ظل سبحانی رحم

81

ہر طرف سے پھٹکار پڑ رہی ہے۔ ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ لاہور میں ڈینگی وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ کسی کو دوا دارو نہیں مل رہا۔ بخار کے لیے پیراسیٹامول دستیاب نہیں۔ کہاں گئے وہ دعوے کہ میرے خلاف چار لوگ باہر نکل آئے تو استعفیٰ دے دوں گا۔ بادشاہ سلامت مزے میں ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ لوگوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ چینی کا نرخ بڑھ جائے ان کا چولہا چلتا رہے گا۔ تاریخ انہیں ایک بے رحم بادشاہ کے طور پر یاد رکھے گی۔
بہت سے ہوں گے جن پر مہنگائی اثر نہیں کر رہی اور وہ ظل سبحانی کے گن گا رہے ہیں، باقی عوام تو صلواتیں سنا رہی ہے۔ حقیقت کھل کر سامنے آتی جا رہی ہے۔ ایجنڈا صرف حکومت حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ملک کو بے دست و پا کرنا تھا۔ کہاں گئے وہ جو کہتے تھے کہ سب کو آزما لیا ایک موقع اس کو بھی دینا ہو گا۔ قصور وار وہ بھی ہے جو یہ راگ الاپتا رہا ہے۔ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر، لوگ ملتے گئے کاررواں بنتا گیا کے مصداق یہ سب اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔ حکومت اقتدار میں آنے کا نام نہیں ہے بلکہ اقتدار کو استعمال کرنے کا نام ہے۔ چینی راتوں رات بیس سے تیس روپے مہنگی ہو گئی اور صاحب بہادر چینی کم استعمال کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ کئی بہی خواہوں نے یہ مشورہ بھی دے ڈالا کہ چینی کا استعمال کم کر دیں یا ختم کر دیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ اس حکومت سے نہ جان چھڑا لیں جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ کب تک سمجھوتے کریں گے۔ پٹرول مہنگا ہوا ہے تو موٹر سائیکل اور گاڑی کا استعمال چھوڑ دیں۔ روٹی مہنگی تو کھانا چھوڑ دیں۔ تین وقت کی روٹی کے بجائے دو وقت کی روٹی پر آ جائیں۔ بس عوام پیٹ بھر کر روٹی کا تقاضا نہ کریں۔ منہ کو بند کر لیں اور ظل سبحانی کے قصیدے گانا شروع کر دیں۔
عوام پر مشکل وقت آتا ہے اور عوام اس سے نکلنے کے لیے صبر بھی کرتی ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب عوام کو اپنے لیڈر پر اعتماد ہو۔ اب ظل سبحانی پر کوئی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کے بجائے یہ کہا جائے کہ جن لوگوں نے لوٹا ہے وہ پیسہ واپس لے آئیں تو قیمتیں آدھی کر دوں گا۔ چینی کی ملیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لوگوں کی ہیں انہوں نے چینی مہنگی کی ہے سارا قصور ان کا ہے۔ کیا چینی کے ذخیروں پر حکومت کے لوگ قبضہ نہیں کر سکتے جو ملیں اس میں ملوث ہیں انہیں حکومتی تحویل میں لینے کا اعلان کیوں نہیں کیا جاتا۔ کیا لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ گزشتہ سال ملک میں گنے کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ کاٹن کی فصل خراب ہونے کی وجہ سے سارا کاٹن بیلٹ گنے کی کاشت کر رہا ہے۔ پھر چینی کہاں گئی ہے۔ چینی کی پیداوار کو زمین نگل گئی ہے یا اس میں سے درپردہ لوگوں نے مال کمایا ہے۔ راتوں رات ایک کلو پر تیس روپے بڑھنے سے چینی کے تاجر راتوں رات کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔ آپ صرف بین بجاتے رہیں اور لوگوں پر زور دیں کہ وہ خاموشی سے سب برداشت کریں۔ کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کے عوام آپ کے لیے بچھے جاتے ہوں۔
اب تو لوگوں کو یہ سمجھ بھی آگیا ہے کہ مینڈیٹ کیسے لیا اور کیسے دیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیالکوٹ کے حلقے میں ہونے والی انتخابی دھاندلی کی انکوائری رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں واضح طور پر انتظامی مداخلت کو عیاں کر دیا گیا ہے کہ کس طرح حکومتی ایما پر انتظامی مشینری نے اپنے فرائض منصبی سر انجام دیے۔ اس پر کیا کاروائی ہوتی ہے اور جن کے نام اس میں شامل ہیں ان کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے یہ وقت آنے پر پتہ چلے گا۔ کیا مرکز اور صوبوں میں اسی طرح کا پیٹرن استعمال کیا گیا ہے اور اب الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے دعوے کیے جا رہے ہیں تاکہ ایک کمانڈ سے صاف شفاف رزلٹ تیار کیا جا سکے۔
تیل ڈالر اور چینی کی قیمت ایک ہوتی جا رہی ہے اور پھر بھی یہ دعویٰ کہ پاکستان میں مہنگائی نہیں ہے بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان ایک سستا ملک ہے۔ اس طرح کی تقریر کے بعد لوگ کیا کہتے ہیں کاش آپ سن سکتے۔ عوام سے اسے کوئی سروکار نہیں ہے ہاں ٹی ایل پی کو کالعدم تنظیم کی فہرست سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ اب وہ دہشت گرد تنظیم نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی جماعت ہے۔ آنے والے انتخابات کے لیے جو فضا تیار کی جا رہی ہے اس میں اس تنظیم کے کردار کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ پاکستان فیٹف سے باہر کیوں نہیں نکل رہا۔
کوئی چیز ایسی ہے جو اس حکومت کے دور میں سستی ہوئی ہے۔ کچھ بھی نہیں اور نہ ان میں یہ اہلیت موجود ہے۔ وطن عزیز کو گروی رکھ دیا گیا ہے اور ایک ایجنڈے کے تحت پورے نظام کو تہہ و بالا کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ مہنگائی اسی طرح جاری رہی تو ملک بد امنی کا شکار ہو جائے گا۔ جگہ جگہ لوٹ مار شروع ہو جائے گی۔ مافیا پیسہ لوٹ کر ملک سے فرار ہو جائے گا اور لوگ ایک دوسری کے گلے کاٹیں گے۔
ظل سبحانی کو عالم مدہوشی سے جگانے کی ضرورت ہے۔ ان کے نو رتن سر جوڑ کر بیٹھیں اور اگر عوام کے لیے ہمدردی کا کوئی گوشہ موجود ہے تو ان کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ عوام کو بتائیں کہ راتوں رات ڈالر کے نرخ کس نے اوپر کیے۔ وہ کون سے چہرے ہیں جنہوں نے ایک ہی جھٹکے میں چینی کی فی کلو قیمت میں بے تحاشا اضافہ کر دیا۔ ان فیکٹریوں کو قومی تحویل میں لے لیں جو اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں اور اپنی بے بسی
کا رونا رونے کی بجائے کچھ کر گذریں۔ اس مذاق کو بند کریں کہ پاکستان میں تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج دیا جا رہا ہے اور اسی رات پٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے اضافی کر دیا جائے۔ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ کر دیا جائے۔ کھانے کا تیل راتوں رات آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگے۔ حکومت کے ان اقدامات نے ملک سے مڈل کلاس کو ختم کر دیا ہے اور لوگوں کے لیے آٹا، دالیں اور سبزیاں خریدنا مشکل ہو گیا ہے ایسے میں ظل سبحانی کے یہ دعوے کوئی بھی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی دوسرے ملکوں کی نسبت کم ہے۔اعداوشمار کے مطابق اس مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مہنگائی بارہ اعشاریہ چار فیصد کے حساب سے بڑھی ہے۔ تاریخی پیکیج جس کے تحت ایک کنبے کو ایک ہزار روپے ماہوار ملیں گے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ویسے بہتر یہی ہے کہ عوام کو کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کے جھنجٹ سے آزاد کر دیا جائے اور ملک بھر میں لنگر خانے کھول دئے جائیں جہاں پر عوام جا کر اپنے حصے کی روٹی کھا لیا کریں۔ بھٹو نے تو عوام کو روٹی کپڑا اور مکان دینے کا اعلان کیا تھا مگر یہ حکومت انہیں اس سے بے نیاز کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے۔ ظل سبحانی رحم کہ عوام کی سکت جواب دے رہی ہے۔ انہوں نے اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگت لیا ہے۔ ظل سبحانی کچھ کریں کہ عوام کو احساس ہو کہ آپ مدہوش نہیں ہیں اور لوگوں کے دکھ درد کا آپ کو علم ہے۔

تبصرے بند ہیں.