’’تنگ آمد بجنگ آمد ‘‘

98

میں رلائوں گا انھیں ۔ یہ تھا ہمارے کپتان کا وعدہ اس نے اپوزیشن کو کافی مشکل وقت دیا لیکن وہ نہ رلا سکا ۔اب صورتحال یہ ہے کہ جنھیں رلانا تھا وہ تو لندن لاہور اور کراچی میں عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں حکومت اب جتنی مرضی وضاحتیں پیش کرے اس نے مکمل تسلی کے بعد نواز شریف کو لندن بھیجا اگر وہ غلط گیا تھا تو ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو سزا ملنی چاہئے لیکن وہ کیوں ملے گی کیونکہ انھوں نے تو وہی کیا جو انھیں حکم تھا اور ایک مبینہ معاہدے کے تحت نواز شریف کو علاج کے لئے لندن بھیج دیا گیاتاکہ انہیں بھی آرام رہے اور حکومت کو بھی آرام رہے۔ اپوزیشن میں اتنی سکت ہی نہ ہو کہ وہ حکومت کے کسی غلط کام پر احتجاج کر سکے اور حکومت کھل کر اپنا کام کرے ۔ہماری قوم کی خوش قسمتی ہے یا بد قسمتی کہ ہمیں ایسی حکومت ملی ہے جو پٹرول یا چینی مہنگی کرنے کے بعد ٹی وی پر آ کر فخریہ یہ اعلان کرتی ہے کہ یہ مہنگائی ملک اور عوام کے مفاد میں کی گئی ہے اور ساتھ ہی امریکہ اور برطانیہ میں قیمتوں کا موازنہ کرتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔ ابھی یکم نومبر کو ہمارا کپتان ڈٹ گیا تھا کہ اس نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کرنا پھر نجانے کیا ہوا ایک تقریر کی گئی کہ جس میں تیرہ کروڑ غریب عوام کو تقریبا پانچ روپے روزانہ کے حساب سے سبسڈی دی گئی اور کہا گیا کہ پٹرول کی قیمت بڑھانا پڑے گی اور کپتان نے ڈٹ کہ اپنا وعدہ نبھایا اور دو روز بعد ہی رات ایک بجے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ۔قبل ازیں لوگ چینی کو رو رہے تھے جو چوروں کی حکومت میں 55 روپے فی کلو تھی اب مختلف جگہ پر یا تو نایاب ہو چکی ہے یا 165 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے ۔عوام بیچاری جو چینی کمیشن کی رپورٹ کی منتظر ہے شاید رپورٹ آنے کے بعد چینی اپنی اصل قیمت پر واپس آ جائے لیکن ایسا تو نہ ہو سکا ۔اب ایک طرف چینی کی قیمت رکنے کا نام نہیں لے رہی دوسری طرف پٹرول بم ہر پندرہ دن بعد عوام پر برسنے لگا ۔پٹرول کے اضافے پر عوام سیخ پا ہیں اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر بہت دلچسپ تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں چند حاضر خدمت ہیں :۔
ٌ * ہن بوٹا گالاں نا کڈھے ؟
راتیں سوچیا کہ پٹرول پواندا جاواں فیر سوچیا سویرے جاندیاں سہی!!
فیر کیندے آ بوٹا گالاں کڈدا اے۔
*آدھی رات ہے کپتان تو ہو نہیں سکتا
یہ کون ہے جو سمریوں پر دستخط کرتا ہے
*سب سے بڑی لعنت اس لنگڑی اپوزیشن پر۔۔۔
*آج ٹائر پنکچر ہوا تو خان صاحب کی اے آر وائی پر تقریر سنتے ہوئے پنکچر والے نے ہزار روپے مانگ لئے میں نے کہا، پاگل ہو گیا ہے کیا، ایک ہی تو پنکچر ہے۔ پنکچر والا مسکرایا، بولا، انٹرنیشنل مارکیٹ میں پنکچر 20 ڈالر کا ہے جو ساڑھے تین ہزار بنتے ہیںخان صاحب کا فالوور ہوں، انٹرنیشنل مارکیٹ سے سستا لگا رہا ہوں۔
ٌ*خان صاحب یہ پانچ روپے ریٹ بڑھا کر رائونڈ فگر ہی کر دیں ہن چار روپیے بقایا دا دھیان کون رکھے؟
*نااہل حکومت ۔۔نااہل اپوزیشن
یہ تھے وہ چند دل جلے تبصرے جو سوشل میڈیا پر لوگ کر رہے ہیں بہت سے ایسے تبصرے بھی ہیں جو ناقابل اشاعت ہیں اس لئے میں ان کا حوالہ یا ان کو یہاں تحریر نہیں کر رہا ۔عوام حکومت کے ساتھ آج اپوزیشن کو بھی کوس رہے ہیں جو صرف ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ٹی وی پر ایک بیان جاری کرنے پر ہی اکتفا کر رہے ہیں چند روز قبل اپوزیشن کی طرف سے مہنگائی کے خلاف ایک تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا جو شاید اب اپوزیشن والے بھی بھول چکے ہیں ۔اپوزیشن کو چاہئے کہ اپوزیشن کرنے کا طریقہ عمران خان سے سیکھے اور عمران خان کو چاہئے کہ حکومت کرنے کا طریقہ سابق حکومتوں سے سیکھیں ۔عمران خا ن اپوزیشن میں تھے تو اس وقت کی حکومت نہ چاہتے ہوئے بھی عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیتی رہتی تھی ۔اب جب وہ حکومت میں ہیں تو اپوزیشن اتنی کمزور ہے کہ اس کی آواز ہی نہیں نکل رہی اسطرح اب عوام حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن سے بھی مایوس ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے ۔
پٹرولیم چونکہ ایسی چیز ہے کہ اس کے اثرات ہر جگہ ہوتے ہیں اس لئے آج صبح سے ہر کاروباری طبقہ اپنا بوجھ عوام پر ڈالنے کی تیاری میں مصروف ہیں اور عوام بے چاری روزانہ کہ ملنے والے پانچ روپے خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں ۔اس صورتحال میں کوئی ایک وزیر بھی عوام کے سامنے آ کر اپنی ناقص کار گزاری پر ندامت کا اظہارنہیں کر رہا نہ ہی کسی نے کہا ہے کہ وہ ساری کسر اپنے آئندہ سال میں نکال دیں گے۔
پوری قوم حیرت ہے اور پشیما نی میں مبتلا ہے کہ وہ کس قسم کے حکمرانوں کا انتخاب کر بیٹھی ہے یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو روٹی ، مہنگائی ، غربت ، بیروز گاری میں کمی لانے کے بجائے مسائل کومزیدگمبھیربناچکی ہے۔ عوام سے سکون کے ساتھ زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے ۔اور اپوزیشن بھی مصلحتوں اور مفاہمتوں کا لبادہ اوڑ ھے عوام کو کند چھری سے ذبح ہوتے دیکھ ر ہی ہے ۔
اس وقت جبکہ نئے انتخابات میں20 ماہ تک رہ گئے ہیں حکومت اور اسکے اتحادیوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ وہ عوام پر کند چھری چلانے کے بعد کس منہ سے ان کے پاس جائیں گے جبکہ متبادل قیادت کہلانے والی اپوز یشن کو بھی اب بخو بی اندازہ لگا لینا چاہیے کہ وہ عوام کے قاتل حکمرانوں کے اقتدارکو سسٹم کے تحفظ کے نام پر مزید سہارا دینے کی پالیسی پر ہی عمل پیرا رہیں گے تو عوام انہیں بھی حکمرانوں کے پلڑے میں ڈال کر راندہ درگاہ بنا سکتے ہیں کیو نکہ اب عوام ’’تنگ آمد بجنگ آمد ‘‘کی نوبت تک پہنچ چکے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.