پٹرولیم بحران پر ایف آئی اے 16 ماہ بعد جاگ گئی ، سرکاری افسروں سمیت 5 افراد گرفتار

86

 

اسلام آباد : پٹرولیم بحران پر کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو 16 ماہ بعد خیال آہی گیا ۔ جون 2020 کے پٹرولیم بحران پر پٹرولیم مافیا ،آئل مارکیٹنگ کمپنیز، اوگرا اور وزارت توانائی و پٹرولیم ڈویژن کے خلاف ایف آئی اے نے گھیرا تنگ کردیا۔ بحران میں ملوث سرکاری افسروں سمیت 5 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

 

ذرائع کے مطابق ایف آئی اےلاہورنے فوسل انرجی کے سی ای او ندیم بٹ ،اوگرا کےممبر گیس عامر نسیم ، ممبر آئل عبداللہ ملک اور منسٹری آف انرجی و پٹرولیم کے ڈی  جی آئل شفیع اللہ آفریدی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئل عمران ابڑو کو گرفتار کرلیا۔

 

ایف آئی اے کے مطابق اوگرا کے افسران نے غیر قانونی پیٹرولیم مارکیٹنگ لائسنس جاری کئے ۔ منسٹری آف انرجی و پٹرولیم ڈویژن کے افسران نے ناجائز پیٹرولیم امپورٹ کوٹہ جاری کیا ۔ پیٹرولیم مارکیٹنگ کمپنیز نے اوگرا کی اشیر باد سے منظور شدہ پیٹرول پمپس سے زیادہ غیر قانونی پیٹرول پمپس کا ملک بھر میں جال بچھا دیا۔

 

ملزمان کے خلاف باہمی ملی بھگت سے غیر قانونی پیٹرولیم مارکیٹنگ لائسنس، ناجائز پیٹرولیم امپورٹ کوٹہ اور غیر قانونی پیٹرولیم امپورٹس کی خریدوفروخت سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانےاور اس سے کمائے جانے والے اربوں روپے کے ناجائز دھن کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

تبصرے بند ہیں.