کرپشن کے نئے در

83

لوٹ ماراورکرپشن کی قبرپرفاتحہ پڑھ کراقتدارمیں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دورمیں لوٹ ماراورکرپشن کے ایسے ایسے نئے درکھول دیئے ہیں کہ جنہیں نیب،احتساب بیورواورانٹی کرپشن کیا ہمارے جیسے کمزورحافظے وضعیف یادداشت کے لوگ بھی اب برسوں تک کبھی بھول نہیں پائیں گے۔نئے پاکستان میں لوٹ ماراورکرپشن کے بننے والے ان نئے دروازوں میں جھانکنے سے پہلے آپ کوایک چھوٹاساواقعہ سناناضروری ہے۔یہ کئی سال پہلے کی بات ہے۔ہم گاؤں میں پیرخالدکے گھرمہمان تھے۔ہماری خاطرتواضع کیلئے پیرصاحب نے اپنے چھوٹے بھتیجے کوکچھ پیسے دیکردکان کی طرف بھیجا۔ہم گپ شپ میں مصروف تھے۔کافی ٹائم گزرانہ چھوٹوواپس آیا اور نہ ہی ہماری خاطرمدارت والاسامان آیا۔ پیرصاحب کوتشویش ہوئی توپتہ کرنے پرکسی سے معلوم ہوا کہ چھوٹوتوراستے میں کسی کے ساتھ بنٹے کھیلنے لگ گیاہے۔پیرصاحب نے بڑے بھتیجے کوچھوٹوکے پیچھے بھیج دیالیکن وہ بھی ایساغائب ہواکہ جیسے چھوٹونودوگیارہ ہوگیاتھا۔ بعدمیں ہمیں پتہ چلاکہ وہ موٹویعنی بڑابھی چھوٹے کے ساتھ ملکرراستے میں بنٹے کھیلنے لگ گیاتھا۔شائداسی لئے لوگ کہتے ہیں کہ خربوزہ خربوزے کودیکھ کررنگ پکڑتاہے۔اب آپ کہیں گے کہ اس واقعے کاتحریک انصاف کی حکومت،لوٹ ماراورکرپشن سے کیاتعلق۔؟ہم بتاتے ہیں کہ اس واقعے کاکیاتعلق ہے۔؟تحریک انصاف کے ان بھتیجوں کوبھی کپتان نے ملک سے لوٹ ماراورکرپشن ختم کرنے کے لئے بھیجاتھالیکن یہ بھی پیرصاحب کے اس بھتیجے کی طرح راستے میں دوسروں کے ساتھ ایسے بنٹے کھیلنے لگ گئے کہ انہیں کرپشن شرپشن والی کوئی بات ہی یادنہیں رہی۔ اسی لئے توسروے رپورٹوں کواب چیخناپڑرہاہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں کرپشن کی رفتارکم نہیں بلکہ مزیدتیز ہوئی ہے۔کپتان کی نیت اورایمانداری پرہمیں آج بھی شک نہیں لیکن ہم اس حقیقت کوبھی نہ جھٹلاسکتے ہیں اورنہ ہی اس سے نظریں چراسکتے ہیں کہ اسی ایماندار کپتان کی ایمانداری میں ہی اس ملک کے اندربے ایمانی کے ایک دونہیں کئی نئے باب کھلے ہیں۔کپتان کے کھلاڑی اورتحریک انصاف کے ہمنواچاہے کچھ بھی کہیں حق اورسچ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ڈھائی تین سال میں لوٹ ماراورکرپشن کے پرانے دروازے بندکرنے کے بجائے ملک میں آئندہ لوٹ ماراورکرپشن کے لئے نئے ایسے ایسے دروازے کھول دیئے ہیں کہ کرپشن وکمیشن کی کوکھ سے جنم لینے والے چور، ڈاکو اور لٹیرے اب آگے کئی سال تک جھولیاں پھیلا پھیلا کر انہیں دعائیں دیتے رہیں
گے۔آپ کواگریقین نہیں تواس مقصدکے لئے صرف دوچیزوں کوہی دیکھ لیں۔نمبرایک پناہ گاہیں ولنگرخانے اوردوئم صحت کارڈ۔حکومت کی جانب سے ان دونوں چیزوں یاپراجیکٹس کوغریب عوام کے ساتھ جوڑاگیاہے مگرافسوس یہی دو پراجیکٹس، منصوبے یاپروگرام آئندہ اس ملک میں خاندانی چوروں اورلٹیروں کے لئے کمائی کاایک ایساذریعہ بنیں گے کہ جس کودیکھ کرپھرکپتان کے یہ نادان کھلاڑی بھی کانوں کوہاتھ لگائے بغیرنہیں رہ سکیں گے۔جس ملک میں احساس پروگرام کے بارہ ہزارروپے پربھی پانچ سوسے ہزار روپے ایزی لوڈ مانگا جاتا ہو وہاں کیا گارنٹی۔؟ کہ صحت کارڈ اور لنگرخانوں کی دیگوں میں اپنے لئے چمچانہیں ماراجائے گا۔73سال سے جولوگ اس ملک کودونوں ہاتھوں سے ابھی تک لوٹتے چلے آرہے ہیں ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ان لنگرخانوں کو کنگال خانوں اورصحت کارڈکوتوغریبوں کے لئے موت کے کارڈبناناان کے بائیں ہاتھ کاکھیل ہے۔جن لوگوں سے غریبوں کی جیبیں محفوظ نہیں ان سے کھلی فضاؤں اورہواؤں میں قائم غریبوں کی پناہ گاہیں اورلنگرخانے کیسے محفوظ ہوں گی۔؟صحت کارڈپرتوہولڈہی ان چوروں،ڈاکوؤں اورلٹیروں کاہوگا۔جوچور،ڈاکواورلٹیرے پہلے ہی پرائیویٹ وسرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کے نام پرغریب عوام کی چمڑی ادھیڑنے میں ذرہ بھی کوئی بخل سے کام نہیں لے رہے وہ صحت کارڈکے معاملے میں اپنے ہاتھ کیسے ہولارکھیں گے۔۔؟ شائدکہ اس حکومت کے اوربھی ایسے بہت سے منصوبے،پروگرام اوراقدامات ہوں جس کے راستے سیدھاکرپشن کے دریا اور سمندرتک جاتے ہوں۔ بالفرض اور کوئی منصوبہ اور پروگرام ایسانہ بھی ہوتوپھربھی یہی دوپروگرام اورمنصوبے ایسے ہیں کہ جن کے ذریعے چور اور لٹیرے ہمیشہ خوشحال حدسے زیادہ خوشحال رہیں گے۔ لنگرخانوں،پناہ گاہوں اورصحت کارڈ سے پتہ نہیں غریبوں کوکچھ زیادہ فائدہ ملتاہے یانہیں لیکن ایک بات سوفیصدکنفرم ہے کہ لنگرخانوں میں مرغیوں کے گلے پر اور سرکاری وپرائیویٹ ہسپتالوں میں صحت کارڈکے مریضوں کی گردنوں پرچھریاں پھیرنے سے خاندانی وروایتی چوروڈاکوؤں کوبہت فائدہ ہوگا۔لنگرخانوں میں غرباء،مساکین،یتیموں اورغریبوں کیلئے پکنے والی مرغیوں کی بوٹیاں اورپناہ گاہوں میں بستروں کی تعدادآخرکس نے گننی ہیں۔۔؟لنگرخانوں میں پکنے والی دس مرغیوں کابل اگررجسٹرڈمیں 20ہزاردرج ہواورپناہ گاہوں کیلئے خریدے گئے چندبستروں کے اگرخزانے سے ہزاروں نہیں لاکھوں اڑائے گئے ہوں تواس میں مشکل،ناممکن،حیرت اور پریشانی کیا۔۔؟اس ملک میں ایماندار لوگ یہی تو کرتے ہیں۔دس عمرے اورپانچ حج کرنے والے حاجی صاحب اگردودھ میں پانی ڈالنے اورملاوٹ کرنے کاطریقہ نہیں بھولے ہیں تولنگرخانوں،پناہ گاہوں اورصحت کارڈوالے اپنی عادتیں کیسے بھول پائیں گے۔۔؟صحت مراکزیہ چاہے سرکاری ہوں یاپرائیویٹ یہاں ہمیشہ غریبوں کوکندچھری سے ذبح کیاگیاہے اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔اس شعبے سے وابستہ اکثرلوگوں کاانسانیت سے کچھ زیادہ لینادینانہیں ہوتا۔ان قصاب خانوں میں مرض یاچہرہ دیکھ کرعلاج نہیں کیا جاتا بلکہ یہاں پیسے دیکھ کرمجبوروں کو لوٹا جاتا ہے۔ مرض کی شدت بے شک سخت،مریض کی حالت چاہے حالت غیرہی کیوں نہ ہوپھربھی جب تک ڈاکٹرکے ہاتھ میں فیس کے پیسے تھمائے نہیں جاتے اس وقت تک ڈاکٹرمریض کوقریب لگنے نہیں دیتے۔اب آپ خوداندازہ لگائیں جہاں پیسے کے بغیرکوئی بات نہ ہوبلکہ جہاں اٹھنے بیٹھنے والوں کا کام ہی پیسے اینٹھنا ہو وہاں پھر صحت کارڈپرکسی غریب کاکیاعلاج ہوسکے گا۔۔؟صحت کارڈ پر غریبوں کے علاج معالجہ کے اخراجات کی جمع تفریق، حساب وکتاب کوسرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں کے مگرمچھوں کے ہاتھوں میں دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی بلے یابلی کو دودھ کی رکھوالی پر مامور کیا جائے۔ جن کاکام ہی صحت اور علاج معالجے کے نام پر غریبوں، مجبوروں اوربے زبانوں کو لوٹنا ہے اب وہ ہاتھ میں آئے صحت کارڈپرلو ٹ مارسے کیسے کسی سے پیچھے رہیں گے۔مستقبل قریب یابعیدمیں لنگرخانوں،پناہ گاہوں اورصحت سہولت کارڈکے نام پراس ملک میں کرپشن اورلوٹ مارکی جوتاریخ رقم ہوگی آپ یقین کریں لوگ پھریہ میگاسکینڈل ومیگا کرپشن کی کہانیاں بھی بھول جائیں گے۔کرپشن کے خاتمے کے لئے اقتدارمیں آنے والے حکمرانوں نے کرپشن کاقصہ تمام کرنے کے بجائے ملک میں کرپشن ولوٹ مارکی نئی نئی فیکٹریاں کھول کرقومی خزانے کامستقبل خطرے میں ڈال دیاہے لیکن افسوس ملک کوکرپشن سے پاک کرنے کیلئے آنے والے ایمانداروں کوذرہ بھی اس کااحساس نہیں۔ اقتدارکے نشے میں مدہوشی کی وجہ سے اب توان کی آنکھیں بندہیں لیکن جس دن مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کے رہنماؤں وعہدیداروں کی طرح ان کے پیچھے بھی نیب اورانٹی کرپشن والے دوڑیں گے اس دن ان کی یہ بند آنکھیں پھر کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ن لیگ اورپی پی کے توکچھ بے ایمان اندرگئے تھے ان کے تویہ سارے کے سارے ایماندار اندرجائیں گے۔ اب صرف حکومت ختم ہونے کاانتظارہے۔جس دن اقتدار کایہ سورج غروب ہوگیاپھردیکھناکرپشن کے یہ نئے باب کس طرح کھلتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.