا۔ ملالہ کو 2013ء کا سخاروو انعام بھی ملا۔

16 اکتوبر 2013ء کو حکومتِ کینیڈا نے اعلان کیا کہ کینیڈا کی پارلیمان ملالہ کو کینیڈا کی اعزازی شہریت دینے کے بارے بحث کر رہی ہے۔ فروری 2014ء کو سوئیڈن میں ملالہ کو ورلڈ چلڈرن پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ 15 مئی 2014ء کو ملالہ کو یونیورسٹی آف کنگز کالج، ہیلی فیکس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی ۔

 

تبصرے بند ہیں.