عالمی ماحولياتی کانفرنس، دنیا بھر میں مظاہرین کا موسمیاتی بحران پر کارروائی کا مطالبہ

82

گلاسکو: درست اقدامات کرو اور دنیا کو تباہی سے بچاؤ ۔ گلاسگو ميں جاری عالمی ماحولياتی کانفرنس کے موقع پر مختلف ممالک میں احتجاجی ريلياں اور مظاہرے دوسرے روز بھی جاری رہے ۔

 

تفصیلات کے مطابق ، گلاسگو سمیت لندن ، نيروبی ، ميکسيکو سٹی ، پيرس ، سڈنی ، جنوبی کوریا سمیت مختلف شہروں میں کلائمٹ چیلنج پر ناکافی اقدامات کے خلاف مظاہرے کیے گئے ۔ جنوبی کوریا میں ایک ریلی کے دوران جلتی ہوئی دنیا کی تشبیہ دیتی ، لال رنگ کی ایک بڑی گیند کو اُچھالا گیا ۔ مظاہرين کا کہنا تھا کہ عالمی رہنما اس مسئلے سے نمٹنے کے ليے ہنگامی بنيادوں پر اقدامات نہيں کر رہے ۔

 

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جی 20 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسان ماحولیاتی تبدیلی سے اپنی قبر خود کھود رہے ہیں ۔

 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں موسمیاتی کانفرنس کے لیے جمع ہونے والے رہنماؤں کو بتایا کہ کھدائیاں کر کے ، سرنگیں بنا کر ، زمین کو نقصان پہنچا کر انسان اپنی قبریں خود کھود رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کرہ ارض اور انسانیت کو بچانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے ۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی پر فوری کارروائی کیے بغیر آنے والی تباہی کا سامنا ہے ، جس نقصان کو ہم پہلے ہی روکے بغیر دیکھ سکتے ہیں ۔

 

انہوں نے متنبہ کیا کہ سمندر کی سطح میں اضافہ 30 سالوں میں دوگنا ہو جائے گا ، یہ سمندر پہلے سے زیادہ گرم ہیں اور تیزی سے گرم ہو رہے ہیں اور یہ کہ ایمیزون بارش کا جنگل اب کاربن کا خالص اخراج کرنے والا ہے ۔ جو ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے کی بجائے اس کو بڑھانے میں حصہ ڈال رہا ہے ۔

 

انتونیو گوتریس نے عالمی طاقتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ آب و ہوا کو بہتر بنانے کے لیے عزم کریں اور 2030 تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 45 فیصد کمی اور 2050 تک خالص کاربن کے اخراج میں کمی لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے سائنس دان بھی ان اہداف کو پورا کرنے کے حق میں ہیں ۔ اس عمل سے اس صدی میں درجہ حرارت 1.5 ڈگری سیلسیس تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔

 

 

تبصرے بند ہیں.