زندگی کی بقا

80

خالقِ کائنات کی بیش بہا ء نعمتیں جو زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی ضرورت کی حامل ہیں ان میں بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ مرکب پانی ایک انمول نعمت ہے۔کرہ ارض پر مشرق و مغرب اور شمال سے جنوب تک رنگ بکھیرتی زندگی، زراعت،صنعت اور معیشت کے تمام شعبہ جات کا پہیہ پانی کی مرہونِ منت رواں دواں ہے۔جو انسانی زندگی کا نہایت ہی اہم جزو ہے۔اب تک دریافت کیے گئے سیاروں اور ستاروں میں سے ہماری زمین ہی وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی پوری آب وتاب کے ساتھ رواں دواں ہے اور اسکی وجہ یہاں پر پانی کی موجودگی ہے۔یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ پانی زندگی ہے اور سایہ زندگی کی بقاء ہے۔اس جملے میں اس قدر گہرائی ہے کہ شاید ہم اندارہ بھی نہیں کر سکتے۔پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن کے پاس پانی کے بڑے بڑے ذخائر اور وسائل موجود ہیں اگر انہیں بروقت بروئے کار لایا جاتا تو پاکستان دنیا کا خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا تھا لیکن افسوس کے حکمران طبقے کی لوٹ مار اور خودغرضی کے باعث وطنِ عزیز کے یہ ذخائر گویا اپنے خاتمے کی طرف جا رہے ہیں۔پانی کا یہ مسئلہ نیا نہیں ہے لیکن آہستہ آہستہ سنگین نوعیت اختیار کر رہا ہے۔بدقسمتی سے آج ہم دنیا کے ان 36ممالک میں شامل ہیں جہاں پانی کا سنگین بحران ہے۔دنیا میں پانی کے بحران کا شکار ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث
تمام جانداروں کی بقا خطرے میں ہے۔پاکستان بارش،برف اور گلیشیر پگھلنے سے اپنا پانی حاصل کرتا ہے کیونکہ ملک کا 92فیصد حصہ نیم بنجر ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو بنایا۔پانی سے پیار زندگی سے پیار ہے۔ انسانی زندگی میں پانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی ممکن نہیں اس کرہ ارض اور ہمارے اپنے جسم کا ستر فیصد پانی پر مشتمل ہے۔انسانی بستیوں کا آغاز دریاؤں کے کنارے ہوا۔کائنات کی یہ رنگینی،بوکلمونی،نہریں،آبشار،جھرنے،تالاب،ندیاں،سمندر،باغات،مرغزار، گلستان،نباتات وجمادات کے وجودا وربقاکا انحصار پانی پر ہی ہے۔پانی نا صرف انسانوں اور دیگر جانداروں کی بنیادی ضرورت ہے بلکہ یہ ہماری دنیا کی سحر انگیز اور دلکش شے بھی ہے۔زمین جب مردہ ہو جاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور تمام مخلوق کے لیے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔آبادی میں ہو رہے مسلسل اضافے،آلودگی،فطری وسائل کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے موجودہ دور میں ہمارے کرہ ارض کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ہماری زمین کے گرد اوزون کی فطری تہہ سورج کی روشنی کو متوازن انداز میں ہم تک پہنچاتی ہے لیکن مختلف صنعتوں کی زہریلی گیسوں نے اسے کمزور کر دیا ہے جس سے موسمی تغیرات نے جنم لیا اور یوں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت پیدا ہوئی۔تقریباً پوری دنیا کو ہی پانی کا مسئلہ درپیش ہے لیکن پاکستان میں صورتحال زیادہ سنگین ہے۔کم بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی روکے جانے کی وجہ سے دریا خشک ہو نے کے بعد پاکستان آنے والے کچھ سالوں میں پانی کے شدید بہران سے دوچار ہو سکتا ہے۔مگر پھر بھی قدرت کے اس حسین تحفے کا ضیاع بیدردی سے جاری ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صرف پندرہ فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔روشنیوں کے شہر کراچی کے لوگ سمندر کے کنار ے بھی پیاسے ہیں انتظامیہ شہر کی تمام آبادیوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔زیادہ تر لوگ پینے کا صاف پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ پانی کا ایک قطرہ زندگی ہے اس کی حفاطت ہمارا انفرادی اور اجتمائی فریضہ ہے۔زمین پر زندگی کی موجودگی کو برقرار رکھنے کیلئے پانی کے تحفظ کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ چھوٹی چھوٹی احتیاط سے اس انمول تحفے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ضرورتِ وقت ہے کہ پانی کے مسائل کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے۔ بارش کے پانی کو مختلف طریقوں سے محفوظ کر کے استعمال میں لایا جائے۔ہمیں باحیثیت قوم کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔موقع کی نزاکت اور سنگینی کو سمجھتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں پانی کو احتیاط سے استعمال کرنے کی عادت اپنا کر کچھ بہتری لا سکتے ہیں۔اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نا لیے تو آنے والے چند سالوں میں پانی کی قلت کے باعث صنعت،زراعت سمیت متعد شعبے تباہ ہو جائیں گے جس کے باعث ملک میں قحط کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.