ایک پیج

147

222سے زائد صفحات پر مشتمل 1973 کا آئین ریاست کا کاروبار چلانے کے لیے آسانی اور عام فہم بنانے کے لیے ایک پیج پر مبنی ہو گیا۔ حکومت اور طاقتور اداروں کو ایک پیج پر لانے کے لیے جنرل حمید گل نے تحریک شروع کی اس سے پہلے اس ایک پیج پر وہ میاں نوازشریف کو ایجنسیوں کا فخر قرار دے چکے، آئی جے آئی تشکیل دے چکے۔ بعد ازاں ق لیگ کی تشکیل و افزائش بھی ہوئی، بہت سے ”درخشندہ“ کارنامے، تنظیمیں اور کام اس ایک پیج کی زینت بنتے رہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے سانحے کے بعد نئے پیج کی تیاری شروع کی گئی۔ جنرل پاشا سے جنرل ظہیر السلام، جنرل راحیل شریف سے موجودہ ایام اور پھر جنرل فیض حمید نے حب الوطنی کے تقاضے اور مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک پیج کو بہت سپورٹ کیا۔ ”عمران دے جلسے وچ نچنے نوں جی کردا“ سے لے کر ترکی، چین، سنگاپور، بادشاہت کے نظام ہائے مملکت اپنانے کی آزادی دی بالآخر آقا کریمﷺ کے غلامان کے جذبات کی قیمت لگا کر ”ریاست مدینہ“ مارکیٹ میں لے آئے جس پر مولانا اشرفی سے مولانا طارق جمیل تک نے گواہی دی تاکہ سند رہے۔
ایک پیج کی روداد نے ایک سیٹ والے کو عنان سلطنت تک کے سفر میں جو زاد راہ دیا سو دیا، اقتدار کے سنگھاسن پہ بیٹھنے کے بعد ہر ممکن ناممکن، جائز ناجائز مدد بھی کی۔ یہاں تک کہ اس سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے ظل سبحانی وزیر اعظم اگر سو بھی رہے ہوتے تو ان کو جاگتا ہوا ثابت کیا گیا۔ کالے چشمے میں آنکھیں جاگتی ہیں، سو رہی ہیں یا آشوب چشم ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ان کا اتنا خیال رکھا گیا کہ ان تک عوام کی چیخ و پکار کا بے ہنگم اور آسمان ہلا دینے والاکہرام، سیارے حرکت میں لے آنے والا شور بھی نہیں پہنچتا البتہ اظہار و بیان کی آزادی کا یہ عالم تھا گویایہ آزادی صرف ان وزیر اعظم، مشیروں اور وزراء تک محدود ہو کر رہ گئی ہو جیسے۔
اور کچھ ہو نہ ہو اس دور میں ایک پیج نے بہت شہرت پائی۔ 2013 اور 2014 کے دھرنے بعد میں 2017 سے پیج طاقتور فریم میں بند کر کے موجودہ وزیر اعظم صاحب کو ہی دے دیا گیا پھر اس پیج کی ایسی دھاک بٹھائی گئی کہ میڈیا گنگ، ماحول سناٹا بس چرچا تھا وزیر اعظم کی تقریروں کا اور شور تھا عوام کے نوحوں کا۔ ماضی میں اتنی سپورٹ کبھی کسی کو نہ ملی جتنی موجودہ حکومت کو مفاد عامہ کے تحت ملی مگر یہ مفاد عامہ قتل عامہ بنتا چلا گیا۔ ملک کے معتبر ادارے اپنی شہرت سے بدنامی کے سفر کی طرف گامزن ہوئے۔پارلیمنٹ بلڈوز کر کے قوانین آرڈیننس کے ذریعے بنائے گئے۔ سینٹ، قومی اسمبلی کوئی معرکہ سر کرنا ہو ایک پیج کا بھرم رکھنے والوں کی ذمہ داری ٹھہری۔ اب ان کے لیے مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے کہ اپنا اصل کام کرتے یا اقتدار کے نشے میں مست ٹولے کی بدمستیاں سنبھالتے۔ آج کی دنیا میں ممالک بارود نہیں انٹیلی جنس ترجیحات اور معاشیات کے ذریعے چلتے ہیں،
”روحانیت“ ذاتی شوق کی باتیں ہیں، ہر ادارے کی اپنی ساکھ اور طریقہ کار ہوتا ہے ریاستی عسکری ادارے میں ایک خودکار دفاعی نظام موجود ہے جب ملک اور اس ادارے کے اہداف پر حرف آنے لگے تو خودکار نظام اپنے آپ حرکت میں آ جایا کرتا ہے چاہے وہ دور مشرف کا دور ہو یہ ادارہ اپنی آبرو اور ملک کو درپیش مسائل و حالات سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔ اب سمجھا جانے لگا کہ اس پیج پر نسخہ لکھنے کے لیے کسی اور دوائی کا نام لکھنے کی جگہ ہی نہیں کوئی چوائس ہی نہیں تو قوم کو اگر اپنے دکھوں کا ازالہ نظر نہ آئے، تکلیفوں کا مداوا نہ ہو، دی گئی دوائیوں سے افاقہ نہ ہو تو تشویش کی لہر دوڑنا لازمی تھا۔ دوائی کی جگہ دم نے لے لی مگر پھر بھی افاقہ نہ ہوا۔ حکومت کا کام محض حکومت کرنا اور حکومت کی مخالفت کرنے والوں کی کردار کشی اور قلع قمع کرنا رہ جائے تو ریاستی کاروبار نہیں کہلاتا یہ ایک ذاتی معاملہ بن جاتا ہے اور اس طریقہ کار نے حکومت کو انڈرورلڈ کی حکومت بنا کر رکھ دیا۔ مہنگائی، بے روزگاری، مخالفین کی کردار کشی، احتساب کے نام پر انتقام نے سب کچھ ٹھپ کر دیا۔ ساری ریاستی مشینری بند ہو گئی بس ایک زبان یا چند زبانیں شامل واجے کی طرح اس کورس میں شامل ہوتی رہیں۔ کورس میں اس قدر جھوٹ بولے گئے کہ اب کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں، لوگ حکومتی جھوٹ سن سن کر تنگ آ گئے۔ ایک دن میڈیا بھی تنگ آ کر جھوٹ نشر کرنااور شائع کرنا چھوڑ دے گا۔
راستے میں بہت سی منزلیں، مراحل آئے مگر محبت کی شادی تھی کب تک گھر والوں سے ایک دوسرے کی کوتاہیوں، کجیوں کمیوں پر پردہ دالتے رہتے، گھر والے اگر وسیع النظر ہو کر دیکھیں تو شہر، صوبہ، ملک، معاشرہ، خطہ اور بالآخر کرہ ارض پر بسنے والے کہلاتے ہیں۔ اس ایک پیج کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت ور فریق نے بہت طعنے سنے، بہت قربانیاں دیں، بہت برداشت کیا مگر ایک پیج کو قائم رکھا۔ حتیٰ کہ تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم نے قاعدے کلیے کے مطابق آئی ایس پی آر کا اعلان کردہ نام بطور ڈی جی ادارہ نامزد کر دیا۔ جہاں 22 سالہ بندوبست ”جدوجہد“ ہو وہاں قوموں کی زندگی میں 20 پچیس دنوں کی اوقات ہی کیا ہے۔
حالانکہ ہماری بھارت سے جنگیں سولہ سترہ دن ہوئی ہیں، ملک دیوالیہ ہو، قوم اگلے دن زندہ رہنے کے لیے جینے کے اسباب تلاش کرتی پھرے۔ 20/25 دنوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سٹاک مارکیٹ، ڈالر ریٹ، پٹرول، بجلی نرخ، بے روزگاری، مہنگائی حتیٰ کہ انفرادی سے اجتماعی زندگی تک تہہ و بالا ہو جائے۔ 20/25 دنوں کی کوئی اوقات ہی نہیں، یہ جانے بغیر کہ اس رنگ بازی اور ڈرامے میں بہت نقصان ہو چکا۔ دراصل اس سارے دھندے میں اپنے خواص کو فائدہ پہنچایا اور قوم کا دیوالیہ نکال دیا۔اعتماد، امید اور امکان سے کھلواڑ کیا گیا۔ بپھرے ہوئے مظاہرین، زخمی ہوتے ہوئے مظاہرین و قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ملازمین ناقابل تلافی نقصان کی بھینٹ چڑھ گئے۔ حادثہ یہ ہوا کہ اس دوران زندگی میں پہلی بار شیخ رشید کرکٹ میچ نہ دیکھ پائے۔ اس سے بڑا نقصان کیا ہو سکتا ہے۔ اس کی تلافی ناممکن ہے۔ ملک کے طاقتور حلقوں نے تاریخی سپورٹ کی حتیٰ کہ اپنا امیج داؤ پر لگا دیا کہ اس ایک پیج جو آئین کے 222سے زائد صفحات کو مختصر کر کے صرف ایک پیج بنایا گیا۔ اگر اس ایک پیج کے بجائے آئین کے متعلقہ آرٹیکل کا راج ہوتا تو قوم کا سفر لمحہ لمحہ کر کے فنا کے گھاٹ نہ اترتا کہ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو بربادیوں کی داستانیں سناتے اور رقم کرتے ہوئے کئی دہائیاں گزر گئیں۔ پنجاب رینجرز کے سپرد 2014، 2017 میں کر دیا جاتا تو آج نوبت نہ آتی۔
مگر خوشخبری کی بات یہ ہے کہ حکومت اور طاقتور حلقے و ریاستی ادارے اب بھی ایک پیج پر ہیں مگر اب اس ایک پیج پر محبت کا افسانہ، عہد و پیمان، لو سٹوری ایک دوسرے کے لیے قربانی نہیں بلکہ ایک دوسرے کی قربانی لکھی جا چکی ہے۔ منور ظریف کو فلم کے ایک منظر میں گرفتار کرتے ہوئے پولیس کے مخصوص انداز میں تھانیدار کہتا ہے ”چل اوئے اگے لگ“۔ منور ظریف اس سے زیادہ رعب دار آواز میں کہتا ہے ”چل اوئے پچھے لگ“۔ یہی صورت حال موجودہ سمری کی ہے جو ایک تعیناتی کے لیے جاری ہوئی۔
پیج اب بھی ایک ہی ہے مگر نکاح نامہ نہیں طلاق نامہ ہے۔

تبصرے بند ہیں.