طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ پہلی بار منظر عام پر آگئے 

81

 

قندھار : طالبان کے سپریم رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار شہر میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا وہ سال 2016 میں تنظیم کی باگ دوڑ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ عوام میں نظر آئے ہیں۔

 

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ سال 2016 سے تحریک طالبان کے روحانی قائد ہیں لیکن اگست میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے باوجود اب تک گوشہ نشین رہے۔

 

ان کی گوشہ نشینی کے باعث طالبان حکومت میں ان کے کردار کے حوالے سے قیاس آرائیوں نے جنم لیا حتیٰ کہ ان موت کی افواہیں بھی پھیلیں۔ طالبان عہدیداران کے مطابق ’انہوں نے دارالحکیمہ مدرسے کا دورہ کیا اور اپنے بہادر سپاہیوں اور شاگردوں سے خطاب کیا‘۔

 

اس تقریب کے لیے سیکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی تھی اور اس سلسلے میں کوئی تصویر یا ویڈیو بھی منظرِ عام پر نہیں آئی تاہم طالبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 10 منٹ کی آڈیو ریکارڈنگ شیئر کی گئی۔ مذکورہ ریکارڈنگ میں ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ جنہیں ’امیر المومنین‘ کہا جاتا ہے، نے پیغام دیا۔

 

اس تقریر میں سیاسی تنظیم کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی لیکن انہوں نے طالبان قیادت کے لیے اللہ سے دعا کی۔ علاوہ ازیں انہوں نے طالبان کے شہدا، زخمیوں اور اس ’بڑے امتحان‘ میں اسلامی امارات کی کامیابی کی بھی دعا کی۔

 

عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں فوجی کمانڈر سے زیادہ روحانی شخصیت کے طور پر کام کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، ان کے بیانات سے ان قیاس آرائیوں کو ہوا ملے گی کہ وہ اب نئی حکومت کی قیادت میں زیادہ مرکزی کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.