کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں

90

اس نوٹ بک کا برا حال ہوا ہے جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ سب ایک ہی پیج پر ہیں۔ بچوں نے اس نوٹ بک کے پیج کو جہاز بنا کر ہوا میں اڑا دیا۔وہی سہاگن جو پیا من بھائے۔ اب آنکھیں دکھائی ہیں تو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ ابھی تو صرف ٹریلر چلا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔کہتے ہیں کہ عربی اونٹ بہت کینہ پرور ہوتا ہے اور یہ مثال کئی انسانو ں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ برا ہو اس سیاست اور اقتدار کی ہوس کا بڑے بڑوں کو دنیا کے سامنے ننگا کر دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے ہو رہے ہیں۔ صاحب بہادر نے آنے والے وفد سے کہا کہ میں کسی صورت بلیک میل نہیں ہوں گا،انہوں نے کہا فی الحال مذاکراتی ٹیم نے دو افراد کو تو چلتا کیجیے پھر گفتگو ہو گی اور صاحب بہادر نے ان کو باہر جانے کا راستہ دکھا دیا۔ اسے دانشمندی کہا جائے یا یو ٹرن۔ یہ جو ٹر ٹر کر کے بولتے ہیں آخر ان کے پیچھے کون سے دماغ ہیں جو کام کر رہے ہیں یا جو ذہن اور منہ میں آتا ہے اول فول بک دیتے ہیں۔ شیخ رشید کابیابات بھی دلچسپ ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو معاملات میرے ہاتھ سے نکل جائیں بندہ پوچھے حضرت آپ کے ہاتھ میں ہے کیا جو نکل جائے گا؟جن بیساکھیوں کا سہارا لے کر آپ چل رہے ہیں وہ اگر آپ سے لے لی جائیں تو آپ کہاں تک چل کر جا سکیں گے۔
ٹی ایل پی سے مذاکرات کے لیے ایک ٹیم بنانے پر اتفاق ہوا ہے ابھی تک مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ تادم تحریر مظاہرے کے شرکاء چنا ب کے اس جانب موجود ہیں او ر اپنی قیادت کے حکم کے
منتظر ہیں۔ آگے وہ بینر آویزاں ہیں جن پر تحریر ہے کہ پاک رینجرز کو شرپسندوں کو گولی مارنے کا اختیار دے دیا گیا ہے بہتر ہے کہ آپ اپنے گھرو ں کو لوٹ جائیں۔اس تصادم میں ٹی ایل پی اور پولیس دونوں کا نقصان ہوا ہے دونوں جانب کلمہ گو تھے اورفریقین کا دعوی ہے کہ وہ حق پر ہیں۔ فیصلہ کون کرے گا تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر معاہدے پر عملدرآمد نہیں کرنا تھا تو معاہدہ کس نے کروایا اور کیا ہاتھ باندھ کر معاہدے پر دستخط کر دیے گئے تھے۔اب جناب شیخ کا کہنا ہے کہ میں نے بطور وزیرداخلہ جو معاہدہ کیا اس پر میں کاربند ہوں کوئی ان کو سمجھائے کہ پارلیمانی جمہوریت میں اجتماعی ذمہ داری کا تصور کارفرما ہوتا ہے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کام سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ میں اس محکمے کا وزیر نہیں ہوں۔ سیاسی کارکن ہونے کی لمبی تاریخ رکھنے والے جمہوریت کی ابجد سے بھی واقف نہیں یا دوسروں کو بیوقوف سمجھ رہے ہیں۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو نہیں ہو گا۔بہت سے ترجمان بڑے طریقے سے سکرین سے ہٹ گئے اور پھنس گئے بیچارے فواد چوہدری۔ فواد چوہدری کابینہ اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہیں تو وہ اپنی ذاتی حیثیت میں پریس کانفرنس نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وہ کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں سے قوم کو آ گاہ کرتے ہیں۔ اگر کابینہ نے ٹی ایل پی کی تحریک کے حوالے سے یہ کہا ہے کہ اسے بیرون ملک سے فنڈنگ ہو رہی ہے تو ظاہر ہے یہ با ت کابینہ میں ہوئی ہے اور اس حوالے سے جو بیابات سامنے آئے ہیں وہ کابینہ کے اجلاس کا حصہ تھے۔ دوسرے لفظوں میں کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فواد چوہدری کو کسی اور نے بتایا ہے کہ ٹی ایل پی کیا کر رہی ہے۔ شیخ رشید صاحب کی پریس کانفرنس ان کے بیانات سے الٹ ہے۔ کیا کابینہ کے ارکان میں کوئی ہم آہنگی نہیں یا کابینہ کے ارکان کو دو مختلف جگہوں سے ہدایات مل رہی ہیں۔
ایک کھانے کی میز پر خواجہ فرید الدین انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات ہوئی۔ انہو ں نے اپنی یونیورسٹی کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور پھر کہنے لگے کہ ہماری یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کا شعبہ بھی ہے او ر ہم بھی میڈیا پڑھا رہے ہیں میں نے دست بستہ عرض کی کہ جناب آپ صرف میڈیا نہ پڑھائیں بلکہ آپ میڈیا انجینئر نگ پڑھائیں تو اس کی زیادہ ضرورت ہوگی اور آپ کے گریجوایٹس کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ اگرچہ یہ بات مذاق میں تھی لیکن جب میڈیا پر نظر دوڑائیں تو کمال مہارت سے میڈیا انجینئرنگ ہو رہی ہے۔ایک پریس ریلیز جاری ہوتی ہے کہ پیمرا نے ٹی ایل پی کے احتجاج کی کوریج کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور جو اس حکم نامہ کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔کیا یہ میڈیا انجینئرنگ نہیں کہ آپ کالعدم قرار دی جانے والی تحریک کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں مگر ان کے دھرنے کو کور کرنے کی اجازت نہیں
دے رہے۔ اگرٹی ایل پی کچھ غلط کر رہی ہے تو میڈیا کو یہ اجازت کیوں نہیں دے رہے کہ وہ دنیا کو اس کا چہرہ دکھائے۔ کیا الیکٹرانک میڈیا کی کوریج مروجہ صحافتی اقدار کے منافی ہے۔ افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ میڈیا انڈسٹری نے بھی اس حکم نامے کو قبول کر لیا۔جنا ب عمران خان نے تو دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگایا تھا مگر لگتا ہے کہ جب ان کی باری آئی تو سارے اصول بدل دیے جاتے ہیں۔ ٹی ایل پی کے خالق بہتر جانتے ہیں کہ اس کو کیسے آگے لے کر جانا ہے۔ عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرر ہے ہیں مگر ان کے سارے دعوے دیوانے کا خواب ہی نظر آئے ہیں اور شاید ان کا مطمع نظر اتنا ہی تھا کہ ان کا نام بھی پاکستان کے وزرائے اعظم کی فہرست میں درج ہو جائے۔ مرحوم ظفر اللہ جمالی کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا تھا کہ وہ بھی ایک نہ ایک دن وزیراعظم بنیں گے اور قدر ت نے ان کا نام بھی اس فہرست میں درج کروا دیا۔ چوہدری شجاعت حسین کا نام بھی پاکستان کے وزرائے اعظم کی فہرست میں موجود ہیں۔ ٹی ایل پی کو ایک طرف رکھیں دیگر معاملات پر بھی تحریک انصاف کا کارکن منہ چھپاتا پھر رہا ہے اور اپنے آپ کو مجرم گردانتا ہے۔ٹی ایل پی کا احتجاج کب ختم ہو گا اور کیا حکومت اور ٹی ایل پی کے مذاکرات کامیاب ہوں گے اس کا فیصلہ ٹی ایل پی کے تخلیق کاروں اور قیادت نے کرنا ہے حکومت تو اس وقت مجبور اورلاچا ر نظر آ رہی ہے اور اپنے بیانات کو واپس لینے کے لیے آمادہ ہے۔
آخر میں ذکر بہادر شاہ ظفر کا ہو جائے۔ عظیم مغل شہنشاہ تاجدار ہند جن کا یوم وفات 7نومبر ہے اور وہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رنگون میں اس حالت میں فوت ہو گئے کہ آزادی سے سانس تک نہیں لے سکتے تھے۔ گیراج کو ان کے قید خانے میں بدل دیا گیا ہے اور ہوا لینے کے لیے صرف ایک روشن دان تھا وہاں ہی ان کی موت ہو گئی۔ کاغذوں میں وہ پورے ہندوستان کے مالک تھے مگر ان کی حکمرانی لال قلعے کی دیواروں تک محدود تھی آگے کمپنی بہادر کا حکم چلتا تھا۔ کمال کے شاعر تھے، آخر غالب اور استاد دامن کے شاگرد تھے۔حکمران کے طور پر لوگ اس کو بھول جائیں مگر بطور شاعر وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ حالات کو لفظو ں میں ایسے پروتے کہ سننے والے واہ واہ کیے بغیر نہ رہ سکتا۔ چند شعر آپ بھی سن لیں۔
اک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادماں
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں
دن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کنج مزار میں
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین نہ ملی کوئے یار میں

تبصرے بند ہیں.