قابلِ غور

57

اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں اور اُمتی ہونے کی وجہ سے سب سے افضل ہیں لیکن کیا مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا کافی ہے یا باعمل ہونا فخر کی بات ہے۔۔؟؟؟سب کو اس بات پر یقین ہے کہ روزِقیامت ہمیں شفاعتِ رسولﷺ نصیب ہو گی۔لیکن کیا اس کے لیے صرف مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا کافی ہے۔۔؟؟آج کل اس قدر عدم برداشت ہے کہ بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ کر کچھ دینی تعلیم سیکھنا تو دور ان سے زیادہ دیر تک بات چیت ہی نہیں کی جاتی۔مغربیت اس قدر ہمارے اوپر سوار ہے کہ ہر کام اور دینی معاملات میں بھی مغربیت کا سہارا لینا افضل سمجھا جاتا ہے۔ماں کی خدمت کا جس قدر بیاں اور حکم اسلام میں ہے دورِحاضر میں دیکھا جائے تو اولڈ ہوم بھرے پڑے ہیں۔اولاد کی محبت سے اب تو گالم گلوچ اور ہاتھا پائی بھی دکھائی دے رہی ہے۔معاشرہ کس سمت جا رہا ہے والد جس کی اطاعت کر کے ہی جنت کے دروازے تک پہنچا جا سکتا ہے آج کل مال و دولت کمانے اور گھر چلانے والی انسان نما مشین سمجھا جاتا ہے۔بھائی بھائی کا ساتھی ہوتا ہے۔مگر اس دور میں بھائی کو جائداد ودولت میں حصہ دار سمجھ کر دشمن بنا لیا جاتا ہے۔بہنوں کو رخصت کر کے تمام ذمہ داری اور رشتے ناتوں سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ کیا اسلامی طرزِزندگی یہی ہے۔جنت میں جانے کے لیے صرف نمازی ہونا ضروری نہیں ہے۔نماز کا سوال تو قبر کا سوال ہے جنت میں تو ہمیں ہمارے اعمال لے کر جائیں گے۔مال جائیداد اور دنیاوی معاملات کے لیے رشتوں سے بے رخی اور انسانیت کی تذلیل کرنا۔عورتوں پر خاندان کی پگڑی اور عزت رکھ کر فیصلے کرنا۔انصاف سے مبرا فیصلے کرنا۔ہندؤں اور انگریزوں کی رسم و رواج کے مطابق زندگی بسر کرنا۔سادگی چھوڑ کے بڑی بڑی گاڑیاں،دعوتوں اور روزمرہ زندگی میں غریبوں کو بھول کر رزق کا زیاں کرنا۔کفن کو بھول کر مہنگے اور فضول کپڑوں کی خریداری کرنا۔دینی تعلیمات کوبھول کر دنیاوی اور فرسودہ نصاب میں مشغول ہونا۔ حقیقی رشتوں کو چھوڑ کر ظاہری شان و شوکت کے حامل لوگوں سے تعلق جوڑنا۔ضرورت مندوں کے سامنے فضول خرچی کرنا۔فقیروں اور مساکین کو خالی لوٹانا۔ دکھلاوے کی عبادت کرنا۔فرقوں میں تقسیم ہونا۔ عبادت گاہوں سے دوری۔۔ اللہ تعالی کو بھول کر بااثر لوگوں سے مدد کی توقع رکھنا۔ انگلش میڈیم کے طالبعلموں کو نظرِخاص سے دیکھنا جبکہ مدرسے کے طالب علوں کو اہمیت نا دینا۔صد افسوس ہم اپنی جانوں پر کس قدر ظلم کر رہے ہیں۔موت اور قبر کے عذاب کو بھول بیٹھے ہیں۔ نعوذوبا اللہ کے خوف کا یہ عالم ہے کہ کیمرے کی آنکھ سے تو ڈرتے ہیں لیکن خوفِ خدا دلوں میں موجود نا ہے۔صبر تو اس معاشرے میں سالوں سے ناپید ہو چکا ہے۔عدم برداشت کی وجہ سے معاشرہ لڑائی جھگڑوں میں گھر چکا ہے۔طاقت ور کے لیے قانون موجود ہی نہیں ہے۔خود قاضی اپنا فیصلہ۔قاضی تو دور یہاں تو قانون تک اپنی مرضی کے بنوا لیے جاتے ہیں۔جہاں انصاف ناپیدہو وہ قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔قرآن کریم میں فرمایا گیا:-جب تک تم ہدایت پر ہو سر بلند رہو گے۔ہم سر بلند تو نہیں ہیں ہمارا سفر تو پستی کی طرف رواں دواں ہے۔جس نے اس ظلم کے دور میں صبر کا دامن تھام کر اللہ تعالی پر توکل کیا وہ پھر ایسا سرخرو ہوا کے وقت کے فرعون رسوا ہو کر رہ گئے۔بے شک طاقت کا سرچشمہ اللہ تعالی کی پاک ذات ہے۔ اور کامیابی قرآن وسنت کے مطابق گزری زندگی میں ہے۔جب تک سانسیں ہیں درِتوبہ کھلا ہے ابھی وقت ہے تمام غیر اسلامی رسومات کو ترک کر کے خاتم نبین حضرت محمد ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اپنی زندگی کو سنوار کر قبر و آخرت کی منزل کو آسان بنائیں۔دنیا میں پھیلی نفرت،بے چینی کو ختم کر کے ایک بہترین امتی بن کر زندگی گزاریں۔صرف مسلم گھرانے میں پیدا ہونا کمال نہیں ہے نا ہی صرف اس سے بخشش ہوگی۔ایک بہترین مسلمان بن کر رہنا ہی کمال ہے۔ کفار،یہودی اور دیگر غیر اسلامی قومیں تو ہیں ہی منکر جب کہ دینِ اسلام اور سنتِ رسول کے مطابق زندگی نا گزار کر ہم اللہ پاک کو ناراض کر رہے ہیں اور اس کے عذاب کو آواز دے رہے ہیں۔ خودسری خود تباہی ہے۔اللہ کریم ہمیں بھی غازی علم دین شہید، غازی فیصل خالد،غازی عامر چیمہ،غازی ممتاز قادری شہید اور تمام عاشقانِ رسول ﷺ کی صفوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر مسلمان کے دل میں ایسا ہی عشق ِرسولﷺ کا جذبہ پیدا ہو۔۔۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔۔ آمین

تبصرے بند ہیں.