عمِر رواں ……

86

ایسی ریاست جہاں مال وزر کے بدلے سیاسی وفادراری فروخت کرنا معیوب نہ سمجھا جاتا ہو، وہاں ساری حیاتی ایک جماعت سے وابستہ رہنا،ممبر اسمبلی بن کر اپنا دامن صاف رکھنا،اِس سیاسی ماحول میں جہاں کتاب بینی اور صاحب کتاب کا کلچر آباد نہ ہو بہت سی کتابیں تصنیف کرنا، مڈل کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود ایک منظم پلیٹ فارم سے ملک کی بڑی جامعہ کی سٹوڈنٹس یو نین کا صدر بننا صرف جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم ہی سے ممکن تھا، جس نے مصنف کی تربیت کی جس میں بڑا ہاتھ اِنکے والد گرامی کا مولانا گلزار احمد مظاہری کا بھی ہے جو سید مودوی کے قریبی رفقاء میں شمار ہوتے تھے۔
اِس قبیلہ کے ایک فرد ڈاکٹر فرید احمد پراچہ بھی ہیں، انھوں نے اپنی یاداشتوں پر مشتمل کتاب خود نوشت کے طور پر بعنوان”عمر رواں“ رقم کی ہے، اِنکی حیاتی کی یہ داستان ہے، مذکورہ کتاب جسے مصنف کارکن کی ڈائری کہتے ہیں وہ دراصل سیاسی تاریخ ہے جس کے وہ خود عینی شاہد ہیں،دریائے جہلم کے کنارے تاریخی قصبہ بھیرہ میں جنم والے مصنف نے نگر نگر گھوم کر اپنا مستقل مسکن اب لاہور کوبنایاہے۔
زمانہ طالب علمی کا تذکرہ یوں کیا کہ گورنمنٹ ہائی سکول سرگودھا کے ہیڈ ماسٹرچوہدری عطا محمد مرحوم طلباء کے لئے نماز ظہر کا باقاعدہ اہتمام فرماتے اور نماز پڑھنے والوں کوصبح اسمبلی میں ایک کتاب دیتے، بچپن کی ایک شرارت کو یاد کرتے ہیں کہ انکے عزیز کلاس فیلو کو لڑکی سے قلمی دوستی کا بڑا شوق تھا،اِنکے کزن کو شرارت سوجھی تو اس نے مصنف سے خطوط لکھوانے شروع کر دئے کمال یہ ہے دونوں طرف کے خط صنف کی لکھائی کو سامنے کر لکھے جاتے، مذکورہ دوست اس کو حقیقت سمجھتے رہے لڑکی سے ملنے ایک روز پہنچ بھی گئے لیکن سٹوری کا ڈراپ سین تب ہوا جب پڑوس سے بچہ تقریر لکھوانے ڈاکٹر پراچہ کی عدم موجودگی میں اِنکے گھر پہنچا والدہ محترمہ نے بچے کی مدد کے لئے انکا بیگ کھولا تو اس سے عشقیہ خطوط برآمد ہوئے،گھر کی جیوری نے شرراتی کزن کی شہادت پر مصنف کی جان بخشی۔
1965 کی جنگ بارے لکھا کہ گھر میں ایک مورچہ بنا رکھا تھا، شاہینوں کے شہر میں جب ہوائی حملہ ہوتا تو کھلے میدان میں نظارہ کرتے،موت کا خوف آہستہ آہستہ ختم ہوچکا، وہ زمانہ تھاجب فوجی کانوائے کو شہری دیدہ تر کے ساتھ رخصت کرتے،خواتین نے جب بچیوں کے جہیز دفاعی فنڈ
میں دئیے تو یوں لگا کہ ہم کسی اور قوم کے فرد ہیں،لیکن جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند ہمیں سانحہ اندلس اور بغداد کی طرح معلوم ہوتا ہے۔
پہلے ایوبی مارشل لاء کا ذکر یوں کیا کہ اس سے ملکی سطح پر خوف وہراس کی فضا پھیل گئی، سیاسی جماعتیں خلاف قانون قرار پائیں، ان دنوں جماعت اسلامی کا اجتماع عام منعقد ہونا تھا،ایوبی آمریت کے خلاف جماعت ہی واحد اپوزیشن تھی،وزراء جھوٹ پر مبنی بیانات دیتے، حکومتی دباؤ میں پریس جماعت کے خلاف استعمال ہوتا رہا، جب اجتماع عام منعقد ہوا تو سرکاری غنڈوں نے سبو تاژ کرنے کے لئے حملہ کر دیا، ایک شخص اللہ بخش شہید ہوا،اسکے باوجود جماعت نے تین دن اجتماع عام جاری رکھا۔
سقوط ڈھاکہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا،کہ ملک کے دونوں حصوں میں انتظامیہ نے کھل کر عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کی حمایت کی جماعت کے پولنگ ایجنٹس کو تو اسٹیشن میں داخل ہونے نہیں دیا، مسٹر بھٹو نے آرمی ایکشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا شکر ہے پاکستان بچ گیا،جیل میں جنرل رانی سے ملاقات کا لکھا کہ موصوفہ پورے دلائل اور واقعات کی بناء پر بھٹو کو سانحہ مشرقی پاکستان کا بڑاکردار سمجھتی ہیں،اور اس رات کا تذکرہ بھی کرتی ہیں جب لاڑکانہ میں رقص و سرور ناؤ نوش کا اہتمام تھا جس میں مجیب الرحمان بھی ان کے ساتھ شامل تھے، یہ رنگین رات مشرقی پاکستان کا فیصلہ کر رہی تھی۔
ضیاء الحق کے تیسرے آمرانہ دور پر لکھا کہ فوجی دور کی بعض یکساں صفات ہیں مثلاً فوجی حکمران خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں، انھیں یہ زعم ہوتا ہے کہ ملک انھوں نے ہی بچایا ہے،اِسکی سلامتی اِنکی ذات سے وابستہ ہے،طاقت اور ڈنڈے کے زور پر اَحکامات نافذ کرنا اِنکی سرشت میں شامل ہے،ضیاء بھی چند خوبیوں کے باوجودمذکورہ صفات سے متصف تھے، تاہم ڈاکٹر فرید احمد پراچہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اِن کے دور میں اسلامی جمعیت طلباء اور جماعت اسلامی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا،ضیاء الحق نے اُس وقت سٹوڈنٹ یونین پر پابندی عائد کی جب ملک بھر کے 80 فیصدتعلیمی اداروں کے یونین انتخاب میں جمعیت کامیاب ہو چکی تھی۔
جنرل مشرف کے عہد کے اعتبار سے ایک واقعہ یوں لکھا کہ قومی سلامتی بارے جدید نظریہ یہ ہے کہ صرف فوج کا کام نہیں۔فوج اور قوم کو مل کرتقاضے پورے کرنا ہیں،ضروری ہے کہ قوم کے نمائندوں کو قومی سلامتی کے اُمور سے آگاہ رکھا جائے، ورکشاپ کا اہتمام کیا جائے، مصنف نے بھی نیشنل ڈیفنس کالج میں ورکشاپ میں شرکت کی،انھیں علامتی طور پر وزیر اعظم بنا دیا گیا،اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور جنرل مشرف نے تقسیم اسناد کے لئے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، اِس موقع پرسوالات کی نشست ہوئی،اکبر بگٹی کی بابت کنرانی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مشرف نے کہا کہ میں جانتا ہوں وہ کہا ں ہے،اِس سے پہلے کہ وہ مجھے قتل کروا دے،میں اسکا قتل کروا دوں گا ڈاکٹر پراچہ رقم کرتے ہیں جنرل کے جواب سے ہال پر سناٹا چھا گیا،بعد میں ایسا ہی ہوا۔
وہ لکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے ملک کو متحد رکھنے کے لئے ہر طرح کی قربانی دی اور نقصان اٹھایا لیکن یہ سبق سیکھا کہ اپنے ملک میں فوجی آپریشن کی ہر حال میں مخالفت کرنی چاہئے، یہ مسائل حل نہیں کرتے بلکہ نئے اور گھمبیر مسائل کو جنم دیتے ہیں۔
مصنف نے اپنی کتاب میں دو معجزات کا تذکرہ کیا ہے کہ والد محترم مولانا گلزار احمد مظاہری نے علماء اکیڈمی قائم کی، وسعت کے لئے زمین درکار تھی منصورہ کے سامنے کھیتوں میں مسجد سے ملحقہ بوسیدہ عمارت ملی مگر یہ سانپوں کا مسکن تھی،مزدور کام کرنے سے اَنکاری تھے، موصوف فرماتے ہیں والد محترم نے اِس مقام پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ ہم یہاں تیرے قرآن،تیرے اقامت دین کا کام کرنا چاہتے ہیں اس مرکز کو حشرات الارض سے محفوظ فرما،اس دعا کے بعد لوگوں نے سانپوں عمارت سے نکل کر ویرانے میں جاتے دیکھا، دوسرا واقعہ رقم کرتے ہیں کہ 45 مجاہدین کے ساتھ جہاد افغانستان میں شریک تھے،دشمن کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، گرفتار ہونے کی بجائے شہادت قبول ہی نہیں مرغوب بھی تھی،حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ بچنا مشکل تھا،موت کی سرحد پر آخری نماز پڑھی، اِسی لمحہ جہازہمارے اوپر آیا تو سانس رک گئے،لیکن دشمن نے بم گرانے کی بجائے صندوق گر ائے اور واپس چلا گیا، صندوق کھولے تو اسلحہ،اور خوراک تھی،یہ غیبی امداد اور انسانی سمجھ سے ماوراء معجزہ تھا۔
امیر جماعت اسلامی محترم سراج الحق نے لکھا کہ ڈاکٹر فرید پراچہ زمانہ طالب علمی سے تحریک سے وابستہ ہوئے اور تمام عمر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا،کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ ہے اس سے قومی تاریخ کے خفیہ گوشے نمایاں ہوئے، محترم حافظ ادریس، امیر العظیم کی آراء کتاب کاحصہ ہیں۔

تبصرے بند ہیں.