اطالوی صنم خانے میں اردوکی اذان

94

گورنمنٹ کالج سرگودھامیں،جو خیرسے اب یونی ورسٹی آف سرگودھابن چکاہے، ایم اے کی کلاسوں کا سلسلہ شروع ہواتوسب سے پہلے تاریخ میں ایم اے کی تدریس شروع ہوئی۔راقم اگرچہ ان دنوں بی۔ اے کا طالب علم تھا لیکن تاریخ سے دلچسپی اورپرنسپل صاحبزادہ عبدالرسول صاحب کی شفقت کے باعث اسے ایم اے تاریخ کی کلاسوں میں بیٹھنے کی بھی اجازت تھی۔یہ تو آغازتھا بعدکے زمانے میں اس شعبے کے اساتذہ سے جن لوگوں نے استفادہ کیاان میں اطالیہ میں ہمیں خوش آمدیدکہنے والے تنویراحمدصاحب بھی شامل تھے۔تنویرصاحب نے تاریخ ہی میں نہیں سیاسیات میں بھی ایم اے کیااور سی ایس ایس کرکے وزارت خارجہ میں آگئے۔ وہ اب تک بلغاریہ،اٹلی اورکویت میں سفارتی خدمات انجام دے چکے ہیں اور آج کل نیپال میں ہیں۔ان کا موقف ہے کہ سفارت کارکا سب سے بڑااعزازیہ ہے کہ وہ دیارغیرمیں اپنے ہم وطنوں کے کام آئے۔ہمارے ورودِاطالیہ کے وقت وہ اٹلی میں پاکستان کے چارج ڈی افیئرز یعنی قائم مقام سفیر تھے۔وہ جب ہمیں ملنے کے لیے ہوٹل تشریف لائے تو انہوں نے ہمیں سفارت خانے میں آنے کی دعوت دی۔میں نے ان سے کہاکہ میں اطالوی پروفیسرمیسی موبونMassimo Bonسے ملناچاہتاہوں۔ ان کانام بتاتے ہوئے میں نے اس خواہش کا اظہارکیاکہ وہ اپنے سفارتی عملے سے کہہ کر ان کا اتاپتا دریافت کرا لیں۔ انہوں نے بتایاکہ سفارت خانہ آپ کے ہوٹل سے قریب ہی واقع ہے۔ جب آپ کی طبیعت آمادہ ہوتو تشریف لائیں۔ اس دوران ہم ان صاحب کا اتاپتابھی دریافت کرلیتے ہیں۔ہم جب ہوٹل سے نکلے تو خیال تھا کہ یہاں سے کوئی گاڑی لے کر ہم سفارت خانے پہنچیں گے لیکن یہ کیا ہوٹل سے باہر نکلے تو جہاں ہوٹل کا بورڈ لگاتھا اس کے روبرو سفارت خانہ پاکستان کا نشان ثبت تھا یعنی عین ہمارے ہوٹل کے سامنے سفارت خانے کا دروازہ تھا جس کے لیے کسی گاڑی کجا کسی راہ نما کی بھی ضرورت نہیں تھی۔حذیفہ نے ہوٹل سے نکلتے ہوئے فوٹو گرافی کا شوق پوراکیا اور سڑک کے دوسری جانب سفارت خانے کی گھنٹی بجادی۔سفارت خانے کے عملے کو پہلے سے ہماری آ مدکی اطلاع تھی اس لیے دروازے کھلتے چلے گئے اور ہم چندہی لمحوں میں تنویراحمدصاحب کے کمرے میں تھے۔گورنمنٹ کالج سرگودھاتنویرصاحب کی مادرعلمی تھی یہی کالج راقم الحروف کی بھی مادرعلمی ہے۔بس فرق یہ ہے کہ راقم جب لاہورمیں اپنی تدریسی زندگی کا آغازکرچکاتھاتو تنویرصاحب یہاں انٹرمیڈیٹ میں داخل ہوئے تھے۔بہ ہر حال ہم نے اپنے محبوب پرنسپل پروفیسرچودھری عبدالحمیدصاحب کو یادکیااور گورنمنٹ کالج سرگودھا کے تصورمیں جاکر خوش وقت ہوئے۔ میں نے تنویرصاحب سے روم میں اپنے پہلے شوق کا اظہارکیا۔روم میں راقم کا پہلا شوق اس رومی سے ملاقات تھی جس نے کمال شوق سے اردوسیکھی اور اردوسیکھ کرعربی،فارسی، ہندی اور سنسکرت کی طرف مائل ہوا۔اٹلی اور روم میں اردوکی کہانی بہت لمبی ہے اس کی تفصیل تو ہم کسی اور موقع پر نذر قارئین کریں گے۔ سردست ہم جس اطالوی اردودان سے ملناچاہتے تھے اس نے نیپلز یونی ورسٹی اور روم یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔نیپلزیونی ورسٹی سے مولاناابوالکلام آزادکی”کاروان خیال“ پر تحقیق کرکے السنہ شرقیہ کی ڈگری حاصل کی۔ ”پاکستان: امن اور تصادم کے درمیان“ کے موضوع پر تحقیق کر کے ایم اے کیااورروم یونی ورسٹی سے ”پاکستان کی معاصر تاریخ میں سنی علماکاکردار“کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
صرف یہی نہیں اس نے اطالویوں کو اردو پڑھانے سے بھی دریغ نہ کیااورغالب،پطرس بخاری،امتیازعلی تاج،انتظارحسین،سعادت حسن منٹو،کرشن چندر،پریم چنداورمیراجی ایسے لکھنے والوں کے متعدداردومتون کو اطالوی زبان میں ڈھالا۔جب اس کے ایک دوست نے ایک نظام زندگی کے طور پر اسلام کو اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تواس نے اہل اسلام کے عموی تعارف کے باعث اسے اس ”خطرناک ارادے“ سے بازرہنے کا مشورہ دیا لیکن جب اپنے ہی مشورے کی حقیقت جاننے کے لیے اس نے اسلام کا مطالعہ کیاتو رفتہ رفتہ وہ نہ صرف اسلام بلکہ اردوسے بھی اتنا قریب ہوگیاکہ اسلام اور اردو اس کی زندگی بن گئے۔ اس وقت اس کی عمرصرف سترہ برس تھی۔اس نے اپنانام رسول کریم ؐ کے لقب کی مناسبت سے امین اور نام ور مسلم سپہ سالاراور فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کی رعایت سے صلاح الدین رکھا۔قرآن کریم کے اردوترجمے کی عبارت دیکھ کر وہ اس رسم الخط کی جانب مائل ہوا۔رسم الخط اسے زبان تک لایا۔رسم الخط کے حسن اورزبان کی موسیقیت نے اسے اردوکا متخصص بنادیا۔اس نے کئی بار پاکستان کا دورہ کیا۔وہ لاہور،اسلام آباداور کراچی کے اداروں میں گھوما پھرا۔دانتے کی ڈیوائن کامیڈی پر عزیزاحمدکے ترجمے پر لیکچر دیے۔مختصراً اس مغربی کی سلامتی طبع نے اس پر منکشف کردیاکہ ؎
اردوجسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کویہ زباں آئی
اب میں اٹلی آیاتوا س سے ملنے کا مشتاق تھا لیکن افسوس کہ سفارت خانے کے کارکن اس سے میری ملاقات کا انتظام نہ کرسکے۔ پروفیسرامین صلاح الدین کے بارے میں میری معلومات کا مآخذڈاکٹر رؤف پاریکھ صاحب تھے۔جب سفارت خانے کے ارکان نے اس تلاش کے سفرمیں ہاتھ کھڑے کردیے تو میں نے روم سے محب گرامی ڈاکٹررؤف پاریکھ صاحب کو کراچی میں فون کیا۔رؤف پاریکھ صاحب آج کل ادارۂ فروغ قومی زبان اسلام آبادکے سربراہ ہیں۔ انہوں نے فرمایاکہ وہ نودس برس پہلے صلاح الدین صاحب سے ملے تھے اوران کے بارے میں ایک کالم ضرور لکھاتھا لیکن وہ اب کہاں ہیں اور ان سے کیسے رابطہ ہوسکتاہے وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں بتاسکتے۔
ارباب سفارت نے ہمیں پروفیسرامین صلاح الدین کی ملاقات سے مایوس کردیاجس سے مجھے اداسی ہوئی بلکہ ”بہ قول خود”اداسی کو بہانہ مل گیا“کہ اتنی دورآنے کے باوجود یہ ملاقات نہیں ہوسکتی۔ میری افسردگی کو دیکھتے ہوئے تنویر احمد صاحب نے کہاکہ کھانے کا وقت ہوچکاہے،آئیے کھاناکھاتے ہیں۔یہ کہہ کر وہ ہمیں کھانے کے کمرے میں لے گئے جہاں ہماری تواضع کے لیے اٹلی کے پراٹھے اور گرماگرم پاکستانی چائے رکھی گئی تھی۔آپ دوپہرکے کھانے میں پراٹھوں کے ذکرسے گھبرائیں نہیں،یہ وہی موٹے موٹے آرائشی پراٹھے تھے جنہیں اٹلی والے اور اٹلی والوں کی تقلیدمیں ہمارے نوجوان پیزاکہتے ہیں۔
کھانے کے بعد تنویرصاحب نے ہمیں سفارت خانے کی سیرکرائی انہوں نے بتایاکہ سفارت خانے میں سائلین کی آمدپر ان کے بیٹھنے کا کوئی معقول انتظام نہیں تھا۔اس مشکل پر قابوپانے کے لیے ہم نے ایک نیاہال تعمیر کرایا ہے انہوں نے ہمیں وہ ہال دکھایاجس میں بہ یک وقت ایک سو لوگوں کی سمائی تھی۔ان دنوں اٹلی میں پاکستان کے سفیر ندیم ریاض صاحب تھے لیکن ان کی عدم موجودگی کے باعث ڈپٹی ہیڈ آف مشن تنویر احمد صاحب قائم مقام سفیر کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔تنویرصاحب نے ہمیں سفارت خانے کی مسجد بھی دکھائی جو مدخل کے پیچھے باقی عمارت سے الگ تھلگ واقع تھی۔یہ امر مسرت کا باعث ہے کہ روم کاپاکستانی سفارت خانہ کرائے کی عمارت میں واقع نہیں بلکہ جس عمارت میں ہے وہ اس کی اپنی ملکیت ہے اسی لیے تو یہاں مسجدکی تعمیربھی ممکن ہوگئی۔میں نے اور حذیفہ نے اسی مسجدمیں نمازاداکی اور اس کے بعد ہم تنویرصاحب سے رخصت کے خواہاں ہوئے انہوں نے ازرہ کرم اپنی سفارتی کار اور ڈرائیورہمارے ہمراہ کیے تاکہ وہ ہمیں روم کی سیر کرا سکیں۔

تبصرے بند ہیں.