جھوٹے کہیں کے!

104

یہ جو دنیا میں، خصوصاً پاکستان میں بظاہر بڑے بڑے بادشاہ ہمیں دکھائی دیتے ہیں اصل میں سب کسی نہ کسی کے غلام ہیں، اصل بادشاہی صرف اللہ کی ہے، پاکستان میں اِس اٹل حقیقت کو صرف زبانی کلامی تسلیم کیا جاتا ہے، یہاں ہر کسی نے اپنی الگ ایک ’’بادشاہت‘‘ قائم رکھی ہے اور وہ چاہتا ہے صرف اُسی کی ’’بادشاہت ‘‘ کو تسلیم کیا جائے، … میں جب پاکستان سے باہر بے شمار ملکوں میں لوگوں کو امن سے رہتے ہوئے دیکھتا ہوں، جھوٹ فریب دغا بازی، بغض ملاوٹ حسد اور طمع جیسی لعنتوں سے پاک دیکھتا ہوں، تب مجھے اِس کی وجہ سمجھ آتی ہے اللہ نے خود کو ’’رب العالمین‘‘ قرار کیوں دیا تھا، پوری دنیا کے رب کی رحمتیں کسی نے صحیح معنوں میں اگر دیکھنی ہوں جاپان جاکر دیکھے، اِس کے علاوہ بھی کئی ممالک ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کرکے، جھوٹ نہ بول کے، اور اِس قسم کی دیگر لعنتوں سے خود کو محفوظ رکھ کے رب کی رحمتوں کو صحیح معنوں میں انجوائے کررہے ہیں، …ہم یہاں روز ایک نئی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں، روز ایک نئی لعنت میں خود کو مبتلا کرتے ہیں، سو ہمارے ساتھ جوہورہا ہے ٹھیک ہورہا ہے، ہم پوری طرح اِس کے مستحق ہیں، ہم نے پرسُن رکھا ہے ’’جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران اُس پر مسلط کردیئے جائیں گے‘‘… اب جیسے حکمران ہم پرمسلط ہیں تو شاید پہلی بار دنیا کو اندازہ ہوا ہوگا ہم کس قدر بُرے اور بھیانک ہیں؟ ورنہ اِس سے پہلے دنیا شاید ہمیں اتنا بُرا نہیں سمجھتی ہوگی … ہمیں اپنے دوسرے گناہوں کی سزا بھی یقیناً مِل رہی ہوگی جس کے نتیجے میں آج یہاں تقریباً ہرشخص ہی کسی نہ کسی حوالے سے بدحال، پریشان اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے، مگر میرے نزدیک سب سے زیادہ بدحالی کا شکار ہم اپنی منافقتوں کی وجہ سے ہیں، یہ لعنت پاکستان میں اتنی عام ہو گئی ہے مجھے خدشہ ہے یہ کہیں ہماری ’’عالمی شناخت‘‘ نہ بن جائے۔ دوسری لعنت جو بُری طرح ہم سے چمٹ کررہ گئی ہے وہ ’’جھوٹ‘‘ ہے، یہ گناہ کبیرہ ہے مگر ہم اسے ’’گناہ صغیرہ‘‘ بھی نہیں سمجھتے، اِس لعنت کے بدترین ہونے کا اندازہ اِس واقعے سے بھی لگایا جاسکتا ہے آپ ؐ کے پاس ایک شخص آیا اور آپؐ سے پوچھا یا رسول اللہ ؐ مجھ میں بے شمار خرابیاں ہیں، میں ان خرابیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں، سب سے پہلے میں کون سی خرابی سے نجات حاصل کروں ؟‘‘…آپ ؐنے فرمایا ’’سب سے پہلے تم جھوٹ چھوڑ دو کیونکہ یہ خرابیوں کی ماں ہے‘‘…ہمارا کردار اِس کے بالکل برعکس ہے، ہم جو عاشق رسول ؐ ہونے کے دعوے دار ہیں، آپ ؐ پر اپنی جان مال اولاد سب کچھ قربان کرنے کے دعویدار ہیں، ہمارے یہ سب دعوے غلط ہیں اگر ہم آپ ؐ کے ارشادات پاک پر عمل کرنا تو دُور کی بات ہے عمل کرنے کے بارے میں سوچنے تک نہیں ہیں …آپ ؐ نے جھوٹ کوخرابیوں کی ’’ماں‘‘ قرار دیا اور ہم جھوٹ کو خرابیوں کی دُور کی رشتہ دار بھی نہیں سمجھتے، …بلکہ اِسے اپنی ’’معاشرتی ضرورت‘‘ سمجھتے ہیں، … خصوصاً ہمارے اکثر وزراء ، اکثر حکمران اکثر سرکاری ترجمان اِسے اپنے سرکاری وحکومتی فرائض کا باقاعدہ حصہ سمجھتے ہیں۔ یہاں جو وزیر جو مشیر، جو ترجمان جھوٹ نہ بولے اُس بے چارے کو اپنی ’’نوکری‘‘ چلے جانے کا خدشہ رہتا ہے، یا وہ بے چارہ یہ سمجھتا ہے جس کام (جھوٹ) کی اُسے تنخواہ مِل رہی ہے وہ اُسے ’’حلال‘‘ نہیں کررہا، وہ یہ سمجھتا ہے روز قیامت اللہ کو وہ کیا منہ دکھائے گا جب اُس سے یہ سوال ہوگا جس کام کی تمہیں تنخواہ ملتی تھی تم نے اپنا یہ ’’فرض‘‘ صحیح طریقے سے ادا کیوں نہیں کیا ؟،…آپؐ نے فرمایا ’’ جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو اُس کی بوسے فرشتے اُس سے میل بھر پرے چلے جاتے ہیں‘‘…ہمارے اکثر وزیر شذیر اور سرکاری ترجمان وافسران وغیرہ اپنے اپنے ’’آقائوں‘‘ کو ہی ’’فرشتے‘‘ سمجھتے ہیں، لہٰذا اُنہیں یہ یقین ہوتا ہے اُن کے یہ ’’فرشتے‘‘ اُن کے جھوٹوں پر اُن سے میل بھر پرے نہیں جاتے بلکہ اُن کے مزید قریب آجاتے ہیں،… ویسے تو کوئی معاملہ ایسا نہیں جس پر ہمارے حکمران جھوٹ نہ بولتے ہوں، مگر حال ہی میں ٹی ایل پی کے معاملے میں جتنے جھوٹ ہمارے کچھ وزیروں نے بولے وہ اُن جھوٹوں سے شاید کچھ زیادہ ہی ہوں گے جو ستربرسوں تک ہمارے کروڑوں عوام اپنے اپنے مفادات کے لیے بولتے رہے، ہمارے اکثر سرکاری وحکومتی بابوئوں کو جھوٹ بولتے ہوئے اب ذرا شرم نہیں آتی، سچ بولتے ہوئے آتی ہے، اپنی اپنی ملازمتوں کا سب سے زیادہ تحفظ اب اُنہیں جھوٹ بولنے میں ہی نظر آتا ہے، پاکستان میں کسی نے کسی کمائو عہدے پر زیادہ عرصے کے لیے قائم رہنا ہو جھوٹ اور خوشامد کے فن سے اگر وہ آشنا نہیں ہوگا ناکام ہو جائے گا، … ہماری ’’تبدیلی سرکار‘‘ جسے اب ’’ تباہی سرکار‘‘کے نام سے زیادہ جانا اور پہچانا جاتا ہے جہاں اپنے جائز ناجائز اختیارات یا طاقت کا غلط استعمال کرکے روزنِت نئے انوکھے کارنامے کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے وہاں چلتے چلتے ایک ’’کارنامہ‘‘ وہ یہ بھی کرتی جائے ’’جھوٹ‘‘ کو سرکاری و حکومتی فرائض کا باقاعدہ حصہ قرار دلوادے، اِس ضمن میں اگر وہ کوئی بِل پارلیمنٹ میں پیش کرے مجھے یقین ہے اپوزیشن بھی اِس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی کیونکہ یہ ’’مفادات کا سانجھا بِل‘‘ ہوگا۔…جہاں تک ٹی ایل پی کا معاملہ ہے اُسے شکر اداکرنا چاہیے میڈیا پر اُس کے اکثر رہنمائوں پر بولنے یا بات کرنے کی پابندی تھی، ورنہ بولنا تو اُنہوں نے بھی ظاہر ہے جھوٹ ہی تھا، اِس پابندی کی وجہ سے اُن کا ’’بھرم‘‘ رہ گیا، وہ اُس ’’لذت گناہ‘‘ سے محروم رہے جو جھوٹ بولنے کی صورت میں اُنہیں میسر آنی تھی، … پابندی کی صورت میں زیادہ جھوٹ نہ بول سکنے کا ایک فائدہ قدرتی طورپر ٹی ایل پی کے کچھ رہنمائوں کو یہ ہوا، اجر کی صورت میں اُن کا ’’پاسا‘‘ بھاری رہا، اُنہوں نے اپنے بے شمار مطالبات تسلیم کروالئے، اُن کی ’’کالعدمی‘‘ اب ختم ہونے کی طرف جاری ہے، اُن کے کارکنوں کو رہا کیا جارہا ہے، البتہ ایک آدھ مطالبہ اگر تسلیم نہیں ہوا تو اُس سے اُنہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا… باقی رہے نام اللہ کا …

تبصرے بند ہیں.