ایک بار پھر…

69

ناتجربہ کاری اور سیاسی فہم و فراست کا ادراک نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت نے مجبور لاچار عوام پر ان تین سال میں اتنے بم گرائے ہیں۔ اگر ان بموں کا نام شمار کرنے لگ جاؤں تو یقینا میرا پورا کالم ہی ان بموں کے ناموں کی نذر ہو جائے گا۔ اس لیے اختصار سے کام لیتے ہوئے یہی کہوں گا کہ موجودہ حکومت دراصل ایک بم کا ہی نام ہے اور یہ بم کوئی عام بم نہیں ہے۔ اس کو جبر کے زور پر عوام پر سینتیس 37 سال حکومت کرنے والوں نے ایجاد کر کے عوام پر گرایا ہے۔ ان شاء اللہ ایک بار پھر ان قوتوں کی ہار ہونے والی ہے۔ حکومت نے ان تین سال میں ملک اور عوام کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے۔ عوام مہنگائی اور لاقانونیت سے تنگ آ کر چیخ رہے ہیں اور حکمران ڈھٹائی کے ساتھ سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہے ہیں۔ دراصل یہ ان کا اعتراف ہے اور ان کے جانے کے اشارے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت کے کسی وزیر سے کوئی یہ پوچھتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جب پٹرول ایک روپیہ مہنگا ہوتا تھا یا ڈالر کی قیمت ایک روپیہ بڑھتی تھی تو آپ کہتے تھے کہ جب پٹرول بڑھتا ہے تو وزیراعظم چور ہوتا ہے تو آج کون چور ہے آج اس کا ذمہ دار کون ہے تو کسی کے پاس اس کا جواب دینے کے لیے نہیں ہوتا۔ ان کی سب دلیلیں دم توڑ چکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نادیدہ قوتوں کے اپنے عزائم ہوتے ہیں اس لیے وہ بعض دفعہ حکومت کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں جن کی حیثیت محض کوہلو کے ایک بیل کی مانند ہوتی ہے جو اپنی آنکھوں پر عینک کے باعث چلتا ہی رہتا ہے لیکن اس کی کوئی منزل نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کو اپنی منزل کی نشاندہی ہوتی ہے موجودہ حکومت کا کردار بھی محض کوہلو کے بیل کے مترادف ہے۔ ان حالات میں ملک و قوم کو بچانے کی ذمہ داری اب سیاسی جماعتوں پر بھاری عائد ہوتی ہے۔ بالخصوص پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) جیسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملک وقوم کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں بلاشبہ اس وقت ملک کو اگر کوئی بحرانوں سے نکال سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہیں۔ گونادیدہ قوتوں نے ہمیشہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لیے ہمہ قسم کے حربے استعمال کیے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قوموں کی ترقی میں کردار سیاسی جماعتوں کا ہی ہوتا ہے کوئی دیگر ریاستی ادارہ ان کے ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک مختلف طریقوں سے سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کی سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ کبھی مارشل لاؤں کے تو کبھی نیب کے ذریعے مگر سیاسی جماعتوں کا وجود ایک اٹل حقیقت ہے جس دن وہ ختم ہو گیا اس دن ہم آزاد بھی نہیں ہوں گے۔ اس دن فرق صرف یہ ہو گا کہ ہم نادیدہ قوتوں کی غلامی سے نکل کر کسی دوسرے کی غلامی چلے جائیں گے۔ ہم وہ بدنصیب لوگ ہیں جو نسل در نسل ابھی تک غلامی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے آ رہے ہیں اور ان زنجیروں میں قید رکھنے کے لیے انصاف کے ایوان ہمیشہ طاقتور کے زیر اثر اپنا کام کرتے آ رہے ہیں جس دن انصاف کے ایوانوں میں بیٹھے ناخداؤں کو یہ احساس ہو گیا کہ جو ملک ہمارے آباء و اجداد نے اپنی جان و مال عزت اور اپنی عصمتوں کی قربانی کر کے حاصل کیا تھا، ہمیں اس کو قائداعظم کا پاکستان بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تو آپ اور میں دیکھیں گے کہ اس دن ہماری آزادی کا پہلا دن ہو گا بادل نخواستہ اگر ایسا نہیں ہوا اور موجودہ روش کو ترک نہ کیا تو ہمیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ آج ہماری جو ناگفتہ بہ حالت ہے اس کا ذمہ دار یہی طبقہ ہے۔ کیا ہمارے لیے یہ شرم کا مقام نہیں ہے کہ انصاف کا بول بالا کرنے والے اور احتساب کے نام پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف آدھی رات کے وقت عدالتیں لگا کر ان قوتوں کے دست راست کا کردار ادا کرتے آ رہے ہیں اسی وجہ سے جب کوئی معزز جج جب تک اپنی کرسی پر براجمان رہتا ہے اس وقت تک لوگ اس کے عہدے کے خوف کے باعث اس کی تعظیم کرتے ہیں اور یونہی وہ ریٹائرڈ ہوتا ہے تو کوئی ذی شعور شہری یا سیاسی کارکن ان سے دعا سلام کرنا بھی گوارا نہیں کرتا ایک وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے انصاف کے ایوانوں کو چار چاند لگا دیئے تھے۔ جسٹس اے آر کارنیلیس۔ دراب پٹیل، بھگوان داس ان ایوانوں کا فخر تھے اور یہ نام ہمیشہ فخر کا باعث رہیں گے سیاسی جماعتیں ہمیشہ ان کے نام کا ذکر فخر سے کرتی ہیں۔ سیاسی کارکن کبھی ہار نہیں مانتے اس لیے تو شاعر نے یہ کہا ہے کہ
گھبرانے والے نہیں ہم دیکھا تم نے پہلے بھی
ہار ہونے والی ہے باطل کی ایک بار پھر
ان دی اینڈ کوئی کچھ بھی کر لے موجودہ ملکی بحرانوں سے صرف سیاسی جماعتیں ہی نبٹ سکتی ہیں اور ان بحرانوں کے خاتمہ کا حل بھی صرف اور صرف پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے کیونکہ ان دونوں جماعتوں کے قائدین سیاسی بصیرت رکھتے ہیں۔ کہن مشق اور تجربہ ٹیم ان بحرانوں کو شکست دے سکتی ہے جو کہ موجودہ حکومت کے پاس نہیں ہے ان تین سال میں تحریک انصاف کی حکومت ٹیم نے جو گل کھلائے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہیں کوئی تو ہو جو سیاسی جماعتوں کے قائدین بلاول بھٹو زرداری صاحب اور میاں نواز شریف صاحب کو یہ باور کرا سکے کہ آپ نااہل حکومت کو مزید دو سال کا عرصہ حکومت کرنے کی مہلت دینے کی جس پالیسی پر گامزن ہیں، اس کا راستہ صرف اور صرف تباہی کی جانب جاتا ہے۔ ایک طرح سے موجودہ حکومت کو مہلت دینے کا مطلب ملک دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔

تبصرے بند ہیں.