نمبروں کی بھرمار… میرٹ پر یلغار

84

ہمارے گردوپیش میں سوچنے اور سوال اٹھانے والوں کی تعداد اگرچہ زیادہ نہیں رہی مگر چند ایسے لوگ ابھی موجود ہیں جو ہمیں وقتاً فوقتاً جھنجھوڑتے اور کچھ سوچنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں۔ جو سوال وہ اٹھاتے ہیں ان کا گہرا تعلق ہمارے حال اور مستقبل سے ہوتا ہے۔ ہماری اجتماعی زندگی میں ان سوالوں کی بڑی اہمیت ہے مثلاً یہی سوال کہ بحیثیت ایک قوم ہماری حالت اس تیر کی سی کیوں ہو گئی ہے جس کا کوئی ہدف نہیں۔ ہمارا رُخ متعین کیوں نہیں؟ ہم ایک بدحواس اور شدید افراتفری کا شکار اس ہجوم کی مانند کیوں ہیں جو اندھادھند، بگٹٹ بھاگا جا رہا ہے جیسے اسے اپنی جان کا خطرہ ہو کہ کہیں بھی اسے پناہ مل جائے اور وقتی طور ہی پر سہی اس کی جان بچ جائے۔ پچھلے چوہتر برس سے ہمارا طرزِ عمل بحیثیتِ مجموعی ایسا ہی رہا ہے۔ ایک قوم کے طور پر ہم میں اجتماعی وحدت اور اجتماعی سوچ کا شدید فقدان ہے۔ ہمارے حاکم اور ہمارے اہم منصوبہ ساز ادارے مستقبل کے مضمرات پر خوب سوچ بچار کیے بغیر الل ٹپ قلیل مدتی تدبیریں کرتے ہیں، عظیم قوموں کی طرح پوری طرح تدبر اور تفکر کر کے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم داخلی اور خارجی دونو محاذوں پر ایک پٹے ہوئے ہزیمت خوردہ لشکر کی طرح ہیں اور ہماری حالت اقبال کے اس مصرعے کے مصداق ہو کر رہ گئی ہے: صفیں کج، دل پریشاں، سجدہ بے ذوق! ذرا تاریخ پر نگاہ ڈالیے اور دیکھیے کہ روس کے زار، پیٹر دی گریٹ نے اپنے ملک کی آئندہ ترقی کے خدوخال متعین کرتے ہوئے برطانوی برعظیم کے گرم پانیوں تک رسائی کی منصوبہ بندی اٹھارویں صدی کے اوائل میں کر لی تھی۔ اس نے بالٹک میں کئی علاقوں کو فتح کر کے روس کی جغرافیائی توسیع ہی نہیں کی بلکہ وہ حکومت کی سطح پر دور رس اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے بھی زبردست کوششیں کرتا رہا۔ برطانیہ ہی کو لے لیجیے۔ برعظیم میں آنے والی اس تاجر قوم نے تین سو برس پہلے ہی سونے کی اس چڑیا کو اپنے تصرف میں لانے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ جدید علم اور بحری طاقت سے مسلح اس قوت کے آگے برعظیم کے لوگ اپنوں کی سازش اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ حقائق تلخ ہوتے ہیں مگر ان کا سامنا کرنے، زوال سے دوچار اپنی صورت ِحال کا بے لاگ تجزیہ کرنے اور زوال سے نکلنے کی منصوبہ بندی اور تدبیر کاری ہی سے افراد اور اقوام کو حیاتِ تازہ ملتی ہے۔
کسی قوم کی تعمیر و ترقی میں سب سے اہم شعبہ تعلیم کا ہے۔ اِدھر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں یہی شعبہ سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے اور اب شدید آشوب سے دوچار ہے۔ قومی بجٹ کا جو انتہائی قلیل حصہ اس کے لیے مختص کیا جاتا ہے وہ بھی توازن اور تدبیر سے خرچ نہیں ہو پاتا۔ ’’تعلیمِ بالغاں‘‘ کے مصنف کے بقول یہاں بننے والے وزیرِ تعلیم کے ’’وزیر‘‘ میں واؤ زائد ہوتا ہے! ہمارے ہاں پرائمری تعلیم سے لے کر دانشگاہی تعلیم تک ہر شعبہ زوال کا شکار ہے۔ تعلیم اور تجارت کم و بیش مترادف ہو کر رہ گئے ہیں۔ رشوت، اقربا نوازی، میرٹ کی پامالی اور بے تدبیری نے اس نہایت اہم شعبے کو خاک چٹوا دی ہے۔ ’’میرٹ از آور کور ویلیو‘‘ کے دعویداروں نے علاقہ پرستی اور سفلہ نوازی کی بدترین صورت حال پیدا کر رکھی ہے اور میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ ہاں اعداد و شمار کی شعبدہ کاری سے خود فریبی اور حکّام فریبی کا اہتمام بڑے زور شور سے جاری ہے۔ ہمارے زمانے میں تعلیم کے شعبے کو ایک عرصے سے سیاست نے بری طرح آلودہ کر دیا ہے۔ بیسویں صدی کے معروف دانشور آندرے ژید نے کس قدر سچ کہا تھا کہ سیاست ہر اس شے کو پست اور ذلیل کر دیتی ہے جو اس کی گرفت میں آ جائے۔
پچھلے برس فروری ۲۰۲۰ء میں کووڈ ۱۹ کی وبا اور وائرس کے پھیلاؤ نے یوں تو دنیا کے بڑے حصوں میں تباہی پھیلائی مگر اس نے ہمارے یہاں ایک اور ہی گل کھلایا۔ تعلیمی اداروں کی طویل بندش اور پھر جزوی کشاد نے ہمارے تعلیمی نظام کو ہِلا کر رکھ دیا۔ آن لائن کلاسوں کے کم نتیجہ خیز عمل، طلبہ و طالبات کی عمومی عدم دلچسپی، ورچوئل سہولتوں کے فقدان اور شدید نفسیاتی دباؤ کے اس ماحول میں وزارتِ تعلیم نے پروموشن کووڈ ۱۹ پالیسی وضع کی۔ یہ پالیسی حکومتی بے تدبیری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس خام پالیسی کا نتیجہ اِسی برس کے ماہِ اکتوبر کے وسط میں ظاہر ہوا جب صوبہ پنجاب کے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے نتائج اخبارات میں شائع ہوئے۔ یہ نتائج اس قدر ہوش ربا اور تکلیف دہ ہیں کہ ناطقہ سربگریباں ہے انھیں کیا کہیے۔ ذرا صوبہ پنجاب کے بعض تعلیمی بورڈوں کے جاری کردہ نتائج پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ بہاولپور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے نتائج کے مطابق ۲۴۲ طالب علموں نے گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبر لیے۔ ڈیرہ غازی خاں بورڈ کے زیر اہتمام امتحان دینے والے چار سو بتیس ’’خوش قسمت‘‘ پورے پورے نمبر لے گئے، ملتان بورڈ کے پانچ سو پچاس عزیز بھی پورے پورے نمبروں کے مستحق گردانے گئے۔ لاہور بورڈ نے کچھ زیادہ ہی فیاضی دکھائی اور سات سو سات بچوں کو پورے پورے نمبروں سے نوازا۔ ستم یہ ہے کہ پروموشن پالیسی بنانے والوں نے سائنس کے طالب علموں کے صرف سائنس کے مضامین مثلاً کیمسٹری، فزکس یا میتھ وغیرہ کے امتحان لیے اور لازمی مضامین اردو، انگریزی، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو کسی لائق ہی نہیں سمجھا۔ آرٹس کے ایف اے کے طالب علموں کے صرف اختیاری مضامین کے امتحان لیے۔ مزید ستم یہ کیا کہ انٹرمیڈیٹ کے چوبیس ہزار تین سو سینتالیس طلبہ و طالبات کو ۳۳ فیصد گریس مارکس دے کر پاس کر دیا۔ حسرت موہانی مجھے ایسے ہی موقعوں پر یاد آتے ہیں: خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد/ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔
اس صورت حال سے جو شدید بحران پیدا ہونے والا ہے اس کا اندازہ ہی نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں جہاں محدود سیٹیں ہوتی ہیں، اس فوجِ ظفر موج کو جنھوں نے گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبر ہی لے ڈالے ہیں، کیسے کھپایا جائے گا اور اگر کسی طرح یہ ممکن ہوا بھی تو آج کے یہ طالب علم کل کلاں کے ڈاکٹر اور انجینئر بن کر ان شعبوں کو کس قدر برباد کریں گے، اس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ ہمارے صوبے میں اور صوبوں کی طرح طلبہ و طالبات کی ایک قابلِ لحاظ تعداد او لیول اور اے لیول کے بہت کڑے امتحان پاس کرتی ہے اور ان کے نمبر اسّی پچاسی فیصد سے نہیں بڑھتے۔ سوال یہ ہے کہ وہ صد فی صد نمبر حاصل کرنے والے اس کثیر گروہ کے مقابل میں آگے کیسے داخلے لے سکیں گے اور جب ایسا نہیں ہو سکے گا تو ان کو نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ سے کون بچا سکے گا؟ کیا فارمولا سازوں نے قبل ازیں اس تشویش ناک صورت حال کا اندازہ نہیں لگایا تھا؟
نمبروں کی اس غیر عاقلانہ فیاضی کے نتیجے میں یہ طلبا و طالبات آئندہ بھی اسی طرح کی فیاضیوں پر نظریں لگائے رکھیں گے۔ اگر ان میں سے بعض باہر کی بڑی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست گزار ہوں گے تو ان دانشگاہوں کے اربابِ بست و کشاد ان کے ہوش ربا نمبروں کو دیکھ کر قہقہہ زنی یا سینہ کوبی کرنے پر ضرور مجبور ہوں گے! معلوم نہیں لکھتے لکھتے مجھے یونانی اساطیر کے ایک قبل از مسیح مشہور کردار ڈی ڈیلیس کی یاد کیسے آ گئی۔ موصوف کو بادشاہِ وقت نے اُسی کی بنائی ہوئی بھول بھلیاں میں اس کے بیٹے کے ساتھ قید کر دیا تھا۔ ڈی ڈیلیس بڑا ذہین انجینئر تھا۔ اس نے سوچا کہ زمینی یا بحری رستے سے تو اس قید خانے سے نکلا نہیں جا سکتا، ہوائی رستے سے ممکن ہے۔ سو اس نے بڑے بڑے پر بنائے اور اپنے اور اپنے بیٹے کے بازوؤں سے باندھ کر جو اڑان بھری تو جیل سے باہر۔ وہ خود تو جان بچا لے گیا مگر بیٹے کے بازوؤں سے موم سے جڑے ہوئے یہ پر سورج کی تمازت کی تاب نہ لا سکے اور وہ سمندر میں گر کر جان سے گزر گیا۔ سو اے پالیسی سازو! آپ نے امکانات کی انجانی دنیا میں مستقبل میں پرواز کرنے والے بچوں کے بازوؤں سے جو مومی پر باندھے ہیں، یہ حالات کی تمازت کی تاب نہ لا کر ناکارہ ہو سکتے ہیں۔ نمبروں کی یہ انتہائی فیاضانہ تقسیم بتاتی ہے کہ ہمارے ارباب بست و کشاد تعلیم کے نہایت ذمہ دارانہ نظام کو محض بازیِ طفلانہ سمجھتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ شاہین بچوں کی بلند پروازی اور ستارہ شکاری، شاہینی نگاہ ہی کا تقاضا کرتی ہے۔ آپ شاہین کی آنکھیں پھوڑ کر ان کی جگہ ’’رات کے شاہباز‘‘ (بُوم) کی آنکھیں نہیں لگا سکتے۔
میرے خیال میں اب انصاف اور دانش کا تقاضا یہ ہے کہ طلبہ و طالبات کی مذکورہ کثیر تعداد کو پیشہ ورانہ اداروں میں داخلہ دینے سے پہلے ان کے نمبروں پر انحصار کرنے کے بجائے، ان کے انٹری ٹیسٹ لیے جائیں تاکہ نمبروں کی یہ غلط بخشی، لائق اور مستحق طلبہ و طالبات کے میرٹ کی حق تلفی نہ کر سکے۔

تبصرے بند ہیں.