رخت ِ سفر

104

پاکستان مسلسل افراتفری کا شکار ہے۔ سیاسی، معاشی، تعلیمی، معاشرتی سبھی دائروں میں یکے بعد دیگرے زلزلے بپا رہے۔ ویسے تو محاورہ ہے کہ ’جو ڈر گیا وہ مرگیا‘۔ لیکن پاکستان میں سیاسی، جمہوری سطح پر بالخصوص نوازشریف اور اب عمران خان پر بھی یہ راست آتا ہے کہ ’جو اڑ گیا وہ مر گیا۔‘ نوازشریف نے اڑکر دکھایا تو اُڑ کر باہر جانا پڑا۔ اب عمران خان صاحب کے اڑنے کی دیر تھی کہ جوار بھاٹے اٹھنے لگے۔ تآنکہ تحریک لبیک، حسب سابق لاکھڑی کردی۔ اسی دوران ہرگز نہیں …… (Absolutely Not) بھی مہنگا پڑا۔ نوکر کیہہ تے نخرا کیہہ! ہم امریکا کے حضور 2001ء سے فدویت کی جو پالیسی طے کر بیٹھے وہ آج بھی ساری بڑھکوں کے باوجود رواں دواں ہے۔ بائیڈن کے ٹیلی فون کے انتظار میں شرمناک حد تک گراوٹ کا شکار ہوئے۔ اندر خانے روٹھے امریکی محبوب کو راضی کرنے کو ہمہ نوع چاپلوسی اور پیش کشوں کا سلسلہ رہا۔ ان کی بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ کبھی ہماری حکومتوں کا بھرم تک نہ رکھا۔ بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی کے مصداق اب سی این این نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ ہم تو پہلے ہی رضاکارانہ، بلا معاہدہ مفت میں امریکا کو فضائی راہداری دیے بیٹھے ہیں۔ عوام کو کیا خبر! عوام کی مصروفیت کے سامان کم تو نہیں۔ ٹیکس نچورنے کے مہینے ہو گزرے۔ گیس بجلی پٹرول سبزی، آٹا، بنیادی اشیائے ضروریہ پہنچ سے باہر ہوچکے۔ دل بہلاوے کو ایک طرف ’ریاست مدینہ‘ کے نام پر عین اس ٹائٹل کے مصنوعی پن کے شایان شان ایک مذہبی جلوس میں جوان لڑکی بال پھیلائے، سرخی پاؤڈر لگائے سفید کپڑے پہنے ’حور‘ کے عنوان سے پھرائی گئی۔جن جادو تماشا بھی ہے۔ قوم کی عقل کو گھاس کھلانے کی کوئی حد تو ہو! پھر ’پاک بھارت جنگ‘ کے پیرائے میں کرکٹ کے چوکے چھکوں سے میدان جہاد میں غازیان قوم کی سرخروئی نے ہمارے سارے دلدر دور کردیے۔ بھارت میں مساجد جلاکر مسلمانوں سے نفرت کے اظہار میں ’زعفرانی غنڈے‘ پہلے ہی طوفان برپا کیے ہوئے ہیں۔ گھروں، مسجدوں، دکانوں، پر حملوں نے تری پورہ میں مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے (جسے بھارتی میڈیا نے مکمل نظرانداز کیا)۔ رہی سہی کسر بی جے پی حکومت، امتیازی قوانین پاس کرکے نکال رہی ہے۔ ایسے میں ہمارے نوجوان ملک کو مضبوط کرنے، خارجہ پالیسی کا رخ درست کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے فہم تک سے عاری ہیں۔ پٹاخے بجا، فائرنگ، بھنگڑے، سائلنسر پھاڑ موٹرسائیکلوں کے ہنگام سے جشن فتح منا رہے ہیں۔ ایک فتحِ حقیقی، پوری دنیا کے عفریتی لشکروں کو افغانستان کے جوانوں نے جان سے گزرکر دی اور سجدوں میں آنسو اور سسکیوں بھرے شکرانے پیش کیے۔ دوسری فتح بیٹ بلوں کی حکمرانی کے سائے تلے کھیل کے میدان تک ایک تقابل پیش کررہی ہے! امریکا کے ہاتھوں (تمام تر خدمات فراہم کرنے کے باوجود) جو ذلت ہمیں 15 اگست کے بعد سے دی گئی، ساری ’قربانیوں‘ کو بیک قلم مسترد کرنے میں امریکا نے دیر نہ لگائی۔ اس کے باوجود قومی غیرت نگل کر ہم پھر طواف کوئے ملامت کو جا پہنچے؟ سی این این کے مطابق افغانستان میں ملٹری آپریشن کے لیے ہماری فضائی حدود کے استعمال کے لیے مذاکرات معاہدے پر منتج ہونے کو ہیں۔ یہ ہماری خواہش اور ایماء پر ہو رہا ہے۔ حسب سابق ہمارا دفتر خارجہ ایسے معاہدے کی تردید کر رہا ہے۔ ہم 20 سال افغانستان کے ساتھ برادرکشی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ زمینی حقائق امریکا کی بدترین شکست اور ناقابل تلافی نقصانات کا گوشوارہ لیے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ازسرنو امریکا ہمارے کندھوں پر بندوق رکھ لے؟ یہ پیش کش خود پاکستان اور پورے خطے کے لیے کن مضمرات کی حامل ہے، کوئی راکٹ سائنس تو نہیں۔ہم آخرت سے بے نیازقومی نظریاتی تشخص بھلائے بیٹھے ہیں۔ کہاں بابائے قوم کا یہ فرمان: ’مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے 1400 سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کردیا تھا۔ الحمدللہ قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک رہے گا۔‘ اس تناظر میں پاکستان کی داخلہ، خارجہ،
تعلیمی، سیاسی معاشی ہیئت دیکھ لیجیے اور درج بالا معاہدے کے مضمرات پر بھی غور فرمائیے! ازسرنو دہشت گردی کی آڑ میں اسلامی امارت افغانستان پر بمباری کو ہماری فضائیں امریکی جنگی جہازوں کے لیے پیش ہوں گی؟ اللہ کے غضب کو یوں پکاریں گے؟ یہ کیا کم خیانت ہے کہ سبھی مسلم ممالک بالعموم اور ہمسایہ پاکستان بالخصوص شریعت کی بنیاد پر قائم افغان حکومت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ راگ ریاستِ مدینہ کے الاپنے اور قومی پالیسیوں میں اسلام سے ہرآن گریز پائی۔ہماری معیشت جس طرح کریش ہو رہی ہے وہ عذاب ہی کی صورت ہے۔ افغانستان جنگی مخدوش حالات کے بعد معاشی ناکہ بندی کے باوجود کرنسی، 90 افغانی کے بدلے ایک ڈالر رکھتی ہے۔ ایٹمی پاکستان کے روپے کی اوقات 174.45 فی ڈالر تک جا گری۔ دنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک بن چکا ہے۔ بدعنوانی آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ صرف ایک چیز کوڑیوں کے مول ہے، اور وہ ہے امتحانوں میں ریکارڈ توڑ نمبر۔ 1100 میں سے 1150 نمبر! یکایک لیاقت کا یہ عالم کہ 98-99 فیصد پاس ہوگئے جو قبل از کورونا سالوں میں تشویش ناک حد تک کم تناسب میں نتائج رہے۔ بلکہ نقل کے ذرائع میں ترقی کا یہ عالم رہاکہ چپل میں بلیو ٹوتھ ڈیوائس لگاکر کان میں مہین مائیکرو فون کے ذریعے جواب لکھوائے جاتے رہے 6 لاکھ کے عوض۔ اب اتنی مہنگی جعلی کامیابی کی ضرورت نہیں۔ نمبر بتاشوں کی طرح بٹے ہیں! اس تعلیمی معیار پر مغرب کو کوئی تشویش نہیں۔ افغانستان کے لیے سینہ کوبی کر رہے ہیں تعلیم کے نام پر!
مسائل سے نمٹنے کے لیے طالبان جس تندہی اور پلاننگ کا مظاہرہ کررہے ہیں وہ ان کی صلاحیت، امانت و دیانت کی بنا پر ہے۔ ہمارے احساس پروگرام سے بٹتے نوٹوں کے ہاتھوں مفت خوری اور نکمے پن کی ترویج ملاحظہ ہو۔ افغانستان میں بے روزگاری اور بھوک سے نمٹنے کے لیے مفت گندم تقسیم کرنے کی بجائے، کابل میں (مزید شہروں میں بھی) 40 ہزار افراد کے لیے کام کے بدلے گندم پروگرام کا افتتاح ہوا ہے۔ امریکا نے افغانستان میں بدعنوانی کی صنعت کو پھلنے پھولنے دیا، سدباب، تدارک نہ کیا۔ دوسرا تحفہ افغان عوام کو نشے کی لت کا دے گیا۔ اب دردمند حکومت نے تمام نشئیوں کے علاج اور انہیں کارآمد شہری بنانے کا بھرپور پروگرام شروع کیا ہے۔ امریکا افغانوں کے 10 ارب ڈالر دباکر بیٹھا ہے اور یورپی یونین زرمبادلہ کے ذخائر اور اثاثے بحال نہیں کررہی۔ یہی سب افغانستان میں انسانی المیے کی پیشین گوئیاں اور بھوک افلاس کے بحران کے اندیشے ظاہر فرما رہے ہیں! خارجہ پالیسی اور دنیا کے سامنے آزاد خودمختار افغانستان کا آبرومندانہ، غیور انداز دیکھنا ہوتو ملا عبدالسلام حنفی، نائب وزیراعظم کا ماسکو کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب ملاحظہ ہو۔ (یہ بلا CSS اور لمبے تربیتی کورسز اور مغربی دنیا کے دوروں کے بغیر کی مہارت ہے!) مختصراً یہ کہ مندوبین کو باربار یہ یقین دلایا کہ: ’نئی حکومت عالمی برادری کے تمام خدشات کھلے دل سے، پوری دیانت اور شفافیت سے دور کرے گی۔ افغان عوام دنیا کے کسی ملک یا قوم کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے۔ ایک مہذب قوم جو ایک مضبوط دین، ثقافت اور اعلیٰ انسانی اقدار کی حامل ہے۔ ہم ہمسایہ ممالک، خطے اور دنیا سے تعلقات چاہتے ہیں جو قومی خودمختاری حاکمیت اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوں۔‘ نیز یہ بھی کہا: ’اسلامی امارت نے ماضی میں یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ آزادی، قومی اور دینی اقدار اور اعلیٰ ترین قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سودا نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے عوام کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ ماضی میں دباؤ کا ہر حربہ ناکام ہوچکا۔ باہم افہام وتفہیم سے معاملات کرنا بہتر ہوا کرتا ہے۔‘
امریکا سے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ یہ افغان عوام کی دولت ہے اور ہمارے تکلیف میں مبتلا عوام سیاسی اختلافات کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ کیے جائیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو امارت کی جائز قانونی حکومت کو تسلیم کرنے کو کہا، کہ افغانستان کو تنہا کرنا دنیا کے مفاد میں نہیں۔ دنیا کو یہ بھی یاد دلایا کہ ’گزشتہ 20 سالوں میں کس طرح افغان عوام نے بدعنوان سیاسی نظام کے ہاتھوں نقصان اٹھایا۔ (جس کی ذمہ داری جارح عالمی قوتوں پر ہے!) سرکاری ملازمین تنخواہوں تک سے محروم رکھے گئے۔ قوم نے غیرممالک کے ہاتھوں مسلط جنگوں کی اذیت سہی۔ یہ 40 برس میں پہلا موقع ہے کہ برسراقتدار حکومت واضح سیاسی ڈھانچے اور ایک متحد منظم کمانڈ تلے پورے ملک پر حکمران ہے۔ مختلف النوع طبقوں کی طاقت کے الگ الگ جزیرے نہیں ہیں! حکمرانی میں شفافیت ملاحظہ ہو۔ عوام کو دھوکا دینے، دھیان بٹانے کا کوئی تصور نہیں ؎
نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

تبصرے بند ہیں.