بجلی میں لپٹا پٹرول بم اور گڈ گو رننس

68

یکم نو مبر کا سورج طلو ع ہو نے سے پہلے عوام، پٹرول ،جو اس وقت ایک سو اڑتیس روپے لیٹر د ستیا ب تھا، کی قیمت میں اضا فے کی خبر وں سے خو ف زدہ تھے۔ مگر جب اکتیس اکتو بر کی شا م کو وزیرِ اعظم کی جا نب سے اعلا ن کیا گیا کہ پٹرو ل کی قیمت میں ا ضا فہ نہیں ہو گا، تو عوام کا خو ف قدرے کم ہوا۔ مگر پھر کیا ہو اکہ چا ر نو مبر کی صبح جب عوا م بیدار ہو ئے تو انہیں میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ گذ شتہ را ت کے پچھلے پہر پٹر ول کی قیمت میں آ ٹھ روپے کے اضا فے سے مہنگا ئی کی چکی میں پستے عوام پہ شبخو ن مار دیا گیا ہے۔ بات یہا ں بھی نہ تھمی اور اگلے ہی روز بجلی کی قیمت میں اضا فے کا اعلا ن کر دیا گیا۔ یا د دلا دوں کی تین نو مبر کی شا م وزیرِ اعظم نے ٹی وی پہ اشیا ئے ضروریہ کے سستے کئے جا نے کا اعلا ن کیا تھا۔ مگر اب حکو مت اپنے دعووں کے برعکس عمل کررہی ہے۔ ایک طرف وزیراعظم راشن منصوبے کے ذریعے آٹا، دال اور گھی 30 فیصد سستا کرنے کا اعلان کررہے تھے، مگر اسی دوران حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی سٹور پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 65 روپے فی کلو اضافہ کردیا گیا جبکہ چینی کی قیمت مارکیٹ میں 140 روپے کلو سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس صورت حال میں حکومت کا مجوزہ سبسڈی پروگرام سوالات کی زد میں ہے کہ پیچیدہ اور غیرواضح یہ پروگرام عملاً اس قابل ہوسکے گا کہ حق دار افراد استفادہ کرسکیں؟ پروگرام کی اہلیت کے معیار یعنی ساڑھے 31 ہزار روپے ماہانہ آمدنی کا تعین کرنے کے لیے حکومت کیا طریقہ کار استعمال کرے گی؟ یہ سوال قابل غور ہے، نیز یہ کہ جس ’احساس غربت سروے‘ کا اب سن رہے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟ کیا یہ مفروضہ سبسڈی پروگرام ملک بھر میں پھیلے ہوئے غریب طبقے کو یکساں کوریج دے سکے گا؟ آنے والے دنوں میں اس سبسڈی منصوبے کی افادیت انہی سوالوں سے ثابت ہوگی۔ بہرحال یہ منصوبہ حکومت کو اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں اضافے کا لائسنس نہیں دیتا۔ دو کروڑ غریب کنبوں کو بہت ہی بنیادی نوعیت کی تین اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر 30 فیصد رعایت دینے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس رعایت کی کسر توانائی اور دیگر بہت سی اشیا کے نرخوں میں اضافے سے پوری کرلی جائے اور پھر دو کروڑ گھرانوں ہی کی بات نہیں حکومت کو آبادی کے اس حصے کا بھی خیال کرنا ہوگا جو حکومت سے آٹا، دال اور کوکنگ آئل پر سبسڈی نہیں لے رہا، لیکن فی الواقع آمدنی کے اعتبار سے متوسط یا نچلے طبقے میں شامل ہیں۔ یہ درمیانہ طبقہ تنخواہ دار یا چھوٹا کاروباری طبقہ معیشت کی قوت متحرکہ مانا جاتا ہے۔ مگر ان تین برسوں میں بڑھتے اخراجات اور وسائل آمدنی کے جمود کے باعث یہ طبقہ دُہری اذیت کا شکار ہے۔ اس جمود کا اثر قومی پیداوار اشیا کی محدود طلب اور ملکی معیشت کی شرح نمو رواں مالی سال کے دوران 3.4 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔ یہ شرح نمو جنوبی ایشیا میں سری لنکا کے بعد کم ترین سطح پر ہے۔ مڈل اور لوئر مڈل انکم گروپ کے لیے معاشی آسانی
پیدا کرنا صرف ملکی معیشت کو اُٹھانے کا گر یہی مڈل اور لوئر مڈل انکم گروپ والا تنخواہ دار یا درمیانہ اور چھوٹا کاروباری طبقہ تھا۔ ملکی آبادی کی اکثریت پر مشتمل اس طبقے نے 2018ء کے انتخابات میں بہت بڑا داؤ کھیلا۔ کوشش اس کی کامیاب رہی مگر نتائج توقع کے برعکس برآمد ہوئے۔آج بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تین برس پہلے کی قیمتوں سے تقابلی جائزہ حیران کردینے والا ہے۔ اگست 2018ء میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 745 روپے کا تھا اور چینی 55 روپے کلو تھی۔ اب آٹے کا یہ تھیلا 1100 روپے کا ہے اور چینی 160 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ تین برس پہلے گھی، کوکنگ آئل کا پانچ لٹر کا ڈبہ 900 روپے کا تھا، اب 1750 روپے کا ہوچکا ہے۔ دالوں، سبزیوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی یہی شرح اضافہ ہے۔اس صورت حال میں حکومت جس سبسڈی پروگرام کا دعویٰ کر رہی ہے اس کے حقیقی اثرات سخت مشکوک ہیں۔ جبکہ دو کروڑ خاندانوں کو اگر دو تین اشیا میں کچھ رعایت مل بھی جائے تو اسے باقی آبادی کو حکومت کی بے تحاشا مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کا جواز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اب اگر گڈ گو رننس کی با ت کریں تو گڈ گورننس یعنی اچھی حکمرانی، جسے ہم حکومتی نظام یا نظم و ضبط بھی کہتے ہیں، کا نہ ہونا ہماری بڑی قومی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔ اس کمزوری کی وجہ سے ریاست اور فرد کی زندگیوں میں اکثر بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ مسائل حجم، سنگینی اور نقصان کے اعتبار سے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ ناقص گورننس کی کئی وجوہ ہیں لیکن اگر ایک کا ذکر کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ حکومت نے اتنے زیادہ کام اپنے ذمے لے رکھے ہیں کہ ان کی کما حقہ ادائیگی ممکن نہیں۔ ہمارے ہاں ہر شعبے میں حکومتی ذمہ داریوں کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ قابل سے قابل حکومت بھی ان کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ دے گی۔ تعلیم کے شعبے کو ہی لیں، ایک کمرے میں قائم دُور اُفتادہ دیہی پرائمری سکول یا سرے سے بغیرعمارت کے سکول سے لے کر بلند ترین سطح کی یونیورسٹی، جس میں تحقیق کرنے والے ڈاکٹریٹ کی سند کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں، ان سب کے قیام اور ان کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری حکومت کی ہی ہے۔ صحت کا شعبہ لے لیں، ایک کمرے کی ڈسپنسری سے لے کر نیوکلیئر طب کے مراکز چلانے تک کی ذمہ دار بھی حکومت ہی ہے۔ تعلیم اور صحت، دونوں شعبوں میں ’سب جانتے ہیں‘ نجی شعبے کا اب بہت بڑا وجود ہے جو نہایت موثر انداز میں اپنا کام کررہا ہے۔ ان شعبوں میں نجی شعبے کی اس قدر بھرپور موجودگی کی سب سے بڑی وجہ بھی حکومتی شعبے کی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکامی ہے۔ سرکاری شعبہ تعلیم اور صحت دونوں میدانوں میں سہولیات اور معیار کے اعتبار سے پیچھے رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور صحت جیسے کئی بڑے بڑے شعبوں میں نجی شعبہ رفتہ رفتہ سرکاری شعبے کا متبادل بنتا جارہا ہے۔ سرکاری شعبہ سکڑا نہیں لیکن نجی شعبے میں قائم ہونے والے تعلیم اور صحت سے متعلق سہولیات میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ سرکاری شعبہ موازنے میں چھوٹا نظر آنے لگا ہے۔ ہماری ناکامی دراصل یہ ہے کہ گورننس میں دنیا نے جو جدید ترین طریقے اور تصورات دریافت کیے، جو رجحانات دنیا نے اپنائے، ہم نے ان سب سے کچھ نہیں سیکھا۔ ہم جمود کا شکار رہے۔ ہم اس وقت گورننس کے معاملے میں اس مقام سے بھی پیچھے چلے گئے جہاں غلامی کے دور میں پہنچ چکے تھے۔ یہی ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے۔ افسروں کی آئے دن اکھاڑ پچھاڑ، آئے دن کی معطلیاں، آئندہ کمال کردینے کے دعوے سننے میں آتے ہیں لیکن گورننس میں رتی برابر فرق نہیں پڑتا۔ آخر کیوں؟ حکومت کو کیا کرنا چاہیے کہ گورننس کا معیار بہتر ہو۔ عام شہری کو حکومت کی طرف سے جو سہولیات دی جاتی ہیں ان کا معیار بہتر ہو۔ کرنے والے کام تو بہت ہیں لیکن ابتدا اسی مقام سے ہونی چاہیے کہ حکومت اپنی موجود ہ ذمہ داریوں کا جائزہ لے اور ان پر نظر ثانی کرے کہ کون سی ذمہ داریاں اُس نے خود ادا کرنی ہیں اور کون سی ایسی ذمہ داریاں ہیں جن کے بارے میں حکومت نے یہ انتظامات کرنے ہیں کہ اس کے تعاون کے ساتھ نجی شعبہ انہیں ادا کرے گا۔ یہی وہ طریقہ ہے جو دنیا میں رائج ہے، مقبول ہے اور کامیاب بھی۔

تبصرے بند ہیں.